پشاور(بلدیات ٹائمز) دستکاری سکولز مانسہرہ اور ہری پور کی لیڈی انسٹرکٹرز نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی سے پشاور میں ملاقات کی اور حکومت کی طرف سے حالیہ سکولز کی بندش کے احکام زیر غور لائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ بلدیات خیبرپختونخوا کے احکام مجریہ 12 مئی 2025 کے تحت صوبہ بھر کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے 82 دستکاری سکولز جو علاقہ کی بچیوں کو بلا معاوضہ سلائی کڑھائی ، ایمبرائیڈری ، نٹنگ وغیرہ کا کام سکھاتے تھے کو بند کرنے کے احکام صادر کئے جس سے صوبہ بھر کے سکولز/سنٹرز سے وابستہ 337 انسٹرکٹرز/ٹیچرز متاثر ھوئی ھیں۔ جن میں سے ضلع مانسہرہ اور ہری پور کی متاثر خواتین اساتذہ نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم خان سے پشاور میں ملاقات کر کے انہیں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر بابر سلیم خان سواتی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے متاثرہ خواتین اساتذہ کو یقین دلایا کہ آج ہی اس
مسئلہ کو زیر غور لا کر بہتر حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ھماری حکومت ہر گز ہر گز کسی کو بے روزگار کرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ ھماری کوشش ھوتی ھے کہ بے روزگاری میں کمی لا کر عوام کو بہتر روزگار کے ذرائع فراھم کئے جائیں۔ اس موقع پر متاثرہ خواتین اساتذہ نے سپیکر اسمبلی کا ان کے مسئلہ کو ھمدردانہ طور پر زیر غور لانے پر شکریہ ادا کیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ انشاءاللہ جلد ہی سپیکر اسمبلی کی وساطت سے دستکاری سکولز کی بندش کے احکام واپس لیکر سینکڑوں خاندانوں کو فاکوں سے دوچار ھونے سے بچایا جائے گا۔۔زید برآں لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، صدر حاجی انور کمال خان مروت اور جنرل سیکریٹری سلیمان خان ھوتی نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ھے کہ دستکاری سکولز/سنٹرز کی بندش کے احکام کو واپس کرا کر متاثرہ خواتین اساتذہ کی دادرسی فرمائی جائے۔






