*وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت ضلعی ترقیاتی پروگرام پر جائزہ اجلاس،صوبائی بجٹ میں 55 ارب روپے مختص*

وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام (سنہ 26-2025) کا جائزہ لیا جس میں انہوں نے اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی فیصلے کیے۔اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی ناصر شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ، سیکریٹری وزیرِاعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔سندھ حکومت نے مالی سال 2025-26 کے صوبائی بجٹ میں ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے منصوبوں کے لیے 55 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ وزیرِاعلیٰ سندھ کی ہدایت پر محکمہ منصوبہ بندی و ترقی نے جولائی میں دو اجلاس منعقد کیے تھے جن میں محکمہ خزانہ سے رہنما اصول، فنڈز کے اجراء کی حکمتِ عملی اور سنہ 2007 کے صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت فنڈز کی تقسیم کے بارے میں تجاویز لی گئیں۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ طے پایا کہ ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے لیے موجودہ طریقہ کار کو برقرار رکھا جائے گا جب کہ اس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔فنڈز کی تقسیم کو متوازن بنانے کے لیے وزیرِاعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ 80 فی صد فنڈز جاری منصوبوں اور 20 فی صد نئے منصوبوں کے لیے مختص ہوں گے۔ کسی بھی منصوبے کی کم سے کم منظوری کی حد 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ حد ضلعی ترقیاتی کمیٹیوں کے لیے 4 کروڑ روپے اور ضلعی ترقیاتی بورڈز کے لیے 6 کروڑ روپے ہوگی۔

وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ اپنے اپنے اضلاع میں ڈپٹی کمشنر ترقیاتی منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کریں گے۔ منصوبے اُن اداروں کے ذریعے تیار کیے جائیں گے جنہیں مخصوص کاموں کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور ان کی منظوری ضلعی ترقیاتی کمیٹیوں یا ضلعی ترقیاتی بورڈز سے لی جائے گی۔ وزیرِاعلیٰ نے ہدایت کی کہ تکرار سے بچنے کے لیے متعلقہ ادارے اور بلدیاتی ادارے یہ تصدیق کریں کہ مجوزہ منصوبے گزشتہ تین برسوں میں مکمل یا جاری منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں۔مراد علی شاہ نے زور دیا کہ ضلعی سطح پر متعلقہ شعبوں کی ملکیت کو یقینی بنایا جائے اور ہر منصوبے کی لاگت کا کم از کم 50 فی صد موجودہ مالی سال میں مختص کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے منصوبے ممکنہ حد تک ایک سال میں مکمل کیے جائیں اور صرف مضبوط جواز کی بنیاد پر ہی استثنا دیا جائے۔وزیرِاعلیٰ نے مزید فیصلہ کیا کہ فنڈز کی تقسیم میں ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل کو دی جائے۔ کسی بھی منصوبے میں نظرثانی یا دوبارہ نظرثانی کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان خصوصی حالات کے جن میں اخراجات بڑھ جائیں یا ضروری اجزاء شامل نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں کا تھرو فارورڈ دو سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ کوئی ایسا نیا منصوبہ نہ بنایا جائے جس کےلیے سو فی صد رقم اسی سال مختص کی جائے تاہم خصوصی صورتوں میں یہ مدت دو سال تک ہو سکتی ہے۔ جاری منصوبوں کے فنڈز دو مساوی قسطوں میں اور نئے منصوبوں کے فنڈز چار مساوی قسطوں میں جاری کیے جائیں گے بشرطیکہ پہلے جاری کیے گئے فنڈز کا 60 فی صد استعمال ہو چکا ہو۔وزیرِاعلیٰ نے زور دیا کہ ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے فنڈز مؤثر طور پر استعمال کیے جائیں، جاری منصوبوں کی تکمیل پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے اور اس سارے عمل میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button