ڈی سی آفس لاہور میں بسنت مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم،فری سیفٹی راڈز کی تقسیم جاری ہے،کمشنر لاہور مریم خان

کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان نے ضلع لاہور میں "محفوظ بسنت” انتظامات کے حوالے سے تمام انتظامی محکموں کو ہدایات جاری کیں۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ 6 تا 8 فروری بسنت کے دوران تمام محکمے ضلعی انتظامیہ و پولیس کے معاون کار ہونگے، ڈی سی آفس لاہور میں بسنت مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بسنت زونز کے مطابق بجلی تاروں کو محفوظ بنانے کیلئے لیسکو ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کرے، 1122 ریسکیو پلان تیار کرے تمام پہلووں کا احاطہ ہونا چاہئے۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ تمام انتظامی محکمے، وفاقی محکمے بسنت کے دوران ہائی الرٹ پر ہونگے، تمام محکمے راؤنڈ دی کلاک ڈیوٹی اور ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا محفوظ بسنت کیلئے مثبت کردار ادا کررہا ہے ضلعی انتظامیہ شہریوں کو بسنت قوانین سے بھی آگاہ کرے۔کمشنرلاہورڈویژن مریم خان کی زیر صدارت ضلع لاہور کی حدود میں”محفوظ بسنت“ انتظامات کے حوالے سے تمام انتظامی محکموں کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محفوظ بسنت کیلئے قبل از بسنت اور دوران بسنت محکموں کے فرائض کا جائزہ لیا گیا۔ بسنت انتظامات کیلئے فرائض سرانجام دینے والے تمام محکموں کے افسران نے بریفنگ دی۔ انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیرا فورس اور سول ڈیفنس اہلکار بھی بسنت کے دوران فرائض سرانجام دیں گے، شہر میں 100 روڈ سیفٹی کیمپس سے روزانہ 50ہزار تا 60ہزار موٹر سائیکلز پر سیفٹی راڈز لگیں گے۔کمشنر لاہور نے کہا کہ صرف لاہور ضلع کی حدود میں تین روزہ ”محفوظ بسنت“6,7,8 فروری 2026, ہوگی، 6فروری 2026 سے پہلے ضلع لاہور میں پتنگ بازی کی قطعا اجازت نہیں، لاہور میں اس وقت پتنگ بازی پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں روڈ سیفٹی کیمپس سے موٹر بائیکس کیلئے فری سیفٹی راڈز تقسیم جاری ہے، کائٹ فلائنگ آرڈینینس 2025کے تحت موٹرسائیکل سوار سیفٹی وائرز/راڈز لگانے کے پابند ہونگے، شہری بسنت کو محفوظ بنانے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔اجلاس میں ڈی سی لاہور کیپٹن ر علی اعجاز، سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید، ایڈیشنل کمشنر حامد محمود ملہی، ایس پی سکیورٹی محمد توحید، اے ڈی جی پی ایچ اے ذیشان رانجھا، سمیت ریسکیو، لیسکو، سوئی گیس، ہائر ایجوکیشن، ٹرانسپورٹ، ماحولیات، پیرا فورس، والڈ سٹی اتھارٹی، سکولز، سول ڈیفنس و دیگر محکموں نے شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button