بلدیاتی نمائندوں کے علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے میئر پشاور حاجی زبیر علی کی کھلی کچہری

سٹی کونسل ہال میں بلدیاتی نمائندوں کے علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے میئر پشاور حاجی زبیر علی نے کھلی کچہری کا انعقاد کیا تھا جس میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید’چیف ٹریفک آفیسر زاہداللہ ‘ ایس پی ایز ‘ ڈی ایس پیز اور پشاور کے بلدیاتی نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کیں اس موقع پر بلدیاتی نمائندوں جس میں تحصیل چیئرمین کلیم اللہ ‘ارباب وصال ‘ محمود الحسن ‘ شہزاد خلیل’ ولی محمد ‘اخونزادہ زاہد ا للہ ‘پرویز وقا ر او ر دیگر بلدیاتی نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے سی سی پی او کو آگاہ کیا اور پشاور کے لیے ڈاکٹر میاں سعید کی خدمات کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔

سٹی کونسل ہال میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے میئر پشاور حاجی زبیر علی نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے پشاور کی تعمیر وترقی میں آپکے ساتھ رضاکارانہ فورس ہے جو دن رات عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں ‘ بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے علاقوں سے جرائم کا خاتمہ ہوسکتاہے ‘کیونکہ اپنے علاقے سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ‘ انہوں نے کہاکہ سی سی پی او ڈاکٹر میلاں سعید کی پشاور کیلئے خدمات کو سراہتے ہیں جنہو ںنے پشاور میں آئس کے خاتمے ‘بندوق کلچر اور دیگر جرائم کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں انہوں نے کہاکہ ادارے مشترکہ جدوجہد کے بغیر نہیں چلتے چاہے لوکل ڈپیارٹمنٹ ہو یاپولیس ڈیپارٹمنٹ ہو تو مشترکہ لیزان کے تحت یہ ادارے چلتے ہیں ‘ ہمارے کچھ رسم ورواج اور پختون رویات ہیںیہاں پر بزنس کمیونٹی ‘اقلیت ‘ مختلف مکتب فکر کے لوگ آباد ہیں اور تقریباایک کروڑ کی آبادی ہیں اورہمارا زیادہ تر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہیں ‘ انہوں نے کہاکہ پشاور جہاں پر سٹریٹ کرائم کی شرح ذیادہ ہے تو پولیس پیٹرولنگ کو بڑھنا چائیے ڈی آر سیزکو ازسر نو فعال ہونا چاہیے ‘ یہ کھلی کچہری رائیگاں نہیں جائیگی بلکہ عوامی مسائل حل ہونگے ‘ جوکوشش سابق سی سی پی او ہارون الرشید کے وقت سے شروع کی تھی امید ہے وہ رائیگاں نہیں جائیگی ‘کوشش کرینگے کہ علاقوں کے زیادہ تر مسائل جرگو ں کے ذ ریعے حل کئے جائے انہوں نے امید ظاہر کیں سی سی پی او پشاور عوامی مسائل حل کرنیکی پوری کوشش کرینگے اوربلدیاتی نمائندوں کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگے۔سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے کھلی کچہر سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پشاور پولیس ہمارے ماتھے کا جومر ہیں آج جس مقصد کبلئے آئے ہیں وہ بتانا چاہتا ہوپولیس عوام’ کے سامنے جواب دہ نہیں ہے بلکہ میں اورمیری پولیس آپکے سامنے جوابدہ ہے’تمام نمائندوں کے شکایات اور مسائل نوٹ کرلیے ہیں وہ حل کرینگے ڈی آار سی کے حوالات سے جو شکایات آرہے ہیں اسکو حل کرینگے ‘ ڈی آر سی میں دوبارہ نمائدوں کا انتخاب کیا جائیگا گا پولیس اور عوام کے تعاو ن سے جرائم ختم ہونگے دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے’ہوائی فا ئرنگ اور منشیات کے خاتمہ میں پولیس کیساتھ تعاون کریں’ آئس کا نشہ کرنے والے اور فروخت کرنے والوں کیساتھ کاروائی میں پولیس کا تعاون۔کریںجرائم پیشہ عناصر کیساتھ راوبط رکھنے والے ایس یچ اوز کو معطل کرینگے ‘ ‘سپریئر سائنس کالج کے اندر چوکی کو تین دن کے اندراندر باہر نکانے کے احکامات جاری کئے انہوں نے کہاکہ اقبال پلازہ کے باہر پولیس کی نفری لگائی جائے اور جرائم میں کوئی بھی شخص ملوث ہواتو اسکے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی ۔۔

جواب دیں

Back to top button