*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی عالمی بینک کے رینجنل نائب صدر کے ساتھ اسٹریٹجک مشاورت*

ایک اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک مشاورت کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جنوبی ایشیا کے لیے عالمی بینک کے ریجنل نائب صدر (مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پروگرام) عثمان دیونے سے ملاقات کی جس میں صوبے بھر میں جاری اور آئندہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ان پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں عالمی بینک کے صدر کے متوقع دورے کی حتمی تیاریوں، پانی کے بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پیش رفت پر خصوصی توجہ دی گئی۔تبادلۂ خیال کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کی ترجیحات اور اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی ساختی اصلاحات کے لیے پرعزم ہیں جو ہمارے عوام کے لیے حقیقی اور قابلِ پیمائش نتائج فراہم کریں۔ عالمی بینک کے ساتھ ہماری شراکت داری پانی کی فراہمی میں بہتری، بچوں میں غذائی قلت میں کمی اور سماجی تحفظ کے دائرۂ کار میں توسیع کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے تاکہ ترقی کے فوائد سندھ کی کمزور ترین آبادی تک پہنچ سکیں۔مسٹر عثمان دیونے نے صوبے کے ساتھ عالمی بینک کے طویل المدتی عزم کی توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عالمی بینک کے لیے سندھ ایک اہم شراکت دار ہے۔ ہم شہری اور دیہی علاقوں میں محفوظ پینے کے پانی، ماں اور بچے کی بہتر صحت اور غریب خاندانوں کے لیے مضبوط حفاظتی نیٹ ورکس جیسے اہداف کو عملی نتائج میں بدلنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے ریجنل نائب صدر عثمان دیونے نے سندھ کے لیے کثیر ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کے پورٹ فولیو کا جائزہ لیا۔ملاقات میں ساختی اصلاحات اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے مؤثر نفاذ کے مشترکہ عزم پر زور دیا گیا جس کا مجموعی مقصد جامع، لچکدار اور موسمیاتی لحاظ سے دانشمندانہ ترقی کا حصول ہے۔ملاقات میں مندرجہ ذیل منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا

*کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (پانی اور سیوریج)*

ملاقات میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ کے دونوں مراحل کا جائزہ لیا گیا۔ پہلا مرحلہ جون 2026 تک تکمیل کے قریب ہے جبکہ انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے 77 فیصد فنڈز پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں۔ دوسرا مرحلہ جس کی لاگت 1.2 ارب ڈالر ہے محفوظ طریقے سے منظم پانی کی خدمات اور کے فور آبی منصوبے کی توسیع پر مرکوز ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں پانی اور سیوریج کی اصلاحات محض بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کی عزتِ نفس اور صحتِ عامہ سے جڑی ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ اور کے فور کی توسیع کے ذریعے ہمارا ہدف شہر کے ہر گھر کو قابلِ اعتماد اور محفوظ پانی فراہم کرنا ہے۔مسٹر دیونے نے کہا کہ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور اس کے پانی و صفائی کے مسائل پیچیدہ ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ہم عالمی سطح کی بہترین عملی مثالیں اور مالی وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ سندھ حکومت کے جدید، مؤثر اور مالی طور پر پائیدار آبی ادارے کے وژن کی حمایت کی جا سکے۔

*اسٹارز واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائجین:*

دیہی علاقوں میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کو پانی کے معیار میں بہتری اور کھلے میں رفعِ حاجت کے خاتمے کے لیے اعلیٰ ترجیح قرار دیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیہی سندھ میں محفوظ پانی اور صفائی ہماری انسانی ترقی کی حکمتِ عملی کی بنیاد ہیں۔ اسٹارز واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائجین کے ذریعے ہم چاہتے ہیں کہ دیہات میں صاف پانی، مناسب صفائی اور حفظانِ صحت سے آگاہی میسر ہو تاکہ قابلِ تدارک بیماریوں میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔مسٹر دیونے نے اس توجہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت میں سرمایہ کاری ترقی کے شعبے میں بلند ترین منافع دیتی ہے۔ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بچے صحت مند نشوونما پائیں، باقاعدگی سے اسکول جائیں اور اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔

*سماجی تحفظ*

ملاقات میں بتایا گیا کہ سماجی تحفظ کے لیے فنڈز کی ادائیگیاں بڑھ کر 58.31 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جن میں ماں اور بچے کے معاونتی پروگرام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کمزور خاندانوں کے تحفظ میں سماجی تحفظ کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماں اور بچے کا معاونتی پروگرام خاندانوں کو صحت کے بحران یا آمدنی میں کمی کے باعث مزید غربت میں جانے سے بچانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ نقد معاونت کو صحت اور غذائیت کی خدمات سے منسلک کر کے ہم ایک زیادہ مضبوط اور جامع سماجی حفاظتی نظام تشکیل دے رہے ہیں۔مسٹر دیونے نے مربوط نظامِ ترسیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موثر سماجی تحفظ کے لیے مضبوط ڈیٹا، درست ہدف بندی اور محکموں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ ہم سندھ کے ساتھ مل کر ایسے نظام قائم کرتے رہیں گے جو شفاف، جوابدہ اور شہریوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ملاقات میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی۔ عالمی بینک کے وفد میں کنٹری ڈائریکٹر مس بولورما امگابازر، ریجنل پریکٹس ڈائریکٹر مسٹر سندیپ مہاجن اور آپریشنز منیجر مسٹر گیلیئس جے ڈراگیلس شامل تھے۔ سندھ حکومت کی نمائندگی وزرائے بلدیات، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اور آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر حکام نے کی۔تبادلۂ خیال کے دوران عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا، خریداری اور فنڈز کے اجرا کو تیز کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا اور ہر بڑے منصوبے کے لیے واضح ٹائم لائنز اور ذمہ داریاں طے کی گئیں۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ محض معاہدوں پر دستخط کا معاملہ نہیں بلکہ عملی نفاذ کا ہے۔ ہم نے عملدرآمد کو تیز کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کیا ہے تاکہ سندھ کے عوام اپنی روزمرہ زندگی میں ان منصوبوں کے اثرات محسوس کر سکیں۔”مسٹر دیونے نے بھی اسی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کی گفتگو عملی اور حل پر مبنی رہی۔ جیسے جیسے ہم نیشنل کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک ورکشاپ کی جانب بڑھ رہے ہیں، ہم اس رفتار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہر سرمایہ کاری سندھ کے عوام کے لیے بہتر خدمات اور مواقع میں ڈھل سکے۔

جواب دیں

Back to top button