سندھ کے پانی کے حقوق پر ڈاکہ قبول نہیں کیا جائے گا، مراد علی شاہ کی سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور،پرجوش خطاب

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں پرجوش خطاب کرتے ہوئے دریائے سندھ پر سندھ کے تاریخی حقوق کی توثیق کی اور سندھ کے پانی کو دیگر صوبوں کی طرف موڑنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ نے پانی کی تقسیم پر اپنا موقف مستقل طور پر برقرار رکھا ہے اور بغیر رضامندی کے دریائے سندھ کا پانی موڑنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے برصغیر میں دریائی نظام کی ترقی کے بارے میں تفصیلی تاریخی تناظر فراہم کیا جس میں زراعت کے لیے ان پانیوں پر سندھ کے دیرینہ انحصار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پنجاب کی زرخیز زمینوں سے پانی کو چولستان کی طرف موڑنے کی وجہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے دونوں صوبوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان دریاؤں پر سندھ کے لوگوں کا حق ہے۔ اور مزید کہا کہ ان دریاؤں کے کنارے صدیوں سے رہنے والوں کی اجازت کے بغیر پانی نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ عالمی سطح پر قبول شدہ اصول ہے۔ وزیراعلیٰ نے مختلف نہری منصوبوں پر سندھ کے سابقہ اعتراضات کو یاد کیا جس کے نتیجے میں 1945 کے سندھ-پنجاب واٹر ایکارڈ جیسے معاہدے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت پنجاب کی نہروں کو پانی کا ایک مقررہ حصہ مختص کیا گیا تھا جبکہ کسی بھی اضافی پانی کو پنجند سسٹم کے ذریعے سندھ کو بھیجنا تھا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سسٹم میں دستیاب پانی بڑھنے کے بجائے کم ہو رہا ہے جس سے سندھ کے حصے پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سندھ کی آبادی تاریخی طور پر پنجاب کی آبادی سے چار گنا زیادہ ہے، اس کے 80 فیصد شہریوں کا انحصار زراعت پر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سندھ کیوں خاموش رہے جب کہ نئے کینال پراجیکٹس سے پہلے سے کم ہوتی ہوئی پانی کی فراہمی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ پنجاب کی سب سے زیادہ زرخیز زمینوں سے پانی لے کر چولستان کی طرف موڑ دیا جائے گا اور ہمیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا !پنجاب اپنے سب سے زیادہ پیداواری علاقوں، جیسے چچ اور رچنا دوآب کو خشک ہونے دے گا تاکہ صحرا کو سیراب کیا جا سکے؟ مراد علی شاہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سندھ نے ہمیشہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے اسمبلی کو یاد دلایا کہ سندھ کی جانب سے ماضی کے اعتراضات کی وجہ سے متعدد کمیشنز کی تشکیل ہوئی اور بالآخر سندھ-پنجاب معاہدہ ہوا، جس میں پانی کی تقسیم کے لیے واضح رہنما اصول طے کیے گئے تھے۔ پانی کی کمی پر بڑھتے ہوئے خدشات کے ساتھ وزیراعلیٰ نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ تاریخی معاہدوں کی پاسداری کریں اور سندھ کے عوام کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔

جواب دیں

Back to top button