*مقامی حکومتیں اور سیاسی جماعتوں کا رد عمل* تحریر: زاہد اسلام

مقامی حکومتوں کے حوالہ سے ہمارے ملک میں عام طور پر خاموشی رہتی ہے۔مگر کبھی کبھار یہ ایشو بڑا اہم اور بنیادی بنا دیا جاتا ہے۔حالانکہ ہمارا ملکی آئین مقامی حکومتوں کو مملکت کا ایک بنیادی اور اہم تیسری سطح کا درجہ گردانتا ہے۔اور ان کو ریاست کے بنیادی اصولوں میں تسلیم کرتا ہے۔مگر باوجود کہ آئینی پابندیوں کے مقامی حکومتیں ہمیشہ ہی متنازعہ ایشوز کے ضمرے میں آتی ہیں۔بہت کم ہوا کہ ساری سیاسی جماعتیں کبھی متفق ہوتی نظر آئیں۔یہی حال انتخابی عمل کے حوالہ سے اول تو مقامی حکومتوں میں منتخب کونسلوں اور منتخب قیادت کا تسلسل نظر نہیں آتا اور اگر انتخابات ہو بھی جائیں تو متنازعہ ہی رہتے ہیں۔استثنا صرف فوجی حکمرانی کے دور کو حاصل ہے۔جب مقامی حکومتوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور بعض وجوہات کی بناء پر حکمرانوں کی نظر کرم مقامی حکومتوں پر ہوتی ہے۔اس دورانیہ میں ان کے انتخابات بھی تواتر سے ہوئے ہیں،اور کچھ عرصہ کے لئے تسلسل بھی نظر آتا ہے۔جیسے جنرل ایوب خان کے بنیادی جموریتوں کے دور میں دو دفعہ انتخابات ہوئے۔پھر دو دفعہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اور پھر اسی طرح دو دفعہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں انتخابات تواتر سے ہوئے اور متفقہ بھی نظر آئے۔انتخابی عذرداریاں تو بہت تھیں مگر زیادہ تر اہلیت،نا اہلیت اور غلط بیانی پر مبنی تھیں۔انتخابی عمل پر کم ہی آوازیں نظر آئی ہیں۔برعکس جمہوری حکومتوں کے ادوار میں مقامی حکومتوں میں منتخب نمائندوں کے بغیر کئی کئی سال گزار دئیے جاتے ہیں۔افسر شاہی کی نگرانی میں مقامی حکومتوں کی خدمات جاری رہتی ہیں۔صوبائی حکومتیں اپنے لئے احسن سمجھتی ہیں کہ افسروں کو ایڈمنسٹریٹر بنا کر مقامی حکومتوں کو فعال رکھیں اور ہدایات کے ذریعہ ہی چلایا جائے۔لیکن سیاسی جماعتیں اس حوالہ سے منقسم ہیں۔چند ایک سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے حوالہ سے زیادہ متحرک نظر آتی ہیں۔گو کہ سبھی مساوی اسٹیک ہولڈرز ہیں مگر چند ایک زیادہ منظم انداز میں مقامی حکومتوں کے حوالہ سے متحرک نظر آتی ہیں۔آج 15جنوری ہے اور جماعت اسلامی نے پنجاب میں لاگو لوکل گورنمنٹ قانون مجریہ2025ء کے حوالہ سے ایک عوامی ریفرنڈم کا اعلان کر رکھا ہے۔یہ کوئی سٹرکچر نوعیت کی سرگرمی تو شاید نہ ہو تا ہم عوامی رائے کو سامنے لانے کی ایک سرگرمی ضرور ثابت ہو گی۔کہ جماعت کے کارکن عوام سے اس قانون کے حوالہ سے حمایت یا مخالفت کا پوچھیں گے۔یہ لیڈنگ سوالات ہی ہو سکتے ہیں۔کیونکہ عوام الناس ابھی اس قانون کے مثبت اور منفی پہلووں بارے زیادہ آگاہ نہیں ہیں۔اس لئے ایک عمومی رائے تو وہی سامنے آئے گی۔جو محرک چاہیں گے۔لیکن اس ریفرنڈم کا ایک دوسرا پہلو یقینی طور پر مثبت ہے کہ عوام الناس میں منتخب با اختیار مقامی حکومتوں بارے تحریک مضبوط ہو گی۔جماعت کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اعتراضات رکھتی ہیں لیکن ان کے رویہ جات مختلف ہیں۔ بعض نے عدالتی کاروائی کے ذریعے مزاحمت کی ہے۔اور بعض نے اپنے بیانات اور انتخابی عمل سے بائیکاٹ تک ہی اکتفا کیا ہے۔ابھی تک اس سارے عمل میں کوئی ٹھوس تحریر یا بیان سامنے نہیں آیا۔عمومی اتفاق توسب ہی کرتے ہیں۔بلکہ دلچسپ بات ہے کہ جنہوں نے بڑھ چڑھ کر صوبوں میں قانون سازی میں حصہ لیا اور انتخابی عمل کا حصہ بنے۔ وہ بھی اختیارات کی نیچے منتقلی اور مضبوط مستحکم با اختیار مقامی حکومتوں کے داعی ہیں۔ یعنی بے اختیاری میں بھی خود ذمہ دار اور محرک ہیں اور با اختیار بنانا بھی چاہتے ہیں۔مثال کے طور پر جس اسمبلی نے قواعد معطل کر کے متفقہ طور پر اس قانون کو منظور کیا اور بل پر دس ماہ مشاورت بھی کی۔وہ بھی اس کی کمزوریوں اور خامیوں پر نا قد نظر آئے۔جبکہ پنجاب اسمبلی سے اپوزیشن بائیکاٹ کر گئی بجائے مخالف ووٹ ڈالنے کے اس عمل سے کنارہ کش ہو گئی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حوالہ سے میڈیا میں ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے مختلف انتخابی امور کے حوالہ سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن کی مسلسل نفی کی گئی ہے۔جس پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مسئلہ پر باقاعدہ سماعت کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا،مگر جو ڈیڈ لائنز مقرر کی جاتی رہی ہییں وہ قانون سازی کے بعد لوکل کونسلوں کی نشاندہی (Demarcation) یونین کونسلوں کی تعداد اور تقسیم وغیرہ۔الیکشن رولز کا نوٹیفیکیشن اور حلقہ بندی رولز کا نو ٹیفیکیشن کے اجراء کے مسائل ہیں۔ان پر حکومت کا دائرہ اختیار ہے مگر حکومتی اعلان کے بعد ہی الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔حکومت نے ڈرافٹ رولز تو مرتب کئے مگر الیکشن کمیشن کی رائے کے بعد حتمی نوٹیفیکیشن میں تا خیر کی گئی ہے۔لا محالہ اب رمضان المبارک کے بعد ہی یہ عمل آگے پیش رفت کر سکے گا۔اگر اس مہینے میں نو ٹیفیکیشن کا اجراء ہو گیا تو بھی انتخابات کا انعقاد موسم گرما میں ہی ممکن ہو سکے گا۔لیکن خیبر پختونخواہ اسمبلی کی حالیہ قرار داد بھی متفقہ ہے۔جسے حزی اختلاف نے پیش کیا اور حزب اقتدار نے بھی حمایت کا اتفاق کیا۔ اس متفقہ قرار دار کی منظوری کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں میں سرکاری بینچوں کی طرف سے ترمیم بل لائے جائیں تا کہ موجودہ سقم کو ایڈریس کیا جائے۔مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔تو پھر متفقہ قرار دادوں کو کہاں،کون اور کیسے جاری قوانین کا حصہ بنایا جا سکے گا۔اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔کیونکہ جو قرار داد سے اتفاق کرتے ہیں۔قانون سازی میں خاموش رہتے ہیں۔تو نظام کی اصطلاع کون اور کیسے کرے گا۔اسلا آباد لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کو ایک مہینہ رہ گیا تو ایک آرڈیننس کے ذریعے انتظامی تبدیلیاں کر دی گئیں اور آرڈیننس جس طرح لایا گیا بقول پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی میں لیڈر جناب نوید قمر صاحب کہ صدر کے دستخطوں کے بغیر ہی نوٹیفائی کر دیا گیا۔انہوں نے واک اوٹ بھی کیا۔حقیقت کیا ہے کوئی جواب دینے والا نہیں۔سرکاری بنچوں سے کہا گیا کہ وہ تحقیقات کرتے ہیں کہ حقائق کیا ہیں۔کیا ایک اہم جماعت کا واک اوٹ درست تھا یا غلط۔قوم کو کبھی علم نہ ہو سکے گا۔کیونکہ میڈیا بھی ہائبرڈ ہے۔پھونک پھونک کر قدم اٹھاتا ہے۔صورتحال یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں منتخب لوکل گورنمنٹ گزشتہ پانچ سالوں سے نہیں ہے۔بلوچستان کے سب سے بڑے شہر میں نہیں ہیں،خیبر پختونخواہ اسمبلی کی متفقہ قرار داد سامنے آنے سے نظر آتا ہے وہاں بھی تسلی بخش صورتحال نہیں ہے۔وفاقی دارلخلافہ میں کئی بار انتخابی عمل متاثر ہوا ہے۔اور متفقہ سسٹم بھی ندارد ہے۔سندھ کے حوالہ سے اپوزیشن کی جماعتیں پہلے سے ہی مخالفانہ آواز اٹھا رہی ہیں۔ایسی ہی صورتحال آزاد جموں کشمیر کی مقامی حکومتوں کے حوالے سے ہے اور گلگت بلتستان میں کئی سالوں کے وقفے کے بعد اس سال مقامی حکومتیں شاید ہی تشکیل پائیں۔اعلان تو ہوا ہے مگر شکوک ہیں کہ کہیں التوا کا شکار نہ ہو جائیں۔اس سارے تناظر میں اسلام آباد ’سمٹ کانفرنس‘ جس کا فوکس ہی اختیارات کو نیچے مقامی حکومتوں کی طرف موڑنا تھا۔اور ملک کے با اثر افراد نے شرکت کی۔کیا عملی نتیجہ برآمد ہوا۔ما سوائے آئینی تشریح اور وضاحتوں کے ساتھ مزید ترامیم لانے پر اصولی اتفاق کرنے کے۔مگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور بندھے گی۔یہ اصل حل طلب سوال ہے اسی لئے میں نے درخواست کی تھی کہ اس ’سمٹ‘ کو با مقصد بنانے کے لئے حقیقی طور مقتدر قوتوں کی نمائندگی ضروری ہے۔وگرنہ اتفاق رائے کا توسیقی اور تجدیدی اظہار کوئی معنی نہیں رکھتا۔

جواب دیں

Back to top button