وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم اجرا پالیسی سے متعلق اجلاس،مارکیٹ میں گندم کی دستیابی اور استحکام کو یقینی بنانے کا فیصلہ

سندھ کے وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ نے گندم کے اجرا کی پالیسی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت گندم کی مارکیٹ میں دستیابی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ آٹے اور روٹی کی قیمتیں مستحکم رہیں۔یہ اجلاس وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیرِزراعت محمد بخش مہر، وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین واصف میمن، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک بچل راہپوٹو، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اصغر میمن اور دیگر افسران شریک تھے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت گندم کی مارکیٹ میں استحکام اور مناسب فراہمی کے لیے پرعزم ہے تاکہ آٹا اور روٹی کی قیمتوں میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت سندھ میں 12 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں جبکہ نجی شعبے کے پاس بھی مزید 6 لاکھ ٹن گندم موجود ہے۔ وزیرِخوراک مخدوم محبوب کے مطابق یہ ذخائر ساڑھے چار ماہ تک کے لیے کافی ہیں جس کے بعد نئی فصل مارکیٹ میں آجائے گی۔وزیراعلیٰ نے وزیرِخوراک کو ہدایت دی کہ گندم اجرا پالیسی تیار کرکے منظوری کے لیے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اسی ہفتے گندم اجرا پالیسی کو حتمی شکل دی جائے اور قیمت مقرر کی جائے۔وزیرِخوراک مخدوم محبوب نے اجلاس کو بتایا کہ معمول کے مطابق ہر ماہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم مارکیٹ میں جاری کی جاتی ہے۔ نئی پالیسی کے لیے وہ اپنی تجاویز وزیرِاعلیٰ کو منظوری کے لیے پیش کریں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت 25 ایکڑ یا اس سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے کاشتکاروں کو ایک بوری ڈی اے پی اور دو بوری یوریا کھاد فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں گندم کی سپورٹ پرائس مقرر کرنا چاہتا ہوں تاکہ بہتر فصل کو یقینی بنایا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button