ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے راشن کارڈ میں پیشرفت کا جائزہ،جن ورکرز کی کنٹری بیوشن پوری نہیں انکی 3 ماہ کی ادائیگی پنجاب حکومت کرے گی، ذیشان رفیق

وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران ستھرا پنجاب ورکرز کو مریم نواز راشن کارڈ کے اجرا میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گُل اور ایڈیشنل سیکرٹری احمر کیفی بھی موجود تھے جبکہ تمام ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سی ای اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔

پنجاب بینک اور پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (پیسی) کے افسروں نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلٰی مریم نواز کی ہدایت پر ستھرا پنجاب کے ورکرز کو بھی راشن کارڈ ملے گا۔ اب تک 90 ہزار ورکروں کی پیسی کے ساتھ رجسٹریشن ہوچکی ہے جبکہ مزید 42 ہزار ورکرز کی رجسٹریشن آخری مراحل میں ہے۔ وزیر بلدیات نے اگلے ہفتے تک باقیماندہ رجسٹریشن کا عمل بھی مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ راشن کارڈ کے اجرا کے لئے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں 6 ماہ کی کنٹری بیوشن جمع کرائیں گی تاہم جن ورکرز کی کنٹری بیوشن پوری نہیں انکی 3 ماہ کی ادائیگی پنجاب حکومت کرے گی۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مہیا کرنے کے ویژن کے تحت وزیراعلٰی مریم نواز نے ستھرا پنجاب ورکرز کو خصوصی طور پر پروگرام میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ گرمی، سردی اور بارشوں میں بھی پنجاب کو صاف ستھرا بنانے والے ہیروز کو راشن کارڈ کی اضافی سہولت ملے گی۔ وزیر بلدیات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پیسی ہر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے لئے اپنا فوکل پرسن مقرر کرے گا۔ انہوں نے رجسٹریشن کا ہدف بروقت مکمل کرنے پر فیصل آباد اور ساہیوال کے سی ای اوز کو شاباش دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ راشن کارڈ کے ذریعے مستقبل میں دیگر کیش کی ادائیگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button