اسلام آباد میں پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کاکس کے زیر اہتمام -13 14 جنوری 2026 کو پاکستان میں تین درجہ حکمرانی کے تناظر میں اختیارات منتقلی کے حوالہ سے ایک عالمی سطحی کانفرنس جسے سمٹ ڈویولوشن (Develution Sumitt) کا ٹائٹل دیا گیا ہے ایک خوش آئندہ اور درست سمت کی طرف سے پہلا قدم ہی قرار دیا جا سکتا ہے پنجاب اسمبلی کے رکن جناب احمد اقبال جو اس کاکس کے بھی رہنما ہیں۔مبارکباد کے مستحق ہیں۔موصوف خود بھی ڈسٹرکٹ کونسل نارووال کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ انتہائی تعلیم یافتہ بھی ہیں۔ اور مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری کے فرزند بھی ہیں۔ اس طرح وہ حکمران جماعت کے بھی اہم رکن ہیں۔ چونکہ وہ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ کاکس کے کنوینیر بھی ہیں۔ تو سمجھا جا سکتا ہے کہ انہیں اپوزیشن کے متعلقہ اراکین کی بھی حمایت حاصل ہوگی۔ کیونکہ’کاکس‘ ان کے بغیر تو مکمل نہیں ہوگا۔ اس لیے کانفرنس جسے”سمت“ کہا گیا۔وہ بہت اہم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ نتیجہ خیز ہوگی۔اس میں سول سوسائٹی کو بھی مدعو کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر میں کوشش کرتا ہوں کہ پنجاب میں سول سوسائٹی گروپوں کی گزشتہ کئی سالوں پر مبنی مشاورتی اجلاسوں، کانفرنسوں میں اتفاق رائے سے جو نکات ابھرے،انہیں کانفرنس کے شرکاء کے سامنے ایک بار پھر دہرا دوں۔ تاکہ یہ ریکارڈ میں آسکے کہ وفاقی جمہوریہ پاکستان میں تین درجہ حکمرانی کے تناظر میں سول سوسائٹی کس طرح سوچتی ہے۔ مجوزہ مشاورت کو آپ نے سمت(Sumitt) قرار دیا ہے\ تو اس کا مطلب ہوا کہ اعلٰی سطحی کانفرنس ہے جس میں پالیسی ساز یا فیصلہ کن کردارکے حامل افراد شریک ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں مطلب ہوا کہ کانفرنس میں نتیجہ خیز، ٹھوس تجاویز ہی سامنے آئیں گی۔ آپ نے بجا کہا کہ وفاقی مملکت میں تین سطحی حکومتی درجوں کے تناظر میں اختیارات کو نیچے منتقل کرنے کے بات، سوچ وچار ہی مرکز نقطہ ہوگا۔ آئیے ایک بار پھر دہرا لیں کہ بنیادی ایشوز کیا ہیں؟اول: آئین میں ابہام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تین درجوں کی حکمرانی کا ذکر تو ہے۔ تاہم قدرے ابہام ہے۔ جس کی تشریح از سرنو تحریر کی ضرورت ہے۔ جسے آرٹیکل 7 میں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بعد لوکل اداروں سے مراد مقام حکومتیں ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح عدالت عظمٰی نے پنجاب کے برخاست کیے گئے لوکل گورنمنٹ قانون کو بحال کرتے ہوئے تشریح کی تھی۔ہمارا خیال ہے کہ اگر آئین کا آرٹیکل 7 میں زیادہ واضح انداز میں مقامی حکومتوں کو تیسری سطح کی حکمرانی تسلیم کیا جائے۔ تو پھر مقامی حکومتوں کو اسی طرح آئینی تحفظ مل جائے گا۔ جس طرح وفاق اور صوبائی حکومتوں کو ملتا ہے۔ کہ منتخب نہ ہونے کی شکل میں قائم عبوری مقامی حکومت موجود رہنا آئینی پابندی بن جائے گی۔ جو مقامی حکومتوں کے استحکام اور تسلسل کے لیے بنیادی شرط ہے۔ دوسرے نمبر پر آرٹیکل 32 جو مملکت کے لیے بنیادی اصولوں کو بیان کرتا ہے اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ جہاں لکھا گیا ہے کہ ملک میں مقامی حکومتیں ہوں گی۔ جن میں علاقہ کے منتخب افراد ہوں گے، اور ان میں محنت کشوں اور عورتوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہاں از سر نو تحریر کشی کی ضرورت ہے۔ اسے یوں بیان کیا جائے ”علاقے کے منتخب افراد پر مشتمل مقامی حکومتیں ہوں گی جن میں تمام طبقات اور آبادی میں کمزور اور نظر انداز حصوں کی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی“ یعنی ترمیم کر کے صرف عورتوں اور محنت خوشوں کی بجائے۔جامع(Inclusive) بنانے کی بات ایک اصول کے طور پر تسلیم کی جائے۔کیونکہ پاکستانی معاشرے میں نظر اندازآبادی کے حصے عورتوں محنت کشوں کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر معذور افراد، ٹرانس جینڈر اور مذہبی اقلیتی آبادی بھی ہے۔ مقام حکومتوں میں ان سب کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح آئین میں صوبوں کے اختیار کا ذکر کرتے ہوئے 140-A آرٹیکل میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات کو نیچے منتقل کرنا مفہوم میں واضح نہیں ہے۔ صوبے ان کی تشریح اپنے اپنے انداز اور مفاد کے حوالے سے کرتے ہیں۔اس آرٹیکل کے تحت صوبے مقامی حکومتوں کا قانون تو بناتے ہیں۔مگر اپنے اپنے انداز میں چنانچہ پاکستان کے صوبائی لوکل گورنمنٹ قوانین میں مماثلت کم اور امتیازی فرق زیادہ ہیں۔ اگر آرٹیکل 140-A میں درج جنرل اصلاحات کو مزید واضح بنایا جائے تو ملک میں مقامی حکومتوں میں مماثلت پیدا ہو جائے۔ جو وفاقی جمہوریہ میں تین سطحی حکمرانی کے لیے مددگار ہوگی۔صوبے مقامی حکومتوں کے لیے کنسوزر قانون سازی کا اختیار رکھیں اور مقامی حکومت صوبائی فریم ورک میں ہی کام کر یں، مگر وفاقی مملکت میں تیسرے درجے کی حکومتی شکل اور آرٹیکل 32 اور 140-A ایک مفہوم کے مطابق یوں تشکیل دی جائیں کہ ان میں مماثلت اور یکسانیت بھی نظر آئے۔ کیونکہ ان کا سکوپ اور فنکشن سبھی صوبوں میں ایک جیسے ہوتے ہیں تو انتظامی ڈھانچہ میں بھی یکسانیت و مماثلت ہونا چاہیے۔یہ تو اولین تجویز ہونا چاہیے کہ ملکی آئین میں معمولی سطح کی مگر بنیادی اور اہم ترامیم کی جائیں، جن کی بدولت مقامی حکومتوں کو استحکام ملے گا تسلسل برقرار رہے گا۔ زیادہ جامع نمائندگی یقینی ہوگی اور تیسرے درجے پر حکمرانی جمہوری خطوط پر استوار ہو سکے گی۔ دوم دوسرا مسئلہ سیاسی اختیارات کے حوالے سے ہے۔ یہاں دو بڑے ایشوز ہیں۔اول تو فرائض،ذمہ داریوں اور فنکشنز کے حوالے سے یعنی مقامی حکومت کے دائرہ کار کو صوبائی قوانین میں آئینی فریم ورک کے مطابق میں لایا جائے۔واضح بات ہے سیاسی خود مختاری کیا ہو سکتی ہے کہ وہ وفاقی اور صوبائی دائرہ کار میں سرکاری پالیسیوں کے مطابق مقامی حکومتوں کے لیے انتظامی ڈھانچے ترتیب دیں۔ مقامی حکومتوں کے فنکشنز میں اضافہ کیا جائے مقامی حکومتوں کے اسکوپ میں تمام امور کو ان کے توسط سے سر انجام دیا جائے۔ تمام ترقیاتی اداروں، اتھارٹیاں مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں شامل ہوں۔صرف میونسپل ذمہ داریاں نہیں،بلکہ لوکل ٹرانسپورٹ بشمول ماس ٹرانزٹ سسٹم،ٹاؤن پلاننگ،کمرشلائزیشن،پانی کی فراہمی، ٹریفک مینجمنٹ،سڑکوں کی دیکھ بھال، تعمیر و ترقی، بنیادی تعلیم،پرائمری سکولز تعلیمی بالغاں،ووکیشنل تعلیم اور تربیت گونگے بہروں اندھوں کی تعلیم وتربیت، بنیادی صحت مراکز، سوشل ویلفیئر،بہبود آبادی، کھیلوں تفریح سرگرمیاں مقامی حکومتوں کے دائرہ کار میں ہوں۔ ابھی پنجاب میں 10 شعبے ہیں۔ ان میں تین کا اضافہ کیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں بھی 10 شعبوں کو مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں لایا جائے۔سندھ اور بلوچستان میں بھی یکساں نوعیت کے اقدامات کیے جائیں۔مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں اضافہ کیا جائے گا، تو صوبوں میں اندرونی بے ہنگم مائیگریشن میں ٹھہراؤ آئے گا۔دوسرے لفظوں میں دور دراز علاقوں میں نئے امکانات پیدا ہوں گے جن کی بدولت ملازمت کے مواقع بڑھیں گے۔ اس طرح بڑے شہروں میں آبادی کا دباؤ ضرورت سے زیادہ بڑھنے کا رجحان کم ہوگا۔ جو میٹروپولیٹن شہروں کی بہتر مینجمنٹ میں مددگار ثابت ہوگا۔مقامی حکومتوں میں منتخب افراد پر مشتمل کونسلوں کے ساتھ اور سرکاری مشینری میں لاکھوں اہلکار ہوتے ہیں ان کے لیے لوکل گورنمنٹ سروس کیڈر تو موجود ہے مگر اس سروس کیڈر کو ریگولائز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے الگ سروس رولز اور ڈسپلن قائم کیا جائے۔ صوبائی اور وفاقی سروس کی طرح لوکل گورنمنٹ سروس سٹرکچر الگ اور جداگانہ شکل میں استوار کیا جائے۔ ریکروٹمنٹ سے لے کر پینشن تک الگ رولز ہونا چاہیں۔صوبائی محتسب کی طرح ضلعی محتسب کا دفتر بھی قائم کیا جانا چاہیے جو مقامی حکومتوں اور شہریوں کے تنازعات کو طے کر سکے۔ دنیا بھر میں اور پاکستان بھر میں لا اینڈ آرڈر کو قائم کرنے اور قدرتی آفات کا بہتر سامنا کرنے میں مقامی حکومتوں کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس حوالہ سے قانونی شکل کو واضح بنایا جائے۔ مقامی سطح پر شہریوں اور پولیس کے مابین شہری کمیٹیاں یا شہری کمیشن بنائے جائیں۔تو لا انفورسمنٹ اور عوام کے مابین بہتر شراکت داری پروان چڑے گی۔ شکایات کم ہوں گی یا ان کا تدارک بآسانی یا سہل انداز میں ہو سکے گا۔ ہمارے ملک میں مارکیٹ اکانومی تو ہے مگر سرکاری ہدایت اور کنٹرول میں فری مارکیٹ اکانومی فعال نہیں ہے۔بلکہ اپ ہر بڑے سٹور پر ایک ڈی سی ریٹ والا کاؤنٹر دیکھیں گے جو سرکاری قیمتوں کے ساتھ نسبتا کم معیار کی اشیاء فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ باقی شہر بھرے پڑے ہیں۔ دنیا بھر کی مصنوعات میں من مرضی کی قیمتوں کے ساتھ یہ صرف اس لیے ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں فری مارکیٹ اکانومی کے اصولوں پر موجود نہیں ہیں۔ دو قسم کی معاشیات جاری ہیں۔ سرکاری کنٹرول کے ساتھ ایمرجنسی، خوراک کے اہم اجزاء تو و سرکاری سطح پر ہی کنٹرول ہوتے ہیں۔مگر دیگر اشیائے ضروریات دوسری طرح گردش میں ہیں۔ جو ایک معنی میں پبلک مارکیٹ کے ضمن میں بھی آتی ہیں۔ یہ سارے فنکشنز کو واضح قانون کی شکل میں مقامی حکومتوں کے دائرہ کار میں لایا جائے۔ مقامی حکومتوں کی روزمرہ فعالیت میں عام رہائشی افراد کی شراکت داری کو باقاعدہ قانونی تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس اگر ٹھوس نتیجہ چاہتی ہے تو مقامی حکومتوں کے فنکشنز میں وسعت اور شہریوں کی عملی شراکت داری پر فوکس کردہ تجاویزسامنے لائیں۔سوم: ایک بنیادی اہمیت کا سوال ہے مالیاتی خود مختاری میں اضافہ کرتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں مقامی حکومتیں ریوینیو کی محدودیت اور بے پناہ اخراجات کے بوجھ تلے ہیں۔ ان کا سارا دارومدار صوبائی اور وفاقی گرانٹ پر ہے۔ ان کے اپنے ٹیکس کے اختیارات اور سکوپ انتہائی محدود ہے۔ اس مالیاتی وسعت نگری میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مقامی حکومتوں کے لیے ٹیکس اور محصولات کی ایک کی الگ فہرست ہونا چاہیے۔دنیا کے کئی ممالک میں جو انکم ٹیکس شہری علاقوں سے جمع ہوتا ہے اس کا ایک حصہ واپس مقامی حکومتوں کو جاتا ہے۔ انڈین آئین میں مقامی حکومتوں کے ٹیکس کے اختیارات بھی درج ہیں۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ ہاؤس ٹیکس، سڑکوں پر ٹول ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس، ٹاؤن پلاننگ اور تعمیر و ترقی کا ٹیکس اور لیوی لازمی طور پر مقامی حکومتوں کے اختیار میں دیا جائے۔ جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی میں ایک حصہ مقامی حکومتوں کو ٹرانسفر کیا جانا چاہیے۔ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا 25 فیصد لازمی مقامی حکومتوں کو منتقل کیا جانا چاہیے۔وہیکلز رجسٹریشن، ٹول ٹیکس صوبائی حکومت وصول کرتی ہیں۔ مگر ان میں موٹرسائیکل رکشہ اور مال بردار رکشہ جات، چنگ چی وغیرہ تمام تمام دو ویل اور تین ویل والی وہیکلز کی رجسٹریشن اور سالانہ ٹیکس مقامی حکومتوں کے ریونیو میں شامل کیا جائے۔ مارکیٹ کمیٹیوں کی تمام تر آمدن بھی مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں دی جائیں۔تو ریوینیو میں معقول اضافہ ہوگا، جو مقامی حکومتوں کی خود مختاری اور بہتری کے لیے مناسب حکمت عملی ہوگا۔مقامی حکومتوں کے انتخابات میں بہت تواتر اور تسلسل موجود تھا تھا جب صوبائی الیکشن اتھارٹیاں موجود تھیں،الیکشن کمیشن اف پاکستان کا اپنا انفراسٹرکچر محدود ہے۔ووٹ رجسٹریشن سے لے کے انتخابات کے انعقاد تک الیکشن کمیشن کو صوبائی اور مقامی حکومتوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اور اسی ضرورت کی بدولت نگرانی اور کنٹرول پر کمپرومائز کرنے پڑتے ہیں۔ مثال لیں کہ حلقہ بندیاں تو الیکشن کمیشن کاکام ہے مگر عملی طور پر صوبائی حکومتوں کے ملازمین بھی حلقہ بندیاں کرتے ہیں۔ تاہم یہ کانفرنس آئین کے آرٹیکل 206 کے مطابق ہر قسم کے انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے منعقد کرانے پر زور دے۔ ماسوائے صوبہ کے وزیراعلی اور وزیراعظم کے انتخابات۔تاکہ انتخابات کے عمل میں شفافیت بھی برقرار رکھی جا سکے اور ووٹ کا تقدس بھی مجروح نہ ہو۔ ووٹ دینا ہر ووٹر کا بنیادی حق ہے اس کا استعمال دباؤ اور ترغیب کے بغیر صرف اور صرف خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ شو آف ہینڈ یا ہاؤس منقسم کر کے کھلے بند وں انتخابی قواعد کے آرٹیکل 206 کے تحت لایا جائے۔یہ کانفرنس یہ بھی تجویز کرے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 209 کا اطلاق لوکل گورنمنٹ انتخابات پربھی کیا جائے اور سیاسی جماعتوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ انتخابی امیدواروں میں جنرل نشستوں پر کم از کم پانچ فیصد خواتین کو بھی ٹکٹ جاری کریں۔ چونکہ یہ کانفرنس اعلی سطحی سرکاری مشاورت ہے لہذا ضروری ہے کہ چھوٹے اور ثانوی ایشوز پر توجہ فوکس کرنے کی بجائے وفاقی سطح پر یکساں پالیسی سازی کو ہی بنیادی رخ دیا جائے اور ملکی آئین میں ایسی ترا میم کے لیے تجاویز دی جائیں۔جس سے آئین کا بنیادی فریم ورک قائم کیے ہوئے مقامی حکومتوں کو استحکام اور جمہوری پہلو مضبوط ہو سکیں امید ہے اپ کانفرنس کے شرکاء ہماری گزارشات پر غور فرمائیں گے
Read Next
7 گھنٹے ago
چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ حیدر علی چھٹہ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا،احمد بلال مخدوم کی تقرری
2 دن ago
پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو 4 ارب 74 کروڑ 62 لاکھ روپے کا پی ایف سی شیئر اور ماہانہ گرانٹ جاری
3 دن ago
چیف آفیسر ایم سی آلہ آباد وقاص حمید معطل،پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری،سی او منکیرہ سید سروش اقبال کو او ایس ڈی بنا دیا گیا
6 دن ago
With the establishment of PSPA, the way for environment-friendly constructions has been paved, says Zeeshan Rafiq
6 دن ago
ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری کا تمام عمل آن لائن ممکن،پی ایس پی اے منظوری کے بغیر بننے والی سکیموں کو ریگولرائز کرنے کا بھی جائزہ لے گی،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
Related Articles
سُتھرا پنجاب اہم مرحلے میں داخل،ویسٹ ٹو ویلیو میں انرجی، بائیوگیس، فیڈ سٹاک کی پیداوار شامل ہے،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
7 دن ago
پی ڈی پی: لائننگ پائپ کے پلانٹس کی شپمنٹ شروع ہوگئی،پروگرام کا دائرہ کار 200 شہروں تک بڑھایا جائے گا،ذیشان رفیق
1 ہفتہ ago




