لیڈرز میڈیا نیٹ ورک کاماہانہ ایگزیکٹو ممبرز کا اجلاس زیر صدارت چئیرمین سید علی بخاری منعقد

رپورٹ ۔ فیصل مجیب شامی ۔مہر رؤف ۔

معاشرے میں بگاڑ کو سدھارنے کیلئے ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،سید علی بخاری

موبائل فون کی ایجاد نے ریڈیو کو ایک نئی زندگی بخشی ہے۔۔مصطفٰی کمال

لاہور، لیڈرز میڈیا نیٹ ورک کاماہانہ ایگزیکٹو ممبرزکے اجلاس کا انعقاد زیر صدارت چئیرمین سید علی بخاری ہوا۔ماہانہ اجلاس میں دو موضوعات (تنظیم کو مزید بہتر بنانے )اور( ریڈیو کے عالمی دن) کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے کیا گیا ۔

ریڈیوکے عالمی دن کی مناسبت سے چئیرمینسید علی بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ مواصلات کی نئی ٹیکنالوجیز کتنی ہی جدید ہو جائیں، ریڈیو مواصلات کے سب سے طاقتور ذرائع میں سے ایک ہے۔

سابق اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان مصطفٰی کمال نے کہا کہ موبائل فون کی ایجاد نے ریڈیو کو ایک نئی زندگی بخشی ہے اور موبائل سیٹ میں ایف ایم بینڈ کی سہولت نے ریڈیو کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دیا ہے۔

سنئیر نائب صدر نصیر الحق ہاشمی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں روز بروز جدت آ رہی ہے ا نیسویں صدی میں ایجاد ہونے والے اس بلاغ کی اہمیت آج بھی جوں کی توں ہے۔

اس سے قبل لیڈرز میڈیا کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی سیشن ترتیب دیا گیا اجلاس میں ایگزیکٹو ممبرزجناب سید علی بخاری، جناب عثمان غنی ،جناب نصیر الحق ہاشمی، جناب مصور زنجانی کے علاوہ جناب ڈاکٹر مصطفی کمال، جناب کاشف ادیب جاودانی، جناب علی عرفان جاوید، جناب اعجاز احمد اعجاز، جناب مسرور رفیع ،جناب علی عباس جناب نعیم احمد، جناب ندیم شہزاد،جناب یاسر مبین، محترمہ عائشہ بنت اکرام صاحبہ،جناب شہر یار مرزاصاحب شامل تھے۔

اس موقع پر سید علی بخاری نے تمام لیڈرز کی آمد پر انکا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کارکردگی کی بنا پر ہماری تنظیم کم وقت میں صحافتی وسماجی حلقوں میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اور جہاں ورکنگ زیادہ کی جاتی ہے وہاں مخالفت بھی ہوتی ہے اور تنقید کا بھی سامنا ہوتا ہے لیکنمعاشرے میں بگاڑ کو سدھارنے کیلئے ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پھر ہاوس اوپن کیا گیا۔

اس موقع پرمحترمہ عائشہ بنت اکرام نے اظہار خیال کیا اور تجویز دی کہ 2024 کی اہم تقریبات پر مشتمل ڈیجیٹل نیوز لیٹر کی شکل میں ریکارڈ کیا جانا چاہئے علاوہ اس کے انہوں نے یوتھ کو ورکنگ ایتھکس سکھانے انکی ترتیب کے لیے اپنی اسکلز اور خدمات پیش کیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جناب ندیم شہزاد کا کہنا تھا کہ تنظیم بکھرے ہوئے موتی کو یکجا کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے اور آج کا یہ اکٹھ اس کی مثال ہے۔ایک معزز ممبر نعیم احمد نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے تنظیم پر مشتمل وفد کی شکل میں ملاقاتوں کا سلسلہ رکھوا سکتے ہیں۔

جناب علی عرفان جاویدنے تنظیم کی کارکردگی پر بروشر لائے جانے کی ضرورت پر زور اور بتایا گیا کہ معاشرے میں بگاڑ کو سدھارنے کے کام کو لیڈرز میڈیا نیٹ ورک بخوبی سر انجام دے سکتا ہے ۔

جناب علی عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے تجاویز میں کہاکہ ریڈیو سمیت جتنے بھی اہم دن ہیں انہیں اجاگر کیا جائے اوراس ضمن میں سال میں 12 میٹنگز جس میں ایک ایشو پر کم از کم دو ماہرین کے ساتھ گفتگو کیے جانے کی تجویز بھی دی ۔علاوہ اس کے صحافت میں خواتین کے کردار کو کس طرح پیش کیا جانا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ آر ٹی ایل کے بارے میں بھی سیشن کیے جانے کی ضرورت پر زور میٹنگ میں ویب سائٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا

اس کے لیے جناب علی عباس نے اپنی خدمات پیش کیے جانے کی بات کی انہوں نے مزید کہا کہ میٹ دی لیڈرز کے طور پر پروگرامز ترتیب دیے جائیں۔

جناب اعجاز احمد اعجاز نے تنظیم میں ایجوکیشن ونگ کی ضرورت پر زور دیاجس میں اپنی خدمات پیش کیے جانے کی ارادہ کیا۔

جناب مسرور رفیع نے فنڈز کی کمی کی طرف نشاندہی کی اور نیٹ ورک کو مزید موثر بنانے کے لیے فنڈز کو بڑھانے پرتجویز دی کہ فنڈز کو بڑھانے کے لیے ممبران کی تعداد کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

جناب کاشف ادیب جاودانی نے میڈیا نیٹ ورک کی پرموشن کے حوالے سے ڈیجیٹل ٹی وی چینل کی ضرورت پر زور دیا گیا اس انٹرنل میٹنگ میں انہوں نے کلب کے ہیڈ آفس اور اس کے ساتھ ساتھ پوڈ کاسٹ کے لیے اسٹوڈیو کی بھی بات کی اس کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں سے ایم او یو سائن کرنے کی بھی بات ہوئی جس میں ممبرز کے لیے رعایتی علاج کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔

نیوز لیٹرز کے حوالے سے جنرل سیکرٹری جناب مصور زنجانی نے ذمہ داری قبول کی اور اسے کوارٹلی نیوز لیٹرز شروع کیے جانے کی تجویز دی گئی۔

بانی صدر عثمان غنی نے بتایا کہ ہم نے ایک لیڈرز میڈیا نیٹ ورک کے حوالے سے رجسٹریشن حاصل کر لی ہے۔ جبکہ دوسرا ویلفیئر کے حوالے سے ابھی قدم بڑھانا باقی ہے جیسے ہی وہ پائیہ تکمیل کو پہنچے گا تو ہم حلف برداری کی طرف جائیں گے اور جہاں فنڈز کی بات ہو رہی ہے اس کے بعد ہم یو این او لیول تک اس سلسلے میں اپروچ کر سکیں گے۔

تقریب کے آخر میں سنئیر صحافی ،تجزیہ نگار شہر یار مرزاکی 81ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔

جواب دیں

Back to top button