خیبرپختونخوا،11فروری کو مذاکرات کی ناکامی یا وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی منسوخی پر 13 فروری سے احتجاجی دھرنے کا آغاز ہوگا،حمایت اللہ مایار

خیبرپختونخوا میں مفلوج بلدیاتی نظام کے فعالیت، گزشتہ چار سالوں سے خیبرپختونخوا حکومت کیطرف سے مقامی حکومتوں کیساتھ ناروا بدترین ظلم کیخلاف اور پی ٹی آئی صوبائی حکومت کیطرف سے بار بار وعدے کرنے کے باوجود عمل درآمد نا کرنے کیخلاف لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے زیر قیادت بلدیاتی نمائندوں کے احتجاج میں شدید تیزی، مختلف اضلاع کے لیے قائم کمیٹیوں کے دورے مکمل بلدیاتی نمائندوں کیطرف سے ہر حال میں پشاور دھرنے میں شرکت کی یقین دہانی۔ واضح رہے لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے 11 فروری سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا مگر صوبائی حکومت کیطرف سے 11 فروری کو مذاکرات کی دعوت کے بعد لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے بھی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو 11 فروری کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے 11 فروری کو ملاقات نا ہونے یا خدانخواستہ مذاکرات کی ناکامی پر دونوں صورتوں میں 13 فروری 2026 کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے کا اغاز ہوگا۔

صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا مئیر مردان حمایت اللہ مایار کا خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے صوبہ بھر کے بلدیاتی نمایندے، سیاسی جماعتوں کے قائدین، کارکن و عوام 13 فروری کو صبح 12 بجے جناح پارک پشاور پنچنے کی ہدایت کی ہے حمایت اللہ مایار کے مطابق 13 فروری دن 12 بجے تک جناح پارک پنچنے کے بعد دن ساڑھے بارہ بجے خیبرپختونخوا اسمبلی چوک میں احتجاجی دھرنا شروع ہوگا۔ صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا مئیر مردان حمایت اللہ مایار کا صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں کو بستروں کیساتھ پشاور انے کی اپیل۔ حمایت اللہ مایار کے مطابق صوبائی حکومت گزشتہ چار سالوں سے وعدے کرکے مکر جاتی ہے مگر اس دفعہ نا صرف مطالبات منواتے بلکہ عملی اقدامات پر عملدرآمد کرنے کے بعد ہی دھرنا ختم ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button