خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے زیر اہتمام صوبے کی سرکاری جامعات کے سینیئر افسران کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد نجی شعبے کے کردار کو اجاگر کرنا تھا تاکہ جامعات کے ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں اثاثہ جات کے مؤثر استعمال اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ پر زور دیا گیا۔ یہ اقدام اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مالی پائیداری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ، حسن مسعود کنور نے کہا کہ یہ تربیتی سیشنز ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے حکومت کے وژن کے عین مطابق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو پروکیورمنٹ قوانین اور پارٹنرشپ فریم ورک سے آگاہی دینا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ انفراسٹرکچر اور علمی ترقی کے حوالے سے اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔اس تقریب میں خیبر پختونخوا کی 11 سرکاری جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ سیشنز کے پی پی آر اے اور پی پی پی یونٹ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین نے دیے۔ سیکرٹری/سی ای او کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ، مسعود احمد نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ ایسی تربیت جامعات کو نجی شعبے کے ساتھ اشتراک عمل کے قابل بناتی ہے تاکہ وہ اپنی مالی پائیداری کو یقینی بنا سکیں۔






