پنجاب میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اوورسیلنگ کرنیوالوں کیخلاف شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ،لاہور 400 منظور شدہ، 200 غیر قانونی سکیمیں،رپورٹ

پنجاب میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اوورسیلنگ کرنیوالوں کیخلاف شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے،وزیر ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بلال یاسین کی زیر صدارت پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں بارے اجلاس ہوا، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب بھی ہمراہ تھے۔

ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری و دیگر امور بارے تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ لاہور میں منظور شدہ ہاؤسنگ کالونیوں کی تعداد 400 سے زائد،70 سے زائد نئی درخواستیں موصول جبکہ عرصہ دراز سے آباد غیر قانونی سکیموں کی تعداد 200 کے قریب ہے،وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی منظوری کیلئے ون ونڈو آپریشن بنانے اور آئی ٹی بیسڈ ریفارمز کی ہدایات جاری کیں، بعد ازاں وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین نے بورڈ آف ریونیو میں سابق وفاقی وزیر و پیٹرن انچیف ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) گوہر اعجاز سمیت دیگر اراکین سے ملاقات کی،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نبیل جاوید،سیکرٹری ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) نارتھ ریجن ایس ایم نبیل اور دیگر ممبران بھی شریک تھے، پنجاب میں اوور سیلنگ کرنیوالی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کیخلاف اقدامات بارے مجوزہ حکومتی اقدامات بارے تبادلہ خیال کیا گیا،ڈویلپمنٹ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز سے مل کر پرائیویٹ سکیموں میں اوورسیلنگ کی روک تھام بارے ٹھوس میکانزم جلد بنانے کی ہدایت کی، صوبائی وزیر نے ہاؤسنگ اسکیموں کی رجسٹریشن کیلئے غیر ضروری این او سیز ختم کیے جائیں، صوبہ بھر میں سوسائٹیوں کی ریگولیشن و منظوری کیلئے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے سسٹم سے استفادہ کیا جائے گا، منظور شدہ اراضی سے زائد پلاٹس فروخت کرنیوالوں کیخلاف بھرپور کارروائیاں کی جائیں گی، بلال یاسین نے واضح کیا کہ غریب شہریوں سے لاکھوں روپے بٹورنے اور ڈویلپمنٹ چارجز کے نام پر لوٹنے والوں کی نشان دہی کی جائے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف غریب کا ایک پیسہ بھی ضائع ہونے پر سخت نالاں ہیں، پرائیویٹ سکیموں میں اوورسیلنگ روکنے اور عام شہری سے فراڈ اور دھوکہ دہی پیسے لینے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، اجلاس میں ڈی جی ایل ڈی اے، ڈی جی پیلرا، نمائندہ ہاؤسنگ، ریونیو اور ایل ڈی اے کے افسران بھی شریک تھے۔

جواب دیں

Back to top button