محمد سہیل آفریدی نے وگرنسی (گداگری) کنٹرول اینڈ ریہیبلیٹیشن بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی

عمران خان کے ویلفیئر اسٹیٹ ویژن کے تحت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وگرنسی (گداگری) کنٹرول اینڈ ریہیبلیٹیشن بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نیا وگرنسی بل منظم، جبری اور استحصالی بھیک کے خلاف واضح اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنائے گا۔ حکومت بھیک کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے حقوق پر مبنی، اصلاحی اور انسانی وقار پر قائم پالیسی اختیار کر رہی ہے، جس کا مقصد سزا کے ساتھ ساتھ بحالی اور آفٹر کیئر کا مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔بچوں کو بھیک پر لگانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ بچوں کو بھیک سے نکال کر تحفظ، بحالی اور تعلیم فراہم کرنا حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

مجوزہ نئے قانون کیمطابق:🔸منظم اور جبری بھیک کو قابلِ سزا سنگین جرم قرار دیتا ہے🔸بھیک کو پیشہ بنانے والوں اور مجبوری کے شکار افراد کے درمیان واضح فرق کرتا ہے🔸بحالی مراکز، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع کے ذریعے مستقل حل فراہم کرتا ہے

وزیراعلیٰ کو بریفننگ میں بتایا گیا کہ:🔹 سادہ بھیک پر پہلی بار وارننگ یا بحالی مرکز بھیجنے / ایک ماہ قید و جرمانہ تجویز

🔹بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ🔹فراڈ، دھوکہ دہی اور جعلی معذوری پر ایک سے دو سال قید🔹منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کیلئے تین سال تک قید اور چار لاکھ روپے جرمانہ🔹بھیک مافیا کے سرغنوں اور سہولت کاروں کیلئے سخت ترین سزائیں شامل ہیں۔خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے جو بھیک جیسے سنگین سماجی مسئلے کا جامع، پائیدار اور انسانی حل متعارف کرا رہا ہے۔وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ خیرات منظم نیٹ ورکس کو دینے کے بجائے مستند بحالی نظام کے ذریعے مستحقین تک پہنچائیں، تاکہ استحصال کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

Back to top button