کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ہنہ اوڑک کے مسائل کے حل کے حوالے سےاجلاس

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ہنہ اوڑک کے مسائل کے حل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ایس ایس پی سیکیورٹی محمد آصف،12کور سے کرنل غیاث عباس اور لیفٹینٹ کرنل بدر ، پراجیکٹ ڈائریکٹر 100ڈیمز پراجیکٹ انجینر محمد ابراھیم ،چئیرمن ہنہ کمیٹی رحمت اللہ،اسسٹنٹ کمشنر صدر کوئیٹہ محمد حمزہ ،اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ کے علاؤہ ورلڈ بینک ،100ڈیمز منصوبے ،ایریگیشن کے افسران نے شرکت کی

۔اجلاس میں ہنہ اوڑک کے عوامی مسائل، پانی کی فراہمی، واٹر چینلز کی بہتری، زمینداروں کے خدشات، سولر ٹیوب ویل اور پائپ لائنوں کی تنصیب ،فنڈز کے حصول سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہنہ اوڑک کے عوام کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ پانی کی بلا تعطل فراہمی، واٹر چینلز کی مرمت و بہتری، اور پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ پینے کے پانی کی فراہمی ایک انتہائی اہم عوامی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو بلند رکھنے کے لیے ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے تاکہ نہ صرف پینے کے پانی بلکہ زرعی و باغبانی ضروریات کے لیے بھی پانی کی دستیابی ممکن بنائی جا سکے۔اس کے علاؤہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پانی کی طلب میں اضافے والے مہینوں میں پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں مقامی معتبرین کو اعتماد میں لینے، اور ان کے تعاون سے حل طلب امور کو بہتر انداز میں نمٹانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ہنہ اوڑک کے پانی کے منصوبوں کے لیے بالاحکام سے رابطہ کیا جائے گا اور ان کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا تاکہ واٹر چینلز کی مرمت اور پانی کی فراہمی کے مسائل کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔اجلاس صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہاکہ ہنہ اوڑک کے عوام کو درپیش پانی کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ علاقے میں پینے اور زراعت کے پانی کی فراہمی کو پائیدار بنایا جا سکے۔اس سلسلے میں تمام اسٹاک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں پانی کے حوالے سے مسائل درپیش نہ ہو۔

جواب دیں

Back to top button