*کمشنر کوئٹہ شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس*

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقدہ ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی،لیفٹننٹ کرنل آنٹی نارکوٹکس فورس بلوچستان محمد آصف خان،اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ کے علاؤہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،کسٹمز،اسپشیل برانچ ،ایس ایس پی ایڈمن کوئٹہ اور دیگر افسران موجود تھے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی کی پیش رفت،BISA ڈیش بورڈ پر شکایات کی باقاعدہ اپ لوڈنگ،دہشت گردوں اور معاونین کی پروفائلنگ،فورتھ شیڈول کی اپ ڈیٹنگ، چھوٹے ہتھیاروں (SMAs)کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائی,اسکول ٹیچر کے خلاف کاروائی جو منحرف سرگرمیوں میں ملوث ہو.اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں طویل غیر حاضری کے خلاف قدم، فعال بنائے گئے اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت کی تعداد، سرکاری/نجی ہاسٹلز کی انسپیکشن اور مانیٹرنگ اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں کہا گیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں ضلعی سطح پر تشکیل شدہ اپلیمنٹیشن کمیٹیوں کی کارکردگی، جاری منصوبوں کی تکمیل کی رفتار اور ٹارگٹس کے حصول کا جائزہ لیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ کو اپنی ماہانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاؤہ عوامی شکایات اور سیکیورٹی معلومات کو مرکزی ڈیٹا بیس (BISA) میں بروقت درج کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ شفافیت کے ساتھ متعلقہ شواہد اور کاروائی کا ریکارڈ دستیاب ہو۔ آئی ٹی/ڈیجیٹل ٹیمیں ڈیش بورڈ کی اپ ڈیٹ اور تکنیکی معاونت فراہم کریں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ضلعی انتظامیہ کو مل کر اجلاس میں مبینہ دہشت گرد عناصر اور ان کے ممکنہ معاونین کی پروفائلنگ کر کے سیکورٹی ڈیٹا بیس کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ ممکنہ سیکیورٹی خدشات یا سخت مانیٹرنگ کے لیے فورتھ شیڈول میں درج فہرستوں کی اپگریڈیشن پر خاص توجہ دی جائے تاکہ معلومات موجودہ صورتحال کے مطابق ہوں۔اجلاس میں چھوٹے ہتھیاروں کے غیر قانونی استعمال اور نقل و حمل کے خلاف کریک ڈاؤن، ضبطگی اور قانونی کاروائی کی متعلقہ پولیس اور ضلعی ٹیموں کے ساتھ ہم آہنگی کی ہدایت کی گئی۔

ایسے تعلیمی عملے کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر تفتیش اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے جو کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو تاکہ تعلیمی ماحول محفوظ رہے۔ اساتذہ اور عملے کی مسلسل غیر حاضری کے واقعات کی نشاندہی کر کے انتظامی کاروائی، متبادل تقرریاں یا تادیبی اقدامات کیے جائیں۔ کوئٹہ ڈویژن کےبند یا نیم فعال اسکولوں کی بحالی کی پیش رفت، بنچ مارکس اور اساتذہ و طلبہ کی واپسی کے اعداد و شمار اور اس کے علاؤہ فعال کئے گئے BHUs/ڈسپنسریز کی تعداد اوربنیادی صحت یونٹس اور ڈسپنسریز کی بحالی، اسٹافنگ اور میڈیکل سہولیات فعال بنانے کی صورتحال رپورٹ بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں سرکاری اور نجی ہاسٹلز میں داخلے، رہائشی حفاظتی اہداف اور ممکنہ سکیورٹی خدشات کے لیے باقاعدہ جانچ اور مانیٹرنگ کے طریقِ کار وضع کیے جائیں۔ اجلاس میں غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی ،ضبطگی اور جرمانے کو بہتر بنانے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے اضلاع غیر فعال اسکولوں کو فعال کرنے اساتذہ کی بھرتیوں ،منشیات کے خلاف کاروائی، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کاروائی، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں اور دیگر معاملات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیں۔

جواب دیں

Back to top button