*ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے خود ٹولنٹن مارکیٹ میں ہدایت نامے تقسیم کئے*

وزیر اعلٰی مریم نواز کے ملاوٹ سے پاک صحت مند پنجاب مشن کے تحت ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے ٹولنٹن مارکیٹ میں ہدایت نامے تقسیم کیے جس پر ان کا کہنا تھا کہ معیاری گوشت کی فراہمی کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی ہمہ وقت کوشاں ہیں، دودھ، گوشت، مرغیوں کی چیکنگ، ٹریسیبیلٹی کے بغیر کوئی سپلائر گاڑی سڑک پر نہیں آنے دیں گے،

گوشت ،دودھ کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی سٹینڈرز کے مطابق جدید ایس او پیز وضح کیے ہیں، تقسیم کیے جانے والے لٹریچر میں فوڈ سیفٹی کے تمام تر قوانین واضح کیے گئے ہیں. جاری تفصیلات میں بتایا گیا کہ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مارکیٹ کی ہر میٹ شاپ پر خود جا کر ہدایات دیں، ہدایت نامہ آویزاں کرنے کی سخت ہدایت کیں، یکم اگست سے ابتک 18ہزار 820 میٹ شاپس، میٹ پروسیسنگ یونٹس، گودام اور سپلائرز کی چیکنگ کی گئی،203 مقدمات درج، 75 یونٹس، شاپس بند، 2ہزار 448 کو 2کروڑ 32لاکھ 49ہزار سے زائد کے جرمانے عاٸد کیے گئے،40لاکھ 51ہزار کلو سے زائد گوشت کی چیکنگ؛ 2لاکھ 16ہزار کلو سے زائد ناقص گوشت تلف کیا گیا، یکم جنوری سے ابتک 70ہزار 944 میٹ شاپس، گودام، پروسیسنگ یونٹس سپلائرز کی چیکنگ کی گئی،331 مقدمات درج؛ 231 بند، 7ہزار 269 کو 6کروڑ 79لاکھ سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے،1کروڑ 71لاکھ 65ہزار کلو سے زائد گوشت کی چیکنگ؛ 8لاکھ 43ہزار 700کلو سے زائد ناقص گوشت تلف کیا گیا. اس موقع پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے کہا کہ آج ٹولنٹن مارکیٹ سے اس کیمپین کا آغاز کیا، آج ہی پورے پنجاب تک دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، تمام ملازمین کے میڈیکل، لیب ٹیسٹ سرٹیفکیٹس ہمہ وقت موجود ہوں، ملازمین کام کے دوران ایپرن، ہیڈ کور، ماسک اور دستانے لازمی استعمال کریں، چکن فروش کا سال میں ایک دفعہ پنجاب فوڈ اتھارٹی قوانین کے مطابق طبی معائنہ کروانا لازم ہے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں 3 شفٹوں میں ٹولنٹن مارکیٹ کی چیکنگ کرتی ہیں، ایسا ہدایت نامہ تشکیل دیا گیا ہے جس میں دکاندار اور صارفین دونوں کے لیے ہدایات درج ہیں، مستقبل قریب میں فوڈ سیفٹی ٹیمیں یونیفارم میں نظر آئیں گی، دودھ کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں،،کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا، سپلائرز اپنا قبلہ درست کریں، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں سرکوبی کے لیے متحرک ہیں، وزیر اعلٰی پنجاب کے حکم پر ملاوٹ مافیا کو نکیل ڈالنے کے لیے پنجاب کی زمین تنگ کردی گئی ہے.

جواب دیں

Back to top button