وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام امور کو بتدریج ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ تیار ہو چکا ہے جو جلد کابینہ سے منظور کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 14 سروسز ڈیجیٹل کی جا چکی ہیں، مزید 34 سروسز دسمبر 2025 تک مکمل ہوں گی، جس سے 12.3 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ جون 2026 تک تمام 170 سروسز ڈیجیٹل نظام میں شامل کر لی جائیں گی۔ وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ مقصد شفاف، مؤثر اور جدید طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ”ڈیجیٹل خیبر پختونخوا“ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد مالیاتی امور میں شفافیت، سہولت اور مؤثریت کو یقینی بنانا ہے، اب تک 170 مختلف سروسز کی نشاندہی کی جا چکی ہے جنہیں ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا جائے گا، 14 مختلف سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کر لی گئی ہے۔ انتقالِ جائیداد ٹیکس، جائیداد ٹیکس، اسلحہ لائسنس، ابیانہ، ڈرائیونگ لائسنس، پلاٹ رجسٹریشن، ایچ ای سی داخلہ اور شکار لائسنس فیس وغیرہ شامل ہیں، مزید 34 سروسز کو دسمبر 2025 تک ڈیجیٹائز کیا جائے گا، جس سے تقریباً 12.3 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جون 2026 تک تمام 170 سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کر لی جائے گی۔ ڈیجیٹلائزیشن کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر دو ہفتے بعد ریویو میٹنگ منعقد کی جائے گی، ہم خیبر پختونخوا کو معاشی طور پر خودکفیل اور جدید طرزِ حکمرانی کی مثال بنائیں گے






