۔۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کے تحفظات! *شوکت کیانی* پیٹرن ان چیف

بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لئے سابق ضلع کونسلز کے ملازمین کی طرز پر اکاونٹ فور کا انتخاب عمل میں لایا جا کر کے پی کے ٹی ایم ایز کی اصلاح اور بہتری کیوں ممکن نہیں؟تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے بجائے واسا پر کیوں زیادہ توجہ مرکوز کی جا دہی ھے واسا والی فنڈنگ ٹی ایم ایز کو کیوں نہیں دی جا کر بہتری لائی جاتی؟

ٹی ایم ایز سرکاری ادارے ہیں کیا حکومت ہاتھ کھڑے کر چکی؟

کیا واسا کے آنے کے بعد عوام سے وصولیاں بڑھیں گی تو نہیں؟

اگر ٹی ایم اے سے زیادہ بہتر سہولیات واسا دے اور عوام پر وصولیوں کا بوجھ نہ بڑھے پھر تو عوام دوست فیصلہ ہے اگر اس کے برعکس ہوتا ہے تو پھر عوام کا پرسان حال کون ہو گا کیونکہ پہلے ھی ڈویژنل ھیڈکوارٹرز کے شہروں میں ایک عشرہ سے یہ نظام ناکامی سے دوچار چلا آ رہا ھے۔بلدیاتی ملازمین تنظیموں کا ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی نہ ھونے پر سخت تحفظات۔ہم عوام اور اداروں کی بہتری چاہتے ہیں،حکام پھر سوچ لیں خیبر پختونخوا کے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن کے تحفظات

اللہ کرے ہری پور کے لیے آسانیاں ہوں،عوامی مشکلات نہ بڑھیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن کے تحفظات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلدیاتی نظام میں ٹی ایم ایز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک منظم سازش کے ذریعے ٹی ایم ایز کو ناکام بنانے کی کامیاب کوششیں ہو رہی ہے تاکہ انگریز کے زمانے سے عوام کو مفت میونسپل سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ عوام کی نظروں میں کمزور ہو جائے چونکہ یہ ادارے خود کماؤ والے تھے اور سرکاری حکومت پر بوجھ بھی نہیں تھے تو اس کی جگہ سالانہ اربوں روپے حکومت سے لینے والی واسا کمپنی بنائی گئی ٹی ایم ایز کیوں کمزور ہوئی اس کی اصل وجوہات کیا ہے نمبر 1 سب سے پہلے وار جو ٹی ایم ایز کے سورس آف انکم پر ہوا تھا وہ چونگی کا خاتمہ تھا نمبر 2 لائسنس فیس نمبر 3 مجسٹریسی پاور واپسی 4 فائر بریگیڈ کا نظام نمبر 5 بی سی اے کا الگ وجود قائم کرنا نمبر 6 پراپرٹی ٹیکس جو کہ ٹی ایم ایز کے بجٹ کا 70 پرسنٹ سالانہ ریوینیو تھا 2020 21 میں اس کو مکمل ختم کیا گیا اور فائنانس کو حکم دیا گیا کہ اس کی جگہ ٹی ایم ایز کو رقوم دے لیکن ایک قسط دینے کے بعد تقریبا تین ارب 80 کروڑ روپیہ پر فائنانس نے پاؤں رکھا اور اس کے بعد سال 2024 میں صوبائی حکومت نے پراپرٹی ٹیکس دو پرسنٹ سے کم کر کے ایک پرسنٹ کر دیا دوسری طرف زیادہ ٹیکسز کی وجہ سے انتقالات بھی بند ہیں جس سے ٹی ایم ایز دیوالیہ ہو رہی ہے نمبر 7 زیادہ تحصیلز میں چونکہ کوئی انکم سورس نہیں ہے وہاں پر بھی ٹی ایم ایز بنائی گئی ہے جو کہ پہلے والی کو بھی دیوالیہ کرنے کا ذریعہ بن گئی 8 لوڈ ان لوڈ ٹیکس 9 یو آئی پی ٹیکس ٹی ایم ایز کے پاس ملازمین ہونے کے باوجود یو ائی پی ٹیکس ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اکٹھا کر رہی ہے لیکن اس میں ٹی ایم ایز کو جو رقوم ادا ہو رہی ہے وہ اٹے میں نمک کے برابر ہے اگر صوبائی حکومت یہ بتا رہی ہے کہ ٹی ایم ایز کام نہیں کر رہی تو پھر تو یہ صوبائی حکومت کی ناکامی ہے کہ گزشتہ تین ادوار سے انہوں نے ایڈمنسٹریشن کو مضبوط کرنے کی بجائے کمپنیاں بنانے پر کیوں توجہ دی ،لہذا صوبائی حکومت سے درخواست ہے کہ ٹی ایم ایز کے سارے ٹیکسز اپنے تحویل میں لے اور ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کو اکاؤنٹ فور یا فائیو میں منتقل کیا جائے تاکہ ہمیں بروقت تنخواہیں اور پنشن مل سکے۔

 

شوکت کیانی پیٹرن ان چیف

لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبر پختون خوا

جواب دیں

Back to top button