بلدیہ عظمٰی لاہور کے افسران دفتری اوقات میں غائب،شام کے بعد افسران آمدن کا حساب کرتے ہیں،شہری خوار

بلدیہ عظمٰی لاہور کے افسران کا دفتری اوقات میں غائب رہنا معمول بن گیا ہے۔شہریوں کو خالی دفاتر کے چکر لگا کر مایوس لوٹنا پڑتا ہے۔افسران شہریوں کے مسائل حل کرنے،شکایات دور کرنے اور ملاقاتوں کی بجائے توجہ صرف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی نظر میں رہنے پر مرکوز ہے۔شہریوں کے لئے ایم سی ایل کے افسران خلائی مخلوق بن گئے ہیں۔یہ افسران دفتری اوقات کے بعد شام کو دفاتر میں آتے ہیں اور رات تک آپس میں میٹنگز چلتی ہیں۔سکون سے نیک کمائی والے کام اور فائلیں نکالی جاتی ہیں۔ٹاؤن ہال میں شام کو افسران کی آمد شروع ہوتی ہے جہاں زونز کے افسران کا بھی نزول ہو جاتا ہے۔زونز میں تعینات ڈپٹی چیف افسران بے اختیار ہونے کی وجہ سے لاتعلق ہیں جبکہ زونل افسران واٹس ایپ پر ہی متحرک نظر آتے ہیں۔شہریوں کے لئے انھیں تلاش کرنا نا ممکن ہو چکا ہے۔شعبہ ریگولیشن،پلاننگ، انفراسٹرکچر اور سروسز کے افسران محکمانہ،کمشنر، ڈپٹی کمشنر کے واٹس ایپ گروپوں میں کارکردگی دیکھاتے نظر آتے ہیں۔میٹنگز کا بہانا کر کے دفتر میں موجودگی کی صورت میں بھی شہریوں اور سائلوں کو ٹرخا دیا جاتا ہے۔یہ بات اہم ہے کہ بلدیہ عظمٰی لاہور کے بیشتر افسران سفارش پر اہم سیٹوں پر تعینات کئے گئے ہیں جن کو یقین ہے کہ موجودہ حکومت میں ان کا تبادلہ ممکن نہیں ہے۔افسران کی دفتری امور میں عدم دلچسپی اور کمائی والے کاموں میں دلچسپی سے ایم سی ایل کو گذشتہ مالی سال آمدن کے اہداف میں ریکارڈ خسارہ ہوا اور رواں سال بھی یہی صورتحال برقرار ہے۔انتظامی افسران سرکاری آمدن پر فوکس کرنے کی بجائے اپنی آمدن پر فوکس کئے ہوئے ہیں۔پنجاب حکومت کو ویڈیوز اور تصاویر کی صورت میں مطمئن کیا جا رہا ہے۔

کمشنرز، ڈپٹی کمشنرزکی طرف سے دفتری اوقات میں حاضری چیک نہ کرنا بھی کام چور اور رشوت خور افسران کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے

لاہور سے زیادہ افسران ترقی کر رہے ہیں

جواب دیں

Back to top button