سرکاری امور اور عوامی خدمات کی فراہمی کی ڈیجیٹائزیشن کی طرف خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور اہم اقدام. عوامی خدمات کی آن لائن فراہمی کے پلیٹ فارم ”دستک“ کے تحت موٹر وہیکل آٹو میشن سسٹم کے اجراء کے لئے وزیراعلٰی ہاوس میں تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی. سپیکر صوبائی اسمبلی، صوبائی کابینہ اراکین کے علاؤہ محکمہ ایکسائز کے حکام و اہلکاروں نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے موٹر وہیکل آٹو میشن سسٹم کا باقاعدہ اجراء کردیا۔ اس سسٹم کے ذریعے رجسٹریشن، فیس ادائیگی، ملکیت کی منتقلی، ٹیکسوں کی ادائیگی اور یونیورسل نمبر پلیٹس سمیت تمام امور ڈیجیٹائزڈ ہونگے۔
ابتدائی طور پر اس سسٹم کا اجراء تجرباتی طور پر پچھلے سال ستمبر میں کیا گیا تھا۔ جس کے تحت 13,229 گاڑیوں کی رجسٹریشن، 71,654 واوچرز اور 6,437 گاڑیوں کی ملکیت کے انتقالات کا عمل مکمل کیا گیا ہے، اس اقدام سے صوبائی حکومت کو 28 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن ہوئی ہے۔
اسی طرح سسٹم کے تحت اب تک مختلف قسم کی 13,738 گاڑیوں کو یونیورسل نمبر پلیٹس جاری کئے گئے ہیں۔ اب اس جدید سسٹم کو صوبہ بھر مکمل استعداد کے ساتھ نافذ کر دیا گیا ہے، یہ موٹر وہیکل سروسز کا ایک محفوظ اور مؤثر نظام ہے جس سے شہریوں کو خدمات اور سہولیات کے حصول میں آسانی ہوگی۔ گاڑیوں کی چوری اور غلط استعمال کا موثر تدارک بھی یقینی ہوگا۔ اس جدید سسٹم کی بدولت شہریوں کو گاڑی کی رجسٹریشن ، فیس کی ادائیگی اور یونیورسل نمبر پلیٹ کےلئے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ شہری گھر بیٹھے یہ تمام خدمات اور سہولیات آن لائن حاصل کر سکیں گے۔ نئے سسٹم کے ذریعے گاڑیوں سے متعلق جملہ امور میں شفافیت آئے گی اور صوبائی حکومت کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے اس موقع پر موٹر وہیکل رجسٹریشن سمارٹ کارڈ کا بھی اجراء کر دیا۔وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوش آئند ہے کہ ہم اس طرف بڑھ رہے ہیں جس طرف بہت پہلے بڑھنا چاہیے تھا، ڈیجیٹائزیشن کے وژن کے تحت اقدامات کی تکمیل پر ایکسائز حکام خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن سے سرکاری امور پر شفافیت یقینی ہوگی، کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور محکموں کی کارکردگی میں بہتری آئےگی، ہم نے حکومت میں آتے ہی تمام محکموں میں ڈیجیٹائزیشن کا فیصلہ کیا۔ ہم تمام سیکٹرز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیادہ سے استعمال پر کام کر رہے ہیں، ہم نے اپنے وسائل کا دانشمندانہ استعمال کر کے آمدن کو بڑھانا ہے۔ ہم نے شفافیت اور بہتر مینجمنٹ کے ذریعے اپنے ریونیو میں اضافہ کیا۔ ہم نے اپنی آمدن میں 49 فیصد اضافہ کیا ہے، موثر مانیٹرنگ کے ذریعے صحت کارڈ کی مد میں سالانہ 11 ارب روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ منشیات کے خلاف موثر کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں، عوام منشیات کے تدارک کے لیے ایکسائز اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں، منشیات کے مؤثر تدارک کے لیے مرکزی شاہراہوں پر مزید پوسٹیں قائم کی جائیں، مزید خواتین اہلکاروں کو بھرتی کیا جائے تاکہ چیکنگ میں آسانی ہو، منشیات کے خاتمے کے لیے جدید ٹیکنالوجی فراہم کریں گے تاکہ اس کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ عوام اپنے صوبے میں ہی گاڑیوں کی رجسٹریشن کرائیں ، یہ ہماری اپنی پہچان ہے، ملک ہمارا ہے اس کے لیے قربانیاں پہلے بھی دی ہیں اور آگے بھی دیں گے، امید ہے ہمیں اپنے پورے حقوق ملیں گے، اگر نہ ملے تو ہر فورم پر جائیں گے، ہم مل کر کام کریں گے تو کوئی ایسا چیلنج نہیں ہے جسے ہم حل نہ کر سکیں گے۔






