*ہمیں نئی آئینی ترامیم لانا ہو گی اس کے بغیر مقامی حکومتوں کی بے اختیاری ختم نہیں ہو سکتی* تحریر: زاہد اسلام

ایک بار پھر ملک بھر میں مقامی حکومتوں کو با اختیار بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔پاکستان بھر کی سیاسی جماعتیں بظاہر متفق نظر آتی ہیں۔کہ ملک بھر میں مقامی حکومتوں کے اختیارات میں نہ صرف اضافہ کیا جانا چاہیے بلکہ ان کا دائرہ کار اور حکمرانی کے سکوپ میں وسعت بھی لائی جائے۔ اور ملک کی دو صوبائی اسمبلیوں میں متفقہ قرار دادیں اور ایک اعلی سطحی کانفرنس میں بھی ایسی ہی باتیں دھرائی گئیں۔مگر اصل سوال یہ ہے کہ با اختیار مقامی حکومتوں کا عمل تصور کیا جاتا ہے۔کسی ایک سیاسی جماعت نے یا پالیسی ساز وں نے اس کی طرف نہ تو کوئی بات کی ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس بلیو پرنٹ سامنے آیا ہے۔ابھی حال ہی میں ایک تجویز یہ آئی کہ وفاق پاکستان میں مزید صوبے بطور انتظامی یونٹ بنا دئیے جائیں۔کراچی میں ایک سیمینار کے دوران یہ تجاویز سامنے آئیں جبکہ ماضی میں اس طرح کی تحاریک بھی رہی ہیں۔ہزارہ صوبہ تحریک،پختونستان تحریک اور سرائیکی صوبہ تحریک کے ساتھ ساتھ کراچی کے لئے بھی ایک خصوصی سٹیٹس کا مطالبہ رہا ہے۔کیا اس طرح کے اقدامات سے اختیارات کو نیچے منتقل ہونے کا عمل مضبوط ہو گا کہ مرکوزیت نمودار ہو گی۔یہ ہے اصل سوال جس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔وفاقی مملکت میں تین درجاتی حکمرانی ہی اگر صحیح جمہوری انداز میں ممکن بنائی جا سکے تو نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔کیسے ممکن ہے اس پر دیکھتے ہیں وفاق اور صوبہ تعلقات کی بنیاد اختیارات اور وسائل کی تقسیم پر مبنی فارمولا پر رکھی گئی ہے۔کچھ امور جو مرکزی سطح پر ہی احسن طور پر سر انجام دئیے جا سکتے ہیں وہ وفاقی سبجیکٹ ہیں اور کچھ امور صوبائی دائرہ اختیار میں ہیں مقامی حکومتیں صوبائی دائرہ اختیار میں کام کرتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں کچھ صوبائی امور جن کا تعلق عوام کی روز مرہ معاشرت سے ہوتا ہے اس کی مینجمنٹ اور عمل درآمد مقامی حکومتوں کا دائرہ اختیار ہوتا ہے۔ایک جمہور ی وفاق میں طے شدہ اختیار حکمرانی ہی پسندیدہ اور عوام دوست طریقہ حکومت ہوتا ہے۔جس سے نہ تو متوازی پن پیدا ہوتا ہے۔اور نہ ہی کوئی تضاد ابھرتا ہے یعنی یکجہتی اور ہم آہنگی مضبوط ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح اگر صوبہ اور مقامی حکومتوں کے مابین تقسیم اختیارات وسائل کو واضح طور پر غیر مبہم انداز میں طے کر لیا جائے تو بہتر حکومت(Good Governance) کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔یہ تو ایک جنرل اصول کی بات ہے اور یہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔صوبہ مقامی حکومت میں محاز آرائی کی مصنوعی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے۔نتیجتا مقامی حکومتوں کو فعال متحرک ہی نہیں کیا جاتا۔ایسا کسی ایک صوبہ میں نہیں ہو رہا،بلکہ سارے صوبوں اور ملحقہ گلگت بلتستان و آزاد جموں کشمیر میں بھی رائج الوقت پریکٹس یہی ہے کہ مقامی حکومتوں کا دائرہ اختیار روز بروز محدود کیا جا رہا ہے نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ بہتر حکومت سے دوری ہو رہی ہے۔اس کیفیت کو الٹ کرنے کی ضرورت ہے تب ہی مقامی حکومتوں کو تقویت ملے گی۔سادہ لفظوں میں صوبہ مقامی حکومت تقسیم اختیارات اور اسی حساب سے وسائل کی تقسیم کا فارمولا وضع کرنے کی ضرورت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ کہ روز مرہ زندگی کی ضرورت کی بہتر اور مناسب مینجمنٹ کے توسط سے ہی ممکن ہے۔ان موضوعات میں پانی کی فراہمی۔نکاسی آب،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ،صفائی ستھرائی،سینی ٹیشن تو لازمی طور پرمقامی حکومت کا دائرہ کار میں شامل ہوں۔پھر بلڈنگ کنٹرول،تہہ بازاری،رہائشی آبادیوں میں سڑکوں گلیوں پلوں کی تعمیر و دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ تفریحی سرگرمیاں،پارک باغات،شجرکاری،ٹریفک مینجمنٹ،سماجی بہبود،پاپولیشن ویلفیئر،کھیل ثقافت،ابتدائی تعلیم،ابتدائی صحت اور پبلک ہیلتھ کے شعبے بھی مقامی حکومت کے فنکشن میں آتے ہیں۔اسی طرح تعمیر ترقی اور ہاوسنگ کے شعبے جات بھی مقامی حکومت کا دائرہ کار ہیں۔کیٹل فارمنگ،ڈیری مصنوعات سازی اور لائیو سٹاک بھی مقامی حکومت کا دائرہ کار ہے۔انسانی ذرائع کی ترقی اور بہتری کے لئے بھی مقامی حکومت کا دائرہ کار ہے۔انسانی ذرائع کی ترقی اور بہتری کے لئے بھی مقامی حکومت پر انحصار بہتر رزلٹ پیدا کرنے کا باعث ہے۔قدرتی آفات کی مینجمنٹ بھی مقامی حکومت کا دائرہ کار تصور ہوتا ہے۔اسی میں شہری دفاع اور آگ بجھانے کی سروس بھی شامل ہے۔ان میں سے بیشتر شعبہ جات پہلے بھی مقامی حکومت کے دائرہ کار میں تسلیم کئے جاتے ہیں۔مگر صوبائی سطح پر بھی یہی کام کرنے سے ڈپلیکیشن ہوتی ہے۔اور لا محالہ صوبہ کا اختیار بالا دستی بن جاتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ مقامی حکومتوں کی محدودیت میں اضافہ کرتا ہے۔ہمارے سبھی کرم فرما یہاں تک اتفاق کرتے ہیں کہ روز مرہ ضروریات زندگی کی مینجنٹ،منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی مقامی حکومتوں کے توسط سے ممکن بنایا جائے۔مگر یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک صوبائی کنٹرول میں ان تمام اداروں اور محکموں کو نیچے منتقل نہ کیا جائے،جو بنیادی ضروریات زندگی کو متبادل سطح پر فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ایسا متبادل منصوبہ بن نظام صرف ایک صوبہ میں نہیں کرر با بلکہ ہر جگہ کار فرما ہے۔ہر جگہ جو کام مقامی حکومت کر رہی ہوتی ہے وہی کام صوبائی محکمہ بھی سر انجام دیتا ہے۔جیسے مثال ہے لاہور شہر کی مقامی حکومت بھی فعال ہے مگر آدھا شہر ایل ڈی اے اور اس کے ذیلی اداروں کے رحم و کرم پر ہے۔جو صوبائی محکمہ بن چکا ہے۔صوبائی حکومتوں کی صورتحال اب ایسی ہو چکی ہے کہ انہوں نے میگا پراجیکٹس قرار دیکر کئی ایسے فنکشن بھی اپنے دائرہ کار میں سنبھال لئے ہیں جو روایتی طور پر میونسپل اداروں کے ذمہ داریاں ہوا کرتے تھے۔لا محالہ وسائل کی مرکوزیت بھی ہوتی ہے۔یا پھر پرائیویٹ سیکٹر کو آوٹ سورس کر دیا گیا ہے۔اور پرائیویٹ سیکٹر کا اشتراک عمل بھی مقامی حکومتوں کے اختیار میں نہیں ہے۔اب ہر صوبہ میں بڑے شہروں میں مقامی حکومتیں نسبتا زیادہ بے اختیار ہیں بہ نسبتا چھوٹے اور پس ماندہ اضلاع کے۔یہ دھرا سسٹم پھر مسائل کو جنم دیتا ہے۔جب مقامی حکومتیں وسائل سے محروم ہوں اور گرانٹ کے لئے صوبہ کی طرف دیکھتی ہوں۔ایک اور اہم بات ہے جتنے بھی خارجی طور پر عالمی اداروں کی امداد سے پراجکیٹ شروع کئے جاتے ہیں،وہ مقامی حکومتوں کے متوازی نئے ادارے بنا کر صوبائی حکومت از خود کرتی ہے۔ایسے حالات میں مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور استحکام محض زبانی کلامی باتیں رہ جاتی ہیں۔ہمارے کئی ایک ساتھی جو اج کل مقامی حکومتوں کے بڑے وکیل ہیں۔وہ بھی اس فریم ورک میں محدود ہو جاتے ہیں۔منتخب حکومتوں کی بحالی نئے انتخابات اور عمومی مطالبے کہ انہیں آئین کے مطابق اختیارات دیں جبکہ ضرورت ہے اس ساری بحث کو منطقی نتیجے پر پہنچانے کے لئے ٹھوس تجاویز سامنے لائی جائیں کہ سسٹم میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں۔اس ساری بحث کے تناظر میں سینٹ میں جناب سبزواری صاحب کا مجوزہ بل ہی ایک ٹھوس پیش رفت ہے۔جس پر سنجیدگی سے بحث کی ضرورت ہے۔مجھے ذاتی طور پر اس سے بنیادی اختلاف ہے۔کیونکہ وہ آئینی ترمیم کا متقاضی تو ہے مگر اس کے نتیجے میں جمہوری وفاق کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو جائے گا۔اختیارات کی منتقلی کے بجائے مرکزیت آئے گی۔اگر انڈین لوکل گورنمنٹ سسٹم کا جائزہ لیں تو واضح ہے کہ وہاں دو درجاتی سسٹم ہے پنچائتی راج،ایک طرح یکساں نوعیت سے پورے ملک میں موجود ہے مگر ساتھ ساتھ یونین اسٹیٹ کے تحت میونسپل ادارے بھی ہیں۔ جن کے بارے آئینی طور پر چند بنیادی اصول آئین وضع کرتا ہے مگر ان کی فعالیت یونین اسٹیٹ کی ذمہ داریاں ہیں اور پھر اصطلاع کے طور پر انڈیا اس طرح کی قومیتوں کا وفاق نہیں ہے۔جس طرح کی وفاق مملکت پاکستان ہے۔ہمارے ہاں تشکیل وطن کی بنیاد ہی مختلف قومیتوں کا اشتراک اور مشترکہ کوششیں تھی۔کیونکہ یہاں صوبائی اسمبلیوں نے نئے وطن سے الحاق کی منظوری دی تھی۔خیبر پختون خواہ میں اسی وجہ سے تو ریفرنڈم کا سہارا لینا پڑتا تھا کہ وہاں مختلف صورتحال بن گئی تھی۔لہذہ ہماری ایک تاریخ ہے جہاں صوبائی خود مختاری ایک اہم فیکٹر ہے۔مقامی حکومتی نظام میں اس کو چیلنج کرنے والی تجاویز ہم آہنگی کی جگہ مزید دوریاں پیدا کر دے گی۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ضلعی حکومتی نظام کی کتنی تعریفیں ہوتی ہیں۔مگر2001تا2010ء تک ہی مجبورا برداشت کیا گیا۔جونہی موقع ملا صوبوں نے واپس اختیار کر لی۔بنیادی وجہ وہی وفاقی فریم ورک ہے۔جو قیام پاکستان سے قبل سے موجود ہے۔کوئی بھی تجویز جو اس وفاقی فریم ورک کو تبدیل کرنے پر مینج ہو گی۔نیا پنڈورا بوکس کھولنے کی ابتدا ہو گی۔سینٹر صاحب کا پرائیویٹ مجوزہ بل اسی بحث کو بڑھاوہ دے گا۔ایک دوسرا متبادل راستہ کیا ہے۔خیبر پختون خوا اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد کی روشنی میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔وہاں اتفاق رائے تو ہوا ہے مگر قرار داد کے محرک حزب اختلاف ہی تھی۔ہمیں نئی آئینی ترامیم تو لانا ہو گی اس کے بغیر مقامی حکومتوں کی بے اختیاری ختم نہیں ہو سکتی۔مگر نئی مجوزہ آئینی ترمیم ایسی نہیں ہونا جاہیے جس سے وفاقی مملکت کا موجودہ فریم ورک تبدیل ہو جائے البتہ آرٹیکل 7 بنیادی اصولوں میں مقامی حکومتوں کے ذکر کو زیادہ جامع بناتے ہوئے اور آرٹیکل140-A میں B-C شامل کر کے لازمی انتخاب اور تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے وہ مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں جو مطلوبہ ہیں مگر اس صورتحال میں صوبائی اختیار قانون ساز مقدم رکھتے ہوئے وہاں ترامیم اور تعلیم کی ضرورت ہے۔تسلسل مقامی حکومتوں کا یقینی بنانا او جامع نمائندگی،صوبہ،مقامی حکومت(Conflict) کو دور کرنا۔مقامی حکومتوں کو وسائل کی یقینی منتقلی بنانا صوبائی فنانس کمیشن کو جمہوری بنیادوں پر تشکیل نو اور فاومولا وضع کرنے پر یقینی زور دیتے ہیں اس ساری قباحتوں سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔اگر صوبائی فنانس کمیشن کا فارمولا عمومی اور افقی دونوں سطح میں معیارات پر نظر ثانی کرے کہ صوبہ کا کنسالیٹیڈ فنڈ میں 25فی صد مخصوص قرار دیا جائے کہ وہ صوبائی فنانس کمیشن کے فارمولا کے تحت مقامی حکومتوں کا دارہ اختیار میں جائے گا اور یہ منتقلی عمومی کے ساتھ ساتھ افقی سطح پر بھی فارمولا کے تحت ہو جس کی بنیاد کسی مقامی حکومت کا مجموعی رینونیو میں شہر،آبادی ضروریات کے تناظر میں مرتب کیا جائے اور اسمبلی منظوری دے تو مقامی حکومتیں با اختیار بنانے کی طرف پیش رفت ہو گی۔اسی طرح مقامی حکومتوں کو فرائض میں اضافہ اور ان کے مابین بھی از سر نو مرتب کرنا ہو گا۔کہ وہاں بھی unjustified ڈویژن ہے۔

جواب دیں

Back to top button