پشاور(بلدیات ٹائمز) بلدیاتی اداروں کے نان پی یو جی ایف سٹاف کو لوکل کونسلز سے ہٹانا لوکل کونسلز سروس سٹرکچر کی کھلم کھلا خلاف ورزی ھے۔ تفصیلات کے مطابق لوکل کونسل بورڈ کی طرف سے جاری کردہ سروس سٹرکچر کے اجراء کے بعد نان پی یو جی ایف ملازمین کو بغیر کسی انکوائری یا سزا کے لوکل کونسل سے ھٹانا اور ریجنل میونسپل آفیسرز کے دفاتر میں تعینات کرنا قرین انصاف نہ ںے اور ایسا کرنا بلدیاتی ملازمین کے بنیادی آئینی حقوق کے منافی اقدام ھے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز صوبائی حکومت کے ایک حکمنامہ کے مطابق کیپیٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ پشاور، TMAs مردان اور بابوزئی سے نان پی یو جی ایف ملازمین کو انکی مرضی کے بغیر اور بغیر کسی انکوائری یا سزا کے بالترتیب تین ملازمین کو ریجنل میونسپل آفیسرز پشاور، مردان اور ملاکنڈ کے دفاتر میں تعینات کرنے کے شاہی احکام صادر کر کے بلدیاتی ملازمین میں سخت بے چینی پھیلا دی گئی ھے جب کہ قبل ازیں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈیرہ اسماعیل خان کے نان پی یو جی ایف کے ایک معذور ملازم کو سیاسی مخالفت کی وجہ سے لوکل کونسل بورڈ پشاور رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر کے غریب، نادار اور معذور ملازم کو ذھنی اذیت سے دوچار کر رکھا ھے۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، چیئرمین محبوب اللہ ، صدر حاجی انور کمال خان مروت اور جنرل سیکریٹری سلیمان خان ھوتی نے نان پی یو جی ایف بلدیاتی ملازمین کے اچانک تبادلوں کے احکام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ھوئے کہا ھے کہ یہ احکام صوبائی حکومت کی سیاسی مخالفت پر مبنی بر بدنیتی اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ ھے اور یہ سروس سٹرکچر کی موجودگی میں سروس رولز اور سروس سٹرکچر کی واضع خلاف ورزی کا ارتکاب ھے جو ناقابل رفتار اور سرسری طور پر قابل منسوخی احکث ھیں۔ بلدیاتی ملازمین ایسے کسی بھی غیر قانونی، غیر آئینی اور بلدیاتی ملازمین کے بنیادی آئینی حقوق کے متصادم حکم ناموں کو قبول نہیں کریں گے۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے صوبائی حکومت ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ، وزیر بلدیات خیبرپختونخوا ، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ سے نان پی جی ایف بلدیاتی ملازمین کے غیر قانونی اور آئینی حقوق کے منافی احکام کو بلا تاخیر واپسی کا مطالبہ کیا ھے بصورت دیگر صوبہ بھر کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اپنے حقوق کے منافی احکام کی واپسی کے لئے صوبائی سطح پر احتجاجی لائحہ عمل طے کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت، محکمہ بلدیات اور لوکل کونسل بورڈ کی انتظامیہ پر عائد ھو گی۔
Read Next
3 دن ago
محمد سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ کے ہزار خوانی انٹر سیکشن پر 6 لینز پر مشتمل اوور پاس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا
3 دن ago
محرم الحرام کے دوران امن و امان کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کے فول پروف انتظامات
4 دن ago
خیبرپختونخوا بجٹ 2026-27 میں محکمہ بلدیات کابجٹ 56 ارب سے بڑھا کر 90 ارب کر دیا گیا،کم از کم اجرت 45 ہزار مقرر
4 دن ago
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے صرف سات فیصد مختص کرنا غریب ملازمین ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا
5 دن ago
خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل پولیسنگ کے نئے دور کا آغاز!
Related Articles
ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا کے اجلاس میں 26 ارب روپے سے زائد مالیت کے 8 منصوبوں کی منظوری
5 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی صورتحال پر اہم اجلاس
6 دن ago
لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا نےبلدیاتی اداروں کے اڈہ جات کا کنٹرول لوکل ایریا اتھارٹیز کے حوالہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دے دیا
6 دن ago


