مراد علی شاہ کی زیرصدارت اہم اجلاس، سندھ کے لئے1018 ارب روپے کی جامع ترقیاتی حکمتِ عملی کی منظوری

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےمحکمہ منصوبہ بندی و ترقی اور محکمہ خزانہ کے مشترکہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں موجودہ مالی سال کے صوبائی ترقیاتی حکمتِ عملی اور سرمایہ کاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ایک مضبوط اور شمولیتی سندھ کے لیے جامع وژن پیش کیا گیا جس کے تحت مجموعی طور پر 1018 ارب روپے کا ترقیاتی حجم رکھا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیر ورکس حاجی علی حسن زرداری، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ورکس نواز سوہو اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اسٹریٹجک وژن اور انفرا اسٹرکچر کی پائیداری اپنا وژن بیان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’ترقیاتی حکمتِ عملی 26-2025‘‘ عمارتوں، سڑکوں اور رہائش کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر مرکوز ہے۔ انہوں نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کو ہدایت کی کہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو موسمیاتی لچک میں اضافہ کریں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام نئے منصوبے شدید موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو یہ بھی ہدایت کی کہ منصوبہ بندی اور منظوری کے مراحل میں آفات کے خطرات کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی محور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفرا اسٹرکچر، تیز رفتار سیلابی بحالی اور شمولیتی ترقی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ترقی پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کردار ادا کرے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں متاثرہ تعلیمی اور صحت کے اداروں کی بحالی شامل ہوگی جبکہ بہتر رابطہ کاری بڑے شہروں کو جوڑے گی اور شہری مراکز میں ماس ٹرانزٹ نظام کو فروغ دے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غربت میں کمی اور شمولیتی ترقی تمام محکموں میں مشترکہ ترجیح ہونی چاہیے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام26-2025 کی مختص رقم

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ نے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام 26-2025 کے تحت مختلف اہم شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 520 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

سڑکوں کا انفرا اسٹرکچر

اجلاس کو بتایا گیا کہ سڑکوں کے انفرا اسٹرکچر کے لیے 582 ارب روپے کا ایک بڑا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس میں سیلابی بحالی کے تحت اور دیگر بڑے منصوبوں کے ذریعے970 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر اور بحالی شامل ہے، جن میں سندھ کوسٹل ہائی وے بھی شامل ہے۔کراچی کے لیے مخصوص سڑک منصوبوں پر 194 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں شاہراہِ بھٹو کوریڈور، ملیر ندی پل اور مختلف انڈر پاسز اور فلائی اوورز شامل ہیں، جن کا مقصد ٹریفک کے دباؤ میں کمی لانا ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو ہدایت کی کہ کراچی کے اہم سڑک منصوبوں پر کام تیز کیا جائے اور معیار اور مقررہ مدت پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر اور ناقص کام ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام بڑے سڑک منصوبوں، بالخصوص کراچی اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں، جسمانی اور مالی پیش رفت کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔

تعلیم

تعلیم کے شعبے میں340 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے منصوبے کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت سیلاب سے متاثرہ 1600 ثانوی اسکولوں کی تعمیرِ نو، 9 نئے کیڈٹ کالجز کے قیام اور سکھر میں خواتین کی یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کو ہدایت کی کہ سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیرِ نو کا کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ بچے تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ انہوں نے نئی اسکیموں میں بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اسکولوں کی تعمیرِ نو کے متعدد منصوبوں کے ٹینڈر جاری کر دیے گئے ہیں اور ترجیحی اضلاع میں جلد کام شروع ہو جائے گا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ خواتین یونیورسٹی سکھر کا منصوبہ تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

صحت

صحت کے شعبے کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن کے تحت 9 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کی توسیع اور کراچی، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں میڈیکل کالجز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 146.9 ارب روپے بطور گرانٹس اِن ایڈ مختص کیے گئے ہیں تاکہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی)، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز(این آئی سی وی ڈی) اور انڈس اسپتال جیسے اداروں کی آپریشنل کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ یہ ادارے سندھ بھر میں عوام کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرتے رہیں۔ سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ ان کی ہدایات پر گرانٹس اِن ایڈ کو ترجیحی بنیادوں پر جاری کیا جا رہا ہے اور خدمات میں کسی رکاوٹ سے بچنے کے لیے ایک شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔

واٹر، سینیٹیشن اور حفظانِ صحت

واٹر، سینیٹیشن اور حفظانِ صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 930 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے جس میں کراچی کے لیے کے4 واٹر سپلائی منصوبہ (136.9 ارب روپے) اور حب کینال منصوبہ شامل ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پانی، صفائی اور نکاسیٔ آب سے متعلق تمام منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جائے خاص طور پر دیہی اور شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق اسکیموں کی۔ انہوں نے کے فور اور حب کینال منصوبوں پر ماہانہ پیش رفت رپورٹس طلب کیں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کے فور منصوبے پر وفاقی حکومت اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کاری بہتر ہوئی ہے اور اہم اہداف منصوبے کے مطابق حاصل کیے جا رہے ہیں۔

توانائی اور ٹرانسپورٹ

حکمتِ عملی میں توانائی کے شعبے کے لیے 69.97 ارب روپے کا پیکیج شامل ہے جس میں سندھ سولر انرجی منصوبہ شامل ہے جبکہ 155.34 ارب روپے کا ٹرانسپورٹ منصوبہ ریڈ، ییلو اور اورنج لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبوں پر مشتمل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے زیرِ تعمیر ریڈ لائن منصوبے کا خود دورہ کیا تھا جس کے بعد کام کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔انہوں نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ سرکاری عمارتوں اور آف گرڈ علاقوں میں، بالخصوص صحت اور تعلیم کے اداروں میں، سولرائزیشن کے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے۔ انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو بس ریپڈ ٹرانزٹ کوریڈورز کے لیے زمین کے حصول اور منظوریوں میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ محکمہ ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ ان منصوبوں کی خریداری اور عمل درآمد کو تیز کیا جا سکے۔

دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ

سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) منصوبہ صوبائی ایجنڈے کا ایک اہم ستون ہے جس کا مقصد 2022 کے سیلاب سے متاثرہ 21 لاکھ گھروں کی بحالی ہے۔ اب تک 20 لاکھ گھروں کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے اور تقریباً14 لاکھ ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ اس منصوبے سے 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا تخمینہ ہے اور اب تک تقریباً 3 لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق فراہم کیے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ منصوبے کی ٹیم کو ہدایت کی کہ مستحقین کے لیے طریقۂ کار کو مزید آسان بنایا جائے اور کسی بھی اہل خاندان کو دستاویزی مسائل کی وجہ سے محروم نہ رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو زمین کے حقوق کی فراہمی کو ترجیح دی جائے تاکہ انہیں معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔ زیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مضبوط کیا گیا ہے اور موبائل ٹیمیں دور دراز علاقوں میں مستحقین کی سہولت کے لیے کام کر رہی ہیں۔

جدت پر مبنی فنانسنگ اور عالمی شراکت داریاں

وزیراعلیٰ کو کاربن فنانسنگ کے شعبے میں صوبے کی کامیابیوں سے بھی آگاہ کیا گیا، خاص طور پر دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں ’’ڈیلٹا بلیو کاربن‘‘ منصوبے کے حوالے سے، جس سے سالانہ اوسطاً 15 سے 20 ملین ڈالر آمدنی متوقع ہے۔ انہوں نے محکمہ جنگلات اور محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی کہ اس طرح کے منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے اور کاربن آمدنی کو شفاف انداز میں ساحلی تحفظ اور مقامی کمیونٹیز کی ترقی پر خرچ کیا جائے۔مزید بتایا گیا کہ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار فارن پروجیکٹ اسسٹنس کے تحت 1557.65 ارب روپے کی معاونت فراہم کر رہے ہیں جس میں ورلڈ بینک کی شراکت 999.64 ارب روپے اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی شراکت 306.33 ارب روپے ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی تیاری اور عمل درآمد کو بہتر بنایا جائے تاکہ فارن پروجیکٹ اسسٹنس پورٹ فولیو کو طے شدہ مدت میں مکمل طور پر اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی کامیابی

اجلاس میں سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پورٹ فولیو کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں 148 ارب روپے کے مکمل شدہ اور 130 ارب روپے کے جاری منصوبے شامل ہیں جن میں گھوٹکی کندھ کوٹ پل اور دھابیجی انڈسٹریل زون شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں پر کام تیز کیا جائے اور صنعتی انفرا اسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نئے قابلِ عمل منصوبوں کی نشاندہی کی جائے۔ انہیں بتایا گیا کہ متعدد نئے منصوبوں کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز مقرر کیے جا چکے ہیں اور سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار ہے۔اجلاس کے اختتام پر سید مراد علی شاہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام محکموں کو باہمی رابطے سے کام کرنا ہوگا تاکہ 1018 ارب روپے کی ترقیاتی حکمتِ عملی کو عوام بالخصوص سیلاب سے متاثرہ اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی زندگیوں میں عملی اور واضح بہتری میں بدلا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button