نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا ویڈیو لنک کے ذریعے اہم اجلاس منعقد ہوا- اجلاس میں پنجاب کی جانب سے سیکرٹری پرائس کنٹرول کموڈٹیز مینجمنٹ ڈاکٹر کرن خورشید ،ڈی جی کموڈٹیز عمران قریشی سمیت دیگر افسران نے شرکت کی -اجلاس میں حالیہ سیلاب کے بعد اشیائے خور و نوش کی قیمتوں ،طلب اور رسد خاص کر ویجیٹیبل اور کوکنگ ائل کی مارکیٹ میں سپلائی اور قیمتوں کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا گیا-

اس موقع پر بیورو اف سٹیٹسٹکس کی جانب سے اشیا خورونوش کی قیمتوں کی جامع رپورٹ بھی پیش کی گئی- اجلاس میں بریفنگ کے دوران سیکرٹری پرائس کنٹرول کموڈٹیز مینجمنٹ ڈاکٹر کرن خورشید نے بتایا کہ پنجاب میں 11 ہزار 900سو37 میٹرک ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں اور شوگر ملوں کی جانب سے گنے کی کرشنگ کا اغاز 15 نومبر سے ہو چکا ہے اور 29 شوگر ملوں نے کرشنگ کا اغاز کر دیا ہے جس سے آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی اور ریٹ بھی مزید کم ہونے کا امکان ہے- سیکرٹری پرائس کنٹرول نے بتایا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں چینی 179 سے لے کر 185 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے اور چینی کی نوٹیفائڈ قیمتوں پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ باقاعدگی سے مانیٹرنگ کر رہا ہے اس ضمن میں 64 ہزار 300 سو 55 چینی منافع خوروں کے خلاف 400 سو 98 مقدمات درج کر کے تین ہزار 800سو 48 کو گرفتار کیا گیا اور 5 کروڑ 64 لاکھ 11 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا- ڈاکٹر کرن خورشید نے بریفنگ کے دوران اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پرائس ایپ کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر صارفین کو اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کے بارے میں اگاہ کیا جاتا ہے جس سے مارکیٹ میں منافع خوری کے خاتمے میں مدد ملے گی






