دور حاضر میں جمہوری مملکتوں میں مقامی سطح کی حکمرانی کے ذریعہ عوام اپنے روز مرہ کے جملہ رہائشی اور انتظامی مسائل کو بہتر انداز میں بندوبست کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔ان مسائل کا تعلق رہائشی علاقوں میں ضروری خدمات اور سہولیات کی فراہمی سے ہوتا ہے۔جیسے روز مرہ کی صفائی،سالڈ ویسٹ کی مینجمنٹ،پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کی دیکھ بھال اور ابتدائی سطح کی تعلیمی، تفریحی منصوبہ جات کی فراہمی بھی مقامی حکومتوں کے دائرہ کار میں شامل ہوتا ہے۔اگر کسی بھی ملک کی اعلی سطح کی حکمرانی کتنی ہی با کمال ہو۔لیکن عوام کو سارا حکومتی کمال روز مرہ کی مقامی سہولیات کی بہتر فراہمی سے ہی ممکن ہوتا ہے۔–oیہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مہذب اقوام مقامی حکومتوں کے بہترنظام پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔اور چونکہ جمہوریت ہی مہذب دنیا میں بہتر انداز حکومت تصور کی جاتی ہے لہٰذہ ہرسطح کی حکمرانی میں بھی جمہوری انداز ہی پسندیدہ رجحان ہے۔ ہمارے ملک میں بھی آئینی اور قانونی طور پر جمہوری حکمرانی میں مقامی حکومتوں کو اہم اور بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔اور ملک بھر میں مقامی حکومتوں کی شکل میں کئی نوع کے ادارے متحرک ہیں۔میٹروپولیٹن کارپوریشن،میونسپل کارپوریشن،میونسپل کمیٹیاں،ضلع کونسلیں،تحصیل کونسلیں اور یونین مونسلیں /کمیٹیاں اور ویلج کونسلیں غرض کہ پورے ملک میں 20ہزار کے لگ بھگ مقامی حکومتی ادارے متحرک ہیں اور ان کی گورننس میں کئی لاکھ کے لگ بھگ اہل کار (فنکشنریز) بھی متحرک ہیں۔–oدنیا بھر میں اور ہمارے ملک میں بھی مقامی حکومتوں کی رہنمائی اور فیصلہ سازی کے لئے منتخب نمائندوں پر مشتمل کونسلیں متحرک ہیں۔پاکستان کے تین صوبوں میں منتخب لوکل گورنمنٹ متحرک ہیں۔ ماسوائے کوئٹہ شہر کے، بلوچستان بھر میں منتخب لوکل گورنمنٹ ہیں۔ مگر پنجاب میں کہیں بھی نہیں ہے۔اور نہ ہی وفاقی دارلخلافہ ہیں۔باوجو اسکے قانون سازی اور انتخابی تبادلوں کے لوکل گورنمنٹ کے انتخاب مسلسل التوا کا شکار ہیں۔بظاہر معقول جواز بھی نہیں ہے۔محض تکنیکی بنیادوں پر یہ التوا مسلسل چلا آرہا ہے۔صوبہ پنجاب اور اسلام آباد میں چار چار بار انتخابی شیڈول بھی جاری کئے گئے اور واپس لئے گئے۔مطلب الیکشن کمیشن تو تیار تھا مگر حکومتی حمایت دستیاب نہ تھی،حالانکہ حکومت خود بھی منتخب ہے تو پھر کس وجہ سے مقامی حکومتوں کے انتخابات کو طوالت دی جا رہی ہے۔اسلام آباد کے انتخابات تو اس دن ملتوی کئے گئے جس دن امیدواروں کی حتمی فہرست کا اجراء ہونا تھا۔کوئٹہ کے انتخابات عدالتی کاروائی کی بدولت ملتوی ہوئے۔یہ سلسلہ بھی نیا نہیں، پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔پنجاب میں حلقہ ی بندیوں کی نشاندہی کا عمل بھی ابھی جاری ہے۔انتخابی شیڈول اگلے چار ماہ سے پہلے نہیں آ سکتا۔وہ پراسس ہی اتنا وقت لے گا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک بھر میں زیادہ شہروں میں منتخب لوکل گورنمنٹ متحرک ہیں اور سب سے بڑے صوبہ میں نہیں ہے۔یہ لمحہ فکریہ ہے جب آئین پابند کرتا ہے قانون واضح ہے، ضرورت ہے اور جمہوری ادارے مستحکم ہوں گے عوام کو ریلیف ملے گا۔ تو منتخب حکومتوں کے قیام میں رکاوٹ کیا ہے۔–oہماری گزشتہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات کا اعلان ہوتا ہے معاشرے میں سیاسی حرکت میں اضافہ آتا ہے۔ریکارڈ تعداد میں امیدواران سامنے آتے ہیں۔ امیداران کے منشور سامنے آتے ہیں بہتر حکومت کے لئے وعدے وعید ہوتے ہیں۔یہی کلچر عوام کی جمہوری سوچ فکر کو تقویت دیتا ہے۔ہمیں اس انتخابی عمل کے مثبت پہلووں کو سامنے رکھتے ہوئے انتخابی عمل کے شفاف اور جمہوری بنیادوں پر استحکام کی آواز اٹھانا چاہیے۔عوامی شراکت سے مقامی حکومتوں کی کارکردگی ہمیشہ بہتر ہو جاتی ہے اور صرف یہ ہی نہیں ہوتا،عوام کی سیاسی تربیت ہوتی ہے۔وہ ابتدائی سطح کی گورننس میں شریک کار بن جاتے ہیں تو یہ ملکی سیاست میں عوام الناس سے نئے قائدین و رہنماؤں کی دریافت ہوتی ہے۔جو مرکزی سیاسی دھارے میں بھی شامل ہوتے ہیں۔منتخب مقامی حکومتیں پرائمری سطح کی تربیت گاہ بھی ہیں۔ہماری جمہوریہ اور سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ ریاستی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس اہمیت اور فوقیت کا ادارک کرنا چاہیے۔منتخب مقامی حکومتوں کی بدولت مجموعی حکمرانی بہتر بھی ہو گی اور مستحکم بھی ہو گی۔
Read Next
10 گھنٹے ago
چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ حیدر علی چھٹہ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا،احمد بلال مخدوم کی تقرری
2 دن ago
پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو 4 ارب 74 کروڑ 62 لاکھ روپے کا پی ایف سی شیئر اور ماہانہ گرانٹ جاری
4 دن ago
چیف آفیسر ایم سی آلہ آباد وقاص حمید معطل،پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری،سی او منکیرہ سید سروش اقبال کو او ایس ڈی بنا دیا گیا
6 دن ago
With the establishment of PSPA, the way for environment-friendly constructions has been paved, says Zeeshan Rafiq
6 دن ago
ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری کا تمام عمل آن لائن ممکن،پی ایس پی اے منظوری کے بغیر بننے والی سکیموں کو ریگولرائز کرنے کا بھی جائزہ لے گی،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
Related Articles
سُتھرا پنجاب اہم مرحلے میں داخل،ویسٹ ٹو ویلیو میں انرجی، بائیوگیس، فیڈ سٹاک کی پیداوار شامل ہے،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
7 دن ago
پی ڈی پی: لائننگ پائپ کے پلانٹس کی شپمنٹ شروع ہوگئی،پروگرام کا دائرہ کار 200 شہروں تک بڑھایا جائے گا،ذیشان رفیق
1 ہفتہ ago




