*سندھ میں جشن آزادی کی تقریبات یکم اگست سے شروع ہوں گی، وزیراعلیٰ نے شیڈول کا اعلان کردیا*

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یومِ آزادی کی مناسبت سے صوبے بھر میں منعقد ہونے والی تقریبات کے لیے ایک بھرپور اور ولولہ انگیز شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سوشل میڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یکم اگست سے شروع ہونے والی تقریبات کا مرکزی موضوع "معرکۂ حق” ہو گا، جو قومی فخر اور ظلم کے خلاف سچ کی فتح کی علامت ہو گا۔اس موقع پر صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر شاہ، سعید غنی، محمد بخش خان مہر اور ذوالفقار شاہ بھی موجود تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اس سال کی تقریبات صرف رسمی تقریبات تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ ان کا مقصد وطن سے محبت کے جذبے کو نئی روح دینا، سندھ کی ثقافتی خوبصورتی کو اجاگر کرنا اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جنہوں نے حالیہ سیلابوں کے بعد اپنی زندگیاں دوبارہ سے تعمیر کیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال یومِ آزادی نہ صرف آزادی کا دن ہو گا بلکہ بھارت کے خلاف سچ کی فتح کی یاد بھی تازہ کرے گا جو ایک آزاد قوم کی پہچان اور مظلوم اقوام کی حالت زار میں فرق کو اجاگر کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جشنِ آزادی کے موقع پر معاشی بہتری کے منصوبے بھی عوام کے سامنے لائے جائیں گے جن میں ان کا فلیگ شپ پروگرام "اُڑان پاکستان” بھی شامل ہو گا۔

تقریبات کا شیڈول

یکم اگست سے آغاز

عمارات، گاڑیوں اور رکشوں کی سجاوٹ کا مقابلہ – بہترین سجاوٹ پر انعامات8اگست: حیدرآباد میں خصوصی تقریب10اگست: سکھر میں تقریب، کراچی میں کلِفٹن سے فریئر ہال تک گدھا گاڑی ریس اور میراتھن13اگست: سی ویو سے بوٹ بیسن تک ثقافتی کشتی فلوٹ خواتین کی سائیکل ریلی: کراچی تا چوکنڈی

اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام 114 سے زائد پروگرامز8اگست: میئر الیون بمقابلہ منسٹرز الیون کرکٹ میچ9اگست: قلندرز الیون بمقابلہ بھٹائی الیون، جس میں وزیر اعلیٰ خود بھی حصہ لیں گے9اگست: ملاکھڑا (کشتی) مقابلہ، جہانگیر کوٹھیری پارک میں کنسرٹ11اگست: یومِ اقلیت – اقلیتی امور کا بڑا پروگرام

معذور افراد کے لیے خصوصی میلہ – وزیر اعلیٰ شرکت کریں گے5اگست: کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف تقریب

ونٹیج کار اور ہیوی بائیک ریلیاں، خواتین میلے، مصوری، گائیکی، شاعری کے مقابلے، رکشہ ریلی

انسانی زنجیر بنانے کا پروگرام – عوام الناس سے شرکت کی اپیل

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یوم آزادی کی تقریبات کے لیے سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات انسپکٹر جنرل پولیس اور ڈی آئی جی ٹریفک کی نگرانی میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان تقریبات کو کامیاب بنانے میں تعاون کریں۔وزیراعلیٰ نے تمام سیاسی جماعتوں کو ان تقریبات میں شرکت کی دعوت دی ہے اور کہا کہ جلد باضابطہ دعوت نامے بھی بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران اسکول کھلے رہیں گے اور محکمہ تعلیم یوم آزادی کے حوالے سے خصوصی پروگرامز کا اہتمام کرے گا۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ گورکھ ہل اور تھر جانے والے افراد کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں منعقد ہونے والے کنسرٹس میں بھرپور شرکت کی امید ظاہر کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 9 سے 11 اگست کے دوران منعقد ہونے والے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے عرس میں بھی یوم آزادی کا جذبہ شامل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام میں سندھ کا کردار بہت اہم رہا ہے، اگرچہ کچھ تقاریر میں اس حوالے سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں لیکن انہوں نے اسمبلی میں سندھ کے تاریخی کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ محکمہ ثقافت کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یوم آزادی کی تقریبات میں سندھ کی جدوجہد اور پاکستان کے قیام میں اس کے کردار کو اجاگر کرے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ جامع پروگرام حب الوطنی، ثقافتی فخر اور صوبے بھر میں اتحاد کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت دہشت گردی سے مرعوب نہیں ہوگی اور دہشت گردی کی دھمکیاں سندھ میں یوم آزادی کی تقریبات میں خلل نہیں ڈال سکتیں۔تقریبات کی تیاریوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ یوم آزادی کی سجاوٹ کے مقابلے کے لیے خصوصی جیوری قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گھروں، دفاتر، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی سجاوٹ کے لیے علیحدہ علیحدہ جیوریز مقرر ہوں گی۔ مراد علی شاہ نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ نمایاں سجاوٹ کو بھرپور کوریج دے اور شہریوں کے انٹرویوز نشر کرے تاکہ عوامی جوش و خروش میں مزید اضافہ ہو۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ انعامات صرف زیادہ رقم خرچ کرنے پر نہیں دیے جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیلاب سے متاثرہ شہری بھی اپنے نئے تعمیر شدہ گھروں کو سجاکر ان مقابلوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ ان مقابلوں کا مقصد مالی اخراجات کو ظاہر کرنا نہیں ہے بلکہ حب الوطنی اور شرکت کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے۔

جواب دیں

Back to top button