وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا رشکئی اسپیشل اکنامک زون کا دورہ،پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ کی ملاقات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے رشکئی اسپیشل اکنامک زون کا دورہ کیا ۔ رشکئی اکنامک زون کے دورے پر آئے پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات بھی ہوئی ۔ صوبائی حکومت اور چینی سفارتخانے کے حکام متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں مختلف شعبہ جات بشمول زراعت، توانائی ، مائنز اینڈ منرل میں سرمایہ کاری سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔چین اور خیبر پختونخوا کے مابین مختلف شعبہ جات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی سفیر کو خیبر پختونخوا میں سولر سسٹم اور معدنیات کی فنشنگ ویلیو ایڈیشن کے لیے صنعتی یونٹس لگانے کی دعوت دی۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مائنز اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں چینی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی اور سرمایہ کاروں کو بھرپور تعاون فراہم کرے گی، صوبائی حکومت صنعتوں کو مختلف مراعات سمیت سستی بجلی کی فراہمی پر کام کر رہی ہے۔

پن بجلی کے زیر تعمیر منصوبوں سے سال 2028 تک 800 میگا واٹ بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔ صنعتوں کو سستے نرخوں پر بجلی کی فراہمی کے لیے صوبائی ٹرانسمشن لائن بچھائی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کلین اینڈ گرین انرجی پر بھرپور کام کر رہی، ایک لاکھ تیس ہزار گھرانوں کو مفت اور رعائتی نرخوں و اقساط پر سولر سسٹم فراہمی کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، اسی طرح صوبے کی تمام سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ معدنی وسائل کا دانشمندانہ استعمال یقینی بنانے کے لیے خصوصی مائننگ کمپنی قائم کی گئی ہے ، صوبائی حکومت نے گزشتہ ایک سال میں اپنی آمدن میں 55 فیصد اضافہ کیا ہے۔ صحت کارڈ کے تحت سو فیصد آبادی کو مفت علاج کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، لائف انشورنس اسکیم کے اجراء پر بھی کام جاری ہے، صوبائی حکومت نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے 15 ارب روپے مالیت کے بلا سود قرضے فراہم کر رہی ہے۔ ہوم اسٹے ٹورازم کے فروغ لیے مزید 4 ارب روپے کے بلا سود قرضے دیے جائیں گے ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کو ماہانہ وظیفہ کی فراہمی کے لیے آج دو الگ الگ منصوبوں کا اجراء کیا جا رہا ہے، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سی آر بی سی اور سمال ڈیمز کی تعمیر کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ زراعت کے شعبے میں ماڈرن ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے ، صوبائی حکومت اس ضمن میں چینی مہارت سے استفادہ کرنے کی خواہش مند ہے۔

چین کے سفیر نے اس موقع پر مختلف شعبہ جات میں تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ

صوبائی آمدن میں اضافہ ، مستحق و متوسط طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عزم کو سراہتے ہیں، چین اور پاکستان کے مابین تعاون سے دوستانہ تعلقات کو مزید تقریب ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button