ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری شاندار ثقافتی، روایتی، نمائشی اور تفریحی میلہ "ڈیرہ جات 2025” کا رنگا رنگ اختتام۔ رتہ کلاچی اسپورٹس اسٹیڈیم میں فیسٹیول کی اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بحیثیت مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ آف روڈ جیپ چیلنج اور دیگر مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء میں انعامات تقسیم کیے


فیسٹیول میں جیپ ریسنگ، نیزہ بازی، گھڑ سواری، باکسنگ، کبڈی، کشتی، دودا، کوڈی اور دیگر متعدد روایتی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ کیٹل شو، گھوڑوں کی پریڈ، پالتو جانوروں کی نمائش، آرٹ نمائش اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں بھی شامل۔ اسی طرح تلاوت و نعت کے مقابلوں سمیت دیگر ادبی سرگرمیاں بھی فیسٹیول کا حصہ تھیں۔وزیر اعلی علی امین خان گنڈاپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر متعلقہ محکموں اور انتظامیہ کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ ڈیرہ جات کو مزید بہتر انداز میں جاری رکھنے، مقامی ثقافت و سیاحت کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیسٹیول کا مقصد خطے کی ثقافت، روایات، کھیلوں اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نہایت حوصلہ افزا ہے، فیسٹیول کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ ثقافتی، تاریخی اور سیاحتی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ہماری فورسز اور عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور بدمنی کا جوانمردی سے مقابلہ کیا۔ 40 دنوں سے جاری فیسٹیول کے تحت متعدد ایونٹس کا پرامن انعقاد اور عوام کی بھرپور شرکت ایک مثبت پیغام ہے، ہم اسی طرح اپنی روایات برقرار رکھیں گے اور پُرامن طریقے سے آنے والی نسلوں کو منتقل کریں گے،ڈیرہ جات میں تمام قسم کی سپورٹس، ادبی و ثقافتی سرگرمیاں شامل ہو چکی ہیں۔تمام طبقات کو فیسٹیول سے لطف اندوز ہونے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع میسر ہے، ان تمام ایونٹس کے انعقاد میں پولیس، ریسکیو اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، اس شاندار کارکردگی کی بنیاد پر ان کے لیے فی اہلکار دس ہزار روپے کا اعلان کرتا ہوں۔ ہم اسی طرح آگے بڑھیں گے، امن کا گہوارہ بنیں گے اور خوشیاں بانٹیں گے، صوبے میں عمران خان کی پالیسی کے مطابق تمام اقدامات اور فیصلے میرٹ پر ہو رہے ہیں۔ جب سے حکومت سمبھالی، ہر طرح کے سپورٹس ایونٹس کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جا رہا ہے، کسی بھی مقابلے میں شرکاء کی طرف سے جانبداری یا ناانصافی بارے شکایت سامنے نہیں آئی، تمام دیگر محکمے بھی اپنے اقدامات اور سرگرمیوں میں اسی طرح میرٹ اور انصاف کو یقینی بنائیں۔






