وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبے میں زرعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے جن میں زرعی مشینری کا استعمال (فارم مکینائزیشن) اور گندم و چاول کی فصلوں کے لیے زرعی اجناس پر سبسڈی شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے محکمہ زراعت کو ہدایت دی کہ وہ چھوٹے کاشتکاروں کے لیے ایک چار سالہ پیکیج تیار کرے۔مراد علی شاہ نے محکمہ زراعت، خوراک اور آبپاشی کو ہدایت دی کہ وہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، پانی کی دستیابی اور جدید کاشتکاری کے طریقوں سے متعلق آگاہ کریں۔ انہوں نے فصلوں کی منصوبہ بندی کے لیے پانی کی دستیابی کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ کاشتکاروں کو منافع بخش فصلیں اگانے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے یہ بات وزیراعلیٰ ہاؤس میں زراعت، خوراک اور آبپاشی کے محکموں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر زراعت محمد بخش مہر، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید، مشیر برائے خوراک جبار خان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایس ایم بی آر بقاء اللہ انڑ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری زراعت سہیل قریشی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ "فارم مکینائزیشن” کے تحت ایک سے 25 ایکڑ زمین رکھنے والے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے "لیزر ٹیکنالوجی سے زمین کی ہمواری” اور "دستی بوائی آلہ” جیسی مشینری متعارف کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی ہمواری (لیولنگ) کی سہولت ایسے کاشتکاروں کو کرائے پر فراہم کی جائے۔مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ گندم اور چاول کی فصلوں کے لیے بیج، کھاد اور جڑی بوٹی یا کیڑے مار ادویات پر سبسڈی دی جا سکتی ہے خاص طور پر ان کاشتکاروں کو جن کے پاس ایک سے 25 ایکڑ زمین ہے۔
لیزر لینڈ لیولنگ کے فوائد
مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین کو ہموار کرنے سے 20 سے 30 فیصد آبپاشی کا پانی بچایا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے پیداوار میں 6 سے 10 فیصد تک اضافہ ممکن ہے جبکہ آبپاشی کا وقت 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً کاشتکاروں کی آمدنی میں 20 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ طریقہ زمین کی سیم و تھور سے حفاظت اور زرعی اجناس کے متوازن استعمال میں بھی مدد دیتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے "دستی بوائی آلہ” کے حوالے سے بتایا کہ ایک تحقیق کے مطابق اس آلے کے استعمال سے بوائی کے وقت اور مزدوری میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آتی ہے۔ یہ آلہ 90 سے 95 فیصد تک بیج کے درست مقام اور درمیانی فاصلے کو یقینی بناتا ہے جس سے کاشتکاروں کی جسمانی مشقت میں 40 سے 50 فیصد تک کمی آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پلانٹر کے استعمال سے پیداوار میں 10 سے 20 فیصد اضافہ ممکن ہے جبکہ مٹی کی خرابی اور کٹاؤ میں 20 سے 30 فیصد کمی آتی ہے اور بوائی کے اخراجات میں 5 سے 25 فیصد تک کمی کی جا سکتی ہے۔
چھوٹے کاشتکاروں کی اراضی اور مشینری کی ضرورت
وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ سندھ میں ایک سے 25 ایکڑ تک اراضی رکھنے والے کاشتکاروں کی مجموعی زمین 35,52,980 ایکڑ ہے۔ ان تقریباً 35 لاکھ ایکڑ زمین کو ہموار کرنے کے لیے تین سالہ منصوبے میں 2,961 لیزر لیولرز درکار ہوں گے۔
مجموعی اثرات
وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی اجناس پر سبسڈی کے نتیجے میں گندم اور چاول کی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہے۔ بیج پر سبسڈی سے پیداوار میں 13 فیصد، ڈی اے پی اور یوریا پر سبسڈی سے 5 فیصد اور جڑی و کیڑے مار ادویات پر سبسڈی سے بھی 5 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں گندم کی کاشت 31 لاکھ ایکڑ جبکہ چاول کی کاشت 20 لاکھ ایکڑ رقبے پر ہوتی ہے۔ گندم کے لیے 38 لاکھ من اور چاول کے لیے 9.9 لاکھ من بیج درکار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مارکیٹ میں گندم کے 32 لاکھ من اور چاول کے 9 لاکھ 42 ہزار 577 من بیج دستیاب ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے بیج میں 6 لاکھ من اور چاول کے بیج میں 45 ہزار 423 من کی کمی کا سامنا ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ ہر ممکن طریقے سے تصدیق شدہ بیج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
محکموں میں مؤثر تعاون پر زور
مراد علی شاہ نے محکمہ زراعت، خوراک اور آبپاشی کو ہدایت دی کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، پانی کی دستیابی اور جدید زرعی طریقوں سے بروقت آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پانی کی دستیابی کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی فصلوں کی منصوبہ بندی بہتر طور پر کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاشتکاروں کو مارکیٹ ویلیو رکھنے والی فصلوں کا علم ہونا چاہیے تاکہ وہ منافع بخش فصلیں اگا سکیں۔






