میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا دل ہے، ایک ایسا شہر جو معاشی سرگرمیوں، ثقافتی تنوع اور انسانی استقامت کی علامت ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور حکومت سندھ کا وژن ہے کہ کراچی کو عالمی شہروں کی صف میں شامل کرایا جائے جہاں جدید شہری سہولیات، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، صاف توانائی اور متوازن شہری منصوبہ بندی کو فروغ دیا جارہا ہے، دبئی ایشیا پیسیفک سٹیز سمٹ جیسے عالمی فورم پر کراچی کا مؤقف پیش کرنا باعثِ فخر اور اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی عالمی سطح پر ترقی اور تعاون کے نئے دروازے کھول رہا ہے،

دنیا کے بڑے شہروں کے درمیان کراچی کو ایشیائی ترقی کا سنگِ میل قرار دیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہرِ قائد کی سمت درست اور ترقی کے سفر پر گامزن ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی سطح پر کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے دبئی میں منعقد ہونے والی ایشیا پیسیفک سٹیز سمٹ (Asia Pacific Cities Summit) میں شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے سربراہانِ شہر، میئرز، پالیسی سازوں اور ترقیاتی ماہرین نے شہری منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلی، جدید انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے صرف سڑکوں، عمارتوں یا بنیادی ڈھانچے کی بہتری تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کی بحالی کا سفر ہیں، انہوں نے کہا کہ دو اعشاریہ ایک ملین موسمیاتی گھروں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جو ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو محفوظ، جدید اور پائیدار رہائش فراہم کرنے کی مثال ہے، انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ دراصل عزتِ نفس، مساوات اور سماجی استحکام کے فروغ کا ذریعہ ہے، خواتین کو گھروں کی ملکیت دے کر حکومت نے انہیں نہ صرف معاشی طور پر مضبوط بنایا ہے بلکہ خودمختاری اور اعتماد کی بنیاد بھی فراہم کی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ ہر نیا گھر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف استقامت، انسان دوستی اور قومی عزم کی علامت ہے، یہ منصوبے اس نظریے کی عکاسی کرتے ہیں کہ قوم کے وسائل قوم کی فلاح کے لیے استعمال ہونے چاہئیں اور یہی وژن کراچی کو مستقبل کا سبز، منظم اور جدید شہر بنانے میں رہنمائی فراہم کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کو ایک بار پھر عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور شہری تعاون کا مرکز بنانا ان کی ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل گورننس، صاف توانائی، پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی توازن پر مبنی منصوبوں پر تیزی سے عمل پیرا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ جب لوگوں کے پاس وسائل نہیں تھے تب بھی ہم نے امید اور زندگی کی کرن روشن کی، آج ہم صرف تعمیرنو نہیں کر رہے بلکہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو انصاف، مساوات اور وقار پر مبنی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی کا یہ سفر تعمیر سے آگے بڑھ کر قوم کی اجتماعی بحالی اور خوشحالی کی علامت بن چکا ہے، یہ شہر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے عوام کے ساتھ مل کر ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کرے گی جہاں ہر شہری کو ترقی، سہولت اور فخر کا احساس ہو اور کراچی ایک بار پھر عالمی سطح پر امید، جدت اور ترقی کی روشن علامت بن کے ابھرے۔





