ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے کہا ہے کہ سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ شہر میں مثبت سوچ، آگاہی اور تعمیری رجحان کو فروغ دینے کے لیے بہترین خدمات انجام دے رہا ہے، ادارے نے پہلے بھی بلدیاتی کونسل کے کاموں، شہری حقوق اور شہری ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی پروگرامز کا کامیاب انعقاد کیا ہے، جو عوامی شعور میں اضافے کا باعث بنے ہیں،یہ بات انہوں نے صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں محکمہ سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ کے زیر انتظام منعقدہ ”فنانشل لٹریسی اور اسلامی بینکنگ“کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی،

اس موقع پر کے ایم سی کونسل ہال میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جمن دروان، کونسل ممبر مبشر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر دانیال خان،بینک مکرمہ لمیٹڈآصف صدیقی،ذیشان فرخ، محکمہ سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ (CIIM) کے ڈائریکٹر محمد شاہد اور دیگر افسران بھی موجود تھے، ڈپٹی میئر کراچی نے کہا کہ سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایونٹس اور پروگرامز نہ صرف منظم ہوتے ہیں بلکہ ان میں شریک افراد کو عملی طور پر سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں، انہوں نے ادارے کی انتظامیہ اور عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے شہر کے تعلیمی اور سماجی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے مزید بتایا کہ ان کی درخواست پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر دانیال خان نے میمن گوٹھ اور ملیر میں اسلامی بینکنگ اور مالی خواندگی (فنانشل لٹریسی) کے حوالے سے خصوصی آگاہی پروگرامز منعقد کیے، جو نہایت خوش آئند اقدام ہے، انہوں نے کہا کہ سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ نے کے ایم سی کے ملازمین میں مالیاتی شعور پیدا کرنے اور اسلامی بینکنگ کے بارے میں موجود منفی تاثر کو ختم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ شہریوں کی تربیت، آگاہی اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر دانیال خان نے کہا کہ مالی خواندگی (فنانشل لٹریسی) عوام میں بینکنگ کے حوالے سے آگاہی اور بہتر سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ فنانشل بینکنگ اور اسلامی بینکنگ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو جدید مالیاتی نظام سے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے،اسلامی بینکنگ پاکستان کے مالیاتی نظام کا ایک مضبوط اور مستحکم حصہ بنتی جا رہی ہے جس کے اصول شریعت کے مطابق اور عوامی اعتماد پر مبنی ہیں، انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکنگ کے فروغ سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت بڑھے گی بلکہ معیشت میں استحکام بھی پیدا ہوگا،انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مختلف سطحوں پر فنانشل ایجوکیشن کے فروغ اور عوام میں بینکنگ سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ باقاعدہ مالیاتی نظام کا حصہ بن سکیں اور ملکی معیشت مضبوط ہو۔بینک مکرمہ لمیٹڈ کے نمائندے آصف صدیقی نے اسلامی بینکنگ اور مالیاتی نظام (فنانشل بینکنگ) کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکنگ ایک تیزی سے فروغ پانے والا مالیاتی نظام ہے جو شریعت کے اصولوں کے مطابق منافع اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکنگ کا مقصد صرف مالی منافع نہیں بلکہ ایک ایسا شفاف اور منصفانہ نظام قائم کرنا ہے جس میں سود سے پاک سرمایہ کاری کے ذریعے سماجی و معاشی ترقی ممکن بنائی جا سکے،عوام میں فنانشل لٹریسی اور اسلامی بینکنگ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد جدید مالیاتی نظام سے مستفید ہو سکیں،اسلامی بینکنگ کے فروغ سے نہ صرف کاروباری طبقے کو بہتر مواقع ملیں گے بلکہ ملک کی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔





