اجلاس میں نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے ڈی آئی خان ڈویژن کے مجوزہ منصوبوں پر غوروخوص کیا گیا۔ ڈی آئی خان ڈویژن کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، متعلقہ ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں مذکورہ ڈویژن کے چاروں اضلاع میں رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔متعلقہ حکام کی طرف سے اجلاس کے شرکاء کو مختلف محکموں کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ اگلے بجٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو پہلی ترجیح دی جائے گی، ترقیاتی فنڈ کا ذیادہ حصہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے لئے مختص کیا جائے گا۔جن ترقیاتی منصوبوں پر 80 فیصد یا اس سے زیادہ کام ہوا ہو انہیں اگلے سال مکمل کیا جائے گا۔عوامی ضرورت کی بنیاد پر اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بڑے بڑے منصوبے شامل کئے جائیں گے۔ ہم نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 13 سالوں کا تھرو فارورڈ کم کرکے سات سال پر لے آئے ہیں۔ اگلے سال کے دوران تھرو فارورڈ کو مزید کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ رواں سال کے دوران ساڑھے پانچ سو ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی گئیں جو صوبے کی تاریخ میں کھبی نہیں ہوا۔ اگلے مالی سال کے دوران چھ سو سے زائد ترقیاتی اسکیموں کو مکمل کیا جائے گا۔ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں، اس وقت ہمارے خزانے کی صورتحال سب سے اچھی ہے۔ اس وقت ہمارے انڈومنٹ فنڈ میں 150 ارب روپے کا فنڈ محفوظ پڑا ہے۔منتخب عوامی نمائندے اگلے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے ایسے منصوبے تجویز کریں جن سے آبادی کی بڑی تعداد مستفید ہوسکے۔ صحت اور تعلیم کے شعبے ہمارے ترجیحی شعبے ہیں، اگلے سال ان شعبوں پر مزید سرمایہ کاری کریں گے۔جہاں ضرورت پڑے کرائے کی عمارتوں میں سکولز اور کالجز کھولے جائیں گے۔ پہلے سے قائم مراکز صحت میں سہولیات کی ہمہ وقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ہم انفراسٹرکچرز سے زیادہ سہولیات اور خدمات کی فراہمی کو ترجیح دے رہے ہیں






