بلدیہ عظمٰی لاہور مالی بحران کا شکار، دو سال سے ادائیگیاں متاثر، سٹریٹ لائٹس اور پیچ ورک بند،ریونیو اہداف کے حصول میں ناکامی

بلدیہ عظمٰی لاہور شدید مالی بحران کا شکار ہوگئی ہے۔ایم سی ایل کی طرف سے دوسال کی ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں ممکن نہیں ہو سکی ہیں۔رواں مالی سال پیچ ورک شروع ہوا نہ ہی سٹریٹ لائٹس لگائی جا رہی ہیں۔لاہور ڈویلپمنٹ پلان جو ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں چل رہا ہے پر صرف توجہ مرکوز ہونے سے دیگر امور بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔پہلی مرتبہ ایم سی ایل سڑیٹ لائٹس اور پیچ ورک نہیں کر رہی ہے۔ایم سی ایل کے کچھ حصوں میں پیچ ورک کا جو کام ہوا ہے وہ بھی ایل ڈی اے کی طرف سے کیا گیا ہے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کو آمدن کے اہداف کے حصول میں بھی کروڑوں روپے خسارے کا سامنا ہے۔ان میں نقشہ فیس، پارکنگ فیس،سینی ٹیشن فیس واسا،سینی ٹیشن فیس ایل ڈبلیو ایم سی،ٹی ٹی آئی پی اور دیگر شامل ہیں۔لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام مرحلہ وار زونز میں کیا جا رہا ہے جس کے لئے الگ اکاؤنٹس ہیں جن میں فنڈز منتقل ہو رہے ہیں۔لاہور کے مختلف علاقوں میں ہزاروں سٹریٹ لائٹس بند پڑی ہیں جو ٹھیک نہیں ہو رہی ہیں نئی لگ نہیں رہیں۔پیچ ورک بند ہونے سے بڑی تعداد میں شہر کی سڑکوں پر کھڈوں سے جہاں ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے وہاں ٹریفک حادثات بھی رونما ہو رہے ہیں۔

غیر ضروری اسائنمنٹ پر بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے جس میں ہتھ ریڑھیوں کی خریداری اور دیگر شامل ہیں جبکہ عوامی سروسز جو اصل ذمہ داری ہے بلدیاتی اداروں کی اس کو ترجیح نہیں دی جا رہی ہے

جواب دیں

Back to top button