"دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی”ہمدرد شوریٰ پاکستان *سید علی بخاری*

ہمدرد شوریٰ لاہور کا اجلاس اسپیکر جسٹس ناصرہ اقبال کی زیر صدارت منعقد کیا گیا اجلاس کےآغاز میں قیوم نظامی اور بعد ازاں ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے اسپیکر کے فرائض انجام دیے ائیر وائس مارشل ریٹائرڈ انور محمود خان، برگیڈیئر ریٹائرڈ طارق خلیل اور سید محمد حسن نے بطور خاص شرکت کی جبکہ اراکین کرام میں جسٹس ناصرہ اقبال، قیوم نظامی، ڈاکٹر میاں محمد اکرم، کے علاوہ احمد اویس، پروفیسر راشد حمید کلیامی، رانا امیر احمد خان، پروفیسرنصیر اے چوہدری، شاہد علی خان، شریک ہوئے ونگ کمانڈر ظفر اقبال، سکوارڈن لیڈر چوہدری صابر حسین، ڈاکٹر پروین خان، رضا ریاض صاحبہ، ثمن عروج، زرقا نسیم غالب، ڈاکٹر کنول فیروز، ندیم شہزاد علی، انجینیئر محمد آصف، ثروت رشید، قاری خالد محمود، اصغر علی کھوکھر، ایم آر شاہد، انوار قمر، توفیق سیفی نے بطور مبصرین شرکت کی ہمدرد پاکستان لاہورکے سید علی بخاری نے بحثیت سیکرٹری شوریٰ ہمدرد لاہور کی نمائندگی کی، قاری خالد محمود نے اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام مجید و فرقان حمید سے کیا اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شکل میں اللہ تعالی نے ایک ایسی نعمت عطا کی ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے پاکستان کے خلاف اندرونی و بیرونی سازشوں کے باوجود ہمارا ایمان، اتحاد اور قربانی کا جذبہ ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد جس اعتماد، یقین اور حوصلے کے ساتھ دشمنوں کو خبردار کیا تھا، وہ آج بھی ہماری رہنمائی کے لیے مشعل راہ ہے۔ اُن کے تاریخی الفاظ ’’There is no power on earth that can undo Pakistan‘‘ آج بھی ہمارے جذبہ ایمانی کو جلا بخشتے ہیں

فاضل اراکین نے موضوع کا تفصیلی جائزہ لیا ان کی بحث اور تبادلہ خیال سے مندرجہ ذیل نکات مرتب ہوئے ہیں۔

ہمدرد شوریٰ افواج پاکستان کے عزم حوصلہ جرأٖٕت مندی اور حال ہی میں 10 مئی کو دشمن کا منہ توڑنے کے جذبے کی تحسین کرتے ہیں کہ افواج پاکستان نے چند گھنٹوں کے اندر اندر دشمن کو شکست فاشی سے دوچار کیا اس کے غرور کو خاک میں ملایا اور دنیا بھر میں اس کو اور اس کے اسلحہ فراہم کرنے والوں کو رسوا کیا ۔ ہمدرد شوریٰ دوران جنگ شہید ہونے والے فوجی بھائیوں بیٹوں اور سویلین شہداء کی بلندی درجات اور ان کے لواحقین کے لیے صبر و جمیل کی دعا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے زخمی بھائیوں کی صحت یابی اور غازیوں کے لیے بھی دعا گو ہے۔ بھارت اور مودی جیسا شاطر دشمن اپنے سیاسی مفادات اور مسلم دشمنی میں کسی وقت بھی پہلگام یا پلوامہ جیسا کوئی بھی ڈرامہ رچا سکتا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر پھر کوئی ناپاک قدم اٹھا سکتا ہے یقیناً ہماری بہادر افواج اور ہمارے ادارے اس حوالے سے جوابی کاروائی کے لیے بھرپور تیاری اور ہر قسم کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم بحیثیت ایک قوم دشمن کے اقدام سے آگے بڑھ کر ہمیں مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور اس کی حفاظت کی بھی بھرپور منصوبہ بندی اور دشمن کی مکارانہ چال پر کاری ضرب کی تیاری کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ افواج پاکستان کے پیچھے عوامی حمایت اور عوامی قوت ہے افواج کو اس سے تقویت ملتی ہے، وطن عزیز میں چند شر پسند عناصر مالی اورگروہی مقاصد کے لیے عوام اور افواج میں فاصلہ پیدا کرنے کے درپہ ہیں اس کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اور پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور افواج پاکستان میں قربتیں پیدا ہوں اور عوام کا اعتماد مزید بڑھے۔پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے قائد اعظم محمد علی جناح ایک جرأت مند اور اصول پسند انسان تھے جن کی مثال آج ہمارے سامنے ہے انہوں نے جس طرح اپنے خلاف متحرک تنظیموں اور شاطر ذہانتوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے حالات کے مطابق فیصلے لیے اسی طرح ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کی خاطر سادگی کو اپناتے ہوئےکوئی واضع سمت اختیار کرنا چاہیے۔ ہم نے اپنے ویلیو سسٹم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اگر دیکھا جائے تو بڑے بڑے نام گورنمنٹ کے سکولوں میں پڑھ کر سامنے آئے نہ جانے اب وہ کون سی احساس محرومیاں ہیں جو ہمیں ہمارےگورنمنٹ کے سکولوں سے دور رکھے ہوئے ہیں، اگر ہم نے اپنی اساس کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اسی انداز سے واپس لانا ہوگا اور نسل نو میں نظریہ پاکستان کو روشناس کرانے کے لیے اپنے سلیبس میں اصلاحات کیے جانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو ہمیں اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ خود اپنے آپ سے ہے اور وہ خطرہ ہے اقرباء پروری میرٹ کی خلاف ورزیوں کا جہاں جہاں میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئیں وہاں وہاں خسارہ ہوا اور جہاں رائٹ مین فار دی رائٹ جاب کا سلسلہ عمل میں لایا گیا وہاں ہمیں کامیابیاں نصیب ہوئیں قائد اعظم کی مثال ہمارے سامنے ہے اسی طرح اگر ہم ایئر مارشل نور خان کی مثال دیکھیں تو انہیں جہاں موقع ملا کھیل کے میدان ہوں یا پھر پی آئی اے انہوں نے عملی طور کر کے دکھایا اور انکی سربراہی میں کامیابیوں نے فضاؤں کو چھوا لہذا میرٹ پر بھرتیاں ہی پاکستان کا روشن مستقبل ہیں۔ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کےضمن میں نفرتوں کے خاتمے اور اس کے لیے اقدامات اٹھائے جانے کے لیے آئندہ ملک میں شفاف اور بروقت انتخابات اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی کا عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔وطن عزیز کی خود مختاری اوراس کی بلندی کے لیے بین الاقوامی قوتوں اور مالیاتی اداروں پر انحصار کا خاتمہ اور خود انحصاری پر مشتمل پالیسیوں کی تشکیل اور اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

بین الاقوامی تعلقات میں یکطرفہ جھکاؤ کی بجائے روس چین ایران افغانستان وسط ایشیا کے ممالک اور اس کے علاوہ جرمنی جاپان اسلامی ممالک کے ساتھ بھی بہتر تعلقات استوار کرنا پاکستان کے استحکام اور ترقی کا باعث ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button