ے خلاف تشدد (انگریزی: Violence against women) میں وہ اعمال شامل ہیں جو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف کیے جاتے ہیں۔ ایسے تشدد کو اکثر نفرت انگیز جرم کی قسم سمجھی جاتی ہے،[1] جو خاص طور پر عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف ہوتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ ان کی جنس مونث ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کی لمبی تاریخ ہے، ہر زمانے میں تشدد میں اضافہ و کمی دیکھی گئی حتی کہ آج تک خواتین پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں، کبھی گھریلو تشدد کی شکل میں تو کبھی جنسی تشدد کی صورت میں
آج خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر افسوس ہے کہ چھوٹی بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایسے درندوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی یقینی بنا ئ جاے
خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جنسی زیادتی کے کیسز سب سے زیادہ پنجاب میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ملک بھر میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنائے جانے سمیت خواتین کے قتل، اغوا سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق آبرو ریزی کے کیسز میں پنجاب سر فہرست رہا۔ ملک بھر میں 7,010 کیسز میں سے 6,624 کیسز پنجاب میں رونما ہوئے۔
اسی طرح سندھ میں خواتین کے اغوا کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ ہوئے،جن کی تعداد 1,666 رہی۔ غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خواتین کےرپورٹ کیے گئے کیسز میں سندھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے 258 واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے تقریباً نصف ہیں۔سموسے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے متاثرہ خواتین اور ان کے لواحقین کو تحفظ ،سرپرستی اور یقینی انصاف فراہم کرکے سنگین نوعیت کے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی یہ رپورٹ صوبائی پولیس محکموں میں درج درخواستوں سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار پر مشتمل ہے۔ جو 2023 کے دوران پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ ہونے والے جی بی وی کیسز کا تجزیہ کرتی ہے۔ اگرچہ صوبائی پولیس کی جانب سے رپورٹ کیے گئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مزید ہزاروں واقعات کے غیر دستاویزی ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں عصمت دری، اغوا اور غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کے اعداد و شمار پریشان کن ہیں۔ آبرو ریزی کے کیسز میں پنجاب سر فہرست رہا، ملک بھر میں 7,010 کیسز میں سے 6,624 کیسز پنجاب میں رونما ہوئے،جس کا شرح تناسب 94.5 فیصد رہا،جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں عصمت دری کے زیادہ تر واقعات پنجاب میں رونما ہوئے۔ دوسری جانب سندھ میں 188، خیبر پختونخوا میں 187، اور بلوچستان میں عصمت دری کے11 واقعات رپورٹ ہوئے
خواتین کے اغوا کیسز سب سے زیادہ سندھ میں رپورٹ ہوئے،جہاں 1,666 خواتین کو اغوا کیا گیا جو کہ ملک بھر میں ہونے والے کل اغوا کا 56.4 فیصد ہے۔جب کہ پنجاب میں 562 کیسز، بلوچستان میں 163 اور خیبرپختونخوا میں 36 کیسز رپورٹ سندھ میں غیرت کے نام پر قتل خواتین کے عدم تحفظ کے شدید فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ صوبے میں 258 واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے تقریباً نصف ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 129، پنجاب میں 120 اور بلوچستان میں 26 کیسز رپورٹ ہوئے۔
کہ صوبوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں وسیع تفاوت اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ سندھ، خیبر پختونخوا یا بلوچستان جیسے علاقوں میں خواتین کے خلاف تشدد کم پایا جاتا ہے بلکہ یہ سماجی بدنامی، خوف، اور خاندان والوں کی عدم سرپرستی کی بنا پر رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی نشاندہی کرتا ہے
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان حساس نوعیت کے کیسز کو سنجیدگی سے لیا جائے،جس کے لیے پولیس کو خصوصی تربیت دی جائے،بروقت مقدمات کا اندراج کیا جائے اور صاف و شفاف محکمانہ کارروائی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اس میں مختلف مکاتب فکر سے وابستہ افراد کو متحرک ہونا چاہیے جب کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں میں رونما ہونے والے کیسز ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی روک تھام کے لیے ایک منظم نظام کی ضرورت ہے،تاکہ متاثرہ خواتین کے لواحقین قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بنا کسی خوف و ڈر کے انصاف کے حصول کے لیے رابطے کر سکیں۔
ہم صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق مقدمات کے اندراج میں اضافے پر صوبائی پولیس کی تعریف کرتے ہیں لیکن اس بات پر تشویش کا اظہار بھی کرتے ہیں ہزاروں مقدمات اب بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو ان مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ضرورت ہے۔ اعداد و شمار کی شفافیت کو بہتر بنانے کی اہمیت پر مزید زور دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ قابل رسائی اعدادوشمار رپورٹ شدہ اور غیر رپورٹ شدہ کیسز کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد کرے گا اور قانون بنانے والے اداروں کو فیصلے کرنے میں مدد دے گا
خواتین سے زیادتی کے کیسز افسوسناک ہیں، اسی طرح غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی آگاہی کیلئے بھی کام کر رہی ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا سے عوام خصوصاََ خواتین کو آگاہی دی جا رہی ہے۔ اب شادی شدہ خاتون میں اعتماد جبکہ خاوند میں ڈر پیدا ہوا ہے تشدد کرنے پر سزا ملے گی اور کوئی رعایت نہیں برتی
25نومبر کو نہ صرف دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے بلکہ اسی حوالے سے 16 روزہ عالمی آگاہی مہم کا آغاز بھی کیا جاتا ہے۔ ۔ 16 روزہ مہم کے دوران نہ صرف سال بھر میں کی حکومت اور اداروں کی کارکردگی اور اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کے باعث نئے چیلنجز سامنے آرہے ہیں۔
نئے دور کے ساتھ نئے جرائم جنم لے رہے ہیں جن سے نمٹنے کیلئے بڑے اقدامات کرنا ہونگے۔ گلوبل جینڈ گیپ انڈیکس رپورٹ 2023ء کے مطابق خواتین معاشی شمولیت کے حوالے سے پاکستان، 146 ممالک میں سے 145ویں نمبر پرہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے 149، صحت اور بقاء کے حوالے سے 132 جبکہ سیاسی شمولیت کے حوالے سے 112 ویں نمبر پر ہیں۔ افسوس ہے کہ ہم دنیا میں آخری نمبروں پر ہیں۔
خواتین پر گھریلو تشدد کے اثرات پورے خاندان پر پڑتے ہیں
پاکستان میں خواتین کی ایک بڑتی تعداد گھریلو تشدد کا شکار ہے۔خواتین پرتشدد معمول کی بات ہے بہت ساری خواتین اس لئے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتیں کہ لوگ کیا کہیں گے ۔گھریلو تشدد جتنا حساس مسئلہ ہے اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اس لئے ہے کیونکہ سوسائٹی اسے اس طرح سے اسے جرم تصور نہیں کرتی جس طرح سے کیا جانا چاہیے ۔ بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد کی وجہ ہی قانون اور اس پر عمل درآمد کا جھکائو مردوں کی طرف ہونا،سماجی دبائو کے ذریعے عورتوں کو خاموش کرانا،عورتوں کا قانون سے بے خبر ہونا اور مجموعی طور پر تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کے متعلق معاشرے اور ریاستی اداروں کا غیر ہمدردانہ رویہ ہے۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو خودمختاری ملی تو قانون سازی کا اختیار بھی ان کے پاس آیا اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے صوبوں نے اپنے لئے قانون سازی کی بھی کوشش کی ،ایسی ہی ایک کوشش پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کی طرف سے گھریلو تشدد کا بل پاس کروا کر قانون بنانا تھا لیکن افسوس کہ تینوں صوبوں نے یہ قانون تو بنا لیا لیکن عملی نفاز ابھی تک زیرو ہے ۔
۔ خواتین پر مظالم کا اثر ان کے بچوں پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی ڈر اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 47 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ تشدد صرف بیویوں پر ہی ہو رہا ہو‘ اس میں مائیں‘ بہنیں اور بیٹیاں بھی شامل ہیں۔
گھریلو تشدد کا سدباب کرنا ازحد ضروری ہے۔ خواتین پہلے تھپڑ پر ہی قانونی مدد لیں یا پھر ساری زندگی مار کھانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ معاشرے کے ہر فرد کو مل کر خواتین کو تحفظ دینا ہو گا۔ سب مل کر گھریلو تشدد کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کو روکیں۔ اگر کوئی خاتون ہمت کرکے اپنی داستانِ غم بیان کرے تو اسی پر سوال اٹھانے کے بجائے اس کی مدد کریں تاکہ گھریلو تشدد کے سلسلے کو روکا جا سکے۔جب تک ریاست گھریلو تشدد کے واقعات میں مدعی نہیں بنے گی‘ یہ معاملات ایسے ہی چلتے رہیں گے۔ گھر ایک جائے پناہ ہے‘ اگر عورت اس جائے پناہ میں بھی محفوظ نہیں تو اور کہاں ہو گی۔ خاتون پیار‘ محبت اور تحفظ کی طالب ہے اور اسے یہ سب فراہم کرنا اس کے اہلِ خانہ کی ذمہ داری ہے
سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کی حالت اتنی بری کیوں؟ کیا ان کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہو رہے ؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جو کام ہو رہا ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے، ابھی بہت سارا کام کرنا ہے۔ اگر ہم ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں بہتری چاہتے ہیں تو صنفی مساوات کو فروغ دینا اور خواتین کے استحصال کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ کام کی جگہ پر ہراسانی کے حوالے سے موجود قانون کے مطابق تمام سرکاری و نجی اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹیوں کا قیام اور ضابطہ اخلاق آویزاں کرنا لازمی ہے۔ پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کی 2023ء میںشائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 31 فیصد ضلعی دفاتر میں ضابطہ اخلاق آویزاں ہے اور 34 فیصد دفاتر میں ہراسمنٹ کمیٹیاں موجود ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ برس کی نسبت خواتین پر تشدد میں 89 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
2023ء میں پنجاب میں خواتین سے زیادتی کے 6 ہزار624، اغواء کے 562 اور تشدد کے 1201 کیسز رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ غیرت کے نام پر سال میں 120 خواتین کو قتل کر دیا گیا، روزانہ کی بنیاد پر 25سے زائد خواتین تشدد کا شکار ہو رہی ہیں، زیادتی کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔ خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ اب لوگوں کو آگاہی ملی ہے اور کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ ابھی بھی ایک خاصی تعداد ہے جو شکایت درج نہیں کرواتی جس کی مختلف وجوہات ہیں اس عالمی دن کے موقع پر ہمارے مطابات ہیں کہ خواتین پر تشدد اور دیگر جرائم کے حوالے سے جو قوانین موجود ہیں ان پر موثر عملدرآمد کیا جائے۔ ، تشدد کا شکار خواتین کی بحالی کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ تمام اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹیوں کا قیام یقینی بنایا جائے اور ضابطہ اخلاق آویزاں کیا جائے۔
پنجاب میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 16 برس ہے، اسے 18 برس کیا جائے۔ خواتین کے ساتھ غیر مساوی سلوک اور استحصال کا خاتمہ کیا جائے۔ ملازمت پیشہ خواتین کے بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ڈے کیئر سینٹرز بنائے جائیں۔ شادی میں جہیز کی رسم کا خاتمہ کیا جائے اور وراثت میں خواتین کا حق یقینی بنایا جائے۔ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں، ان کی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور تحفظ سمیت تمام بنیادی انسانی حقوق یقینی بنائے جائیں





