آئے دن بڑے شہروں میں ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں جو انسانی جانوں کا ضیاع کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی شہری زندگی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ صرف قیمتی جاننیں قربان نہیں ہوتیں، بلکہ مالی نقصان کا اندازہ بھی مشکل سے لگایا جاتا ہے اور ایسے پے در پے واقعات اتنی تسلسل سے ہوتے ہیں کہ ہر پرانا واقعہ بھول کر نئے حادثہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور حکمرانوں کے روایتی فتوے میڈیا کی زینت جاتے ہیں۔ جس میں افسوس، ندامت، تعزیتی کلمات یا کبھی کبھار معاوضہ کی آفر کی جاتی ہیں اور کبھی کبھار کوئی تادیبی کاروائیاں بھی نظر آتی ہیں۔لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پیش عملی کرتے ہوئے ایسے حادثات کی روک تھام یا تسلسل سے وقوع پذیر کو روکنے میں کوئی پھرتی دکھائی گئی ہو، زیادہ تر واقعات یا حادثات متعلقہ اداروں کی غفلت یا فوقیت نہ دینے اور معمولی تصور کر کے نظر اندازی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں دو بڑے واقعات ہوئے ہیں دو واقعات ملک کے بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں رونما ہوئے ہیں اور ان میں آتش زدگی اور ترقیاتی مقاصد کے لیے کی گئی کاروائیوں میں احتیاطی تدابیر نہ ہونے کے باعث ہوئے ہیں۔ان دونوں واقعات پر سیاسی بیان بازیاں تو ایک طرف محرکات پر سنجیدہ غور خوضی اندارد ہے۔سارا زور ذمہ داریوں کے تعین اور سزا و جزا کی طرف رہا ہے۔بنیادی اسباب کیا ہیں۔آخر یہ واقعات تواتر سے ہوتے جا رہے ہیں۔اور یہ صرف چند واقعات نہیں جو میڈیا میں نمایاں ہو گئے،روزاانہ عوام کودیگر ایسے ہی لا تعداد حادثات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔جو ہماری جدید نمائشی شہری زندگی میں نظر انداز کر دئیے جاتے ہیں۔آخر کیوں؟ایک بات تو واضح ہے کہ ہمارے ملک بھر میں دیہاتوں میں روز گار کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں اور شہری سہولیات میں کشش بھی بڑھتی ہے اور ضرورت بھی محروم اور نچلے محنت کشوں،غربا کو شہروں کی طرف منتقلی پر مجبور کرتی ہے۔ہمارے ملک میں دیہات کا شہر بننے کا رجحان بہت بلندی کی طرف جا رہا ہے۔روز گار،کاروبار،صحت کی سہولتیں،تعلیم کے مواقع اور تفریح کے مواقع دیہی زندگی میں روز بروز کم اور شہری زندگی میں بڑھ رہے ہیں۔حکومتی پالیسیاں بھی یہی رجحان مضبوط کرتی ہیں۔یہ جو سماجی و معاشرتی تبدیلیاں ہیں ہمارے حکمران ان کو ایڈریس کرنے میں غفلت برتتے ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔فعال،مستعد،متحرک اور با اختیار مقامی حکومتیں انہی موضوعات کو ایڈریس کرتی ہیں،جو روز مرہ کی معاشرت کا احاطہ کرتے ہیں۔یہ گوہر نایاب ہماریاں ندارد ہیں۔نظر انداز کر دیا گیا ہے ہمارے حکمرانوں کا سارا زور اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرنے پر لگا رہتا ہے،گورننس میں بہتری کو اہم قرار نہیں دیا جاتا۔ابھی حالیہ واقعات کے بعد حکومتی اہل کاروں کی پھرتیاں قابل دید ہیں۔کئی ذمہ داروں کو تادیبی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ڈانٹ ڈپٹ تو میڈیا پر بھی چلائی گئی ہے۔خراج تحسین بھی مل رہی ہے اور ملتی جائے گی۔مگر بنیادی اسباب کی طرف نظر ڈالنے کی کوششیں رسمی انداز میں ہی نظر آئیں۔صوبہ کے چیف ایگزیکٹو کی ڈانٹ ڈپٹ تو بجا سزا بھی ملنی چاہیے۔ذمہ داران کو مگر یہ واقعات تسلسل اور بار بار کیوں ہوتے ہیں۔جناب اگر سسٹم میں کچھ کمزوریاں ہوں یا سسٹم پر بوجھ ضروریات سے زیادہ ڈال دیا جائے گا تو سسٹم بیٹھ جائے گا۔مقامی حکومتوں کے حوالہ سے یہی ہو رہا ہے۔پنجاب میں اختیارات کو اوپر اور چند سری انداز میں مرکوز کرنے کا رجحان ہماری گورننس میں غالب ہے۔ایک ادارے کے اوپر دوسرا ادارہ،ایک کمیٹی کے اوپر دوسری کمیٹی اور پہلے سے مصروف انتظامی افسران کے اوپر اضافی ذمہ داریاں ڈالنے کو گڈ گورننس نہیں کہا جا سکتا۔مقامی حکومتیں محض انتظامی سسٹم نہیں ہوتیں،اختیارات کی مرکوزیت کو پھیلانا ہوتی ہیں۔جب فیصلہ سازی میں اور عمل درآمد میں لوکل شہریوں کو شریک کار بنایا جاتا ہے۔ذرا سنجیدگی سے غور کریں ایک فرد کی صلاحیت اور استعداد کار کا اطمینان سے جائزہ لیں کہ وہ کتنے کام اور کتنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ہماری مقامی حکومتیں منتخب سربراہان سے تو محروم ہی رہتی ہیں۔اور انتظامی افسران کو بطور ایڈمنسٹریٹرز اضافی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں۔جو نظم و نسق اور اپنے حلقہ کی معاشرتی زندگی کو منضبط رکھنے کے پابند بھی ہوتے ہیں۔اور ساتھ ساتھ کچھ جوڈیشنل ذمہ داریاں بھی سر انجام دیتے ہیں۔اور پھر متعلقہ مقامی حکومتوں کے ایڈمنسٹریٹرز بھی انہیں بنا دیا جاتا ہے۔اب فرد واحد کے سر پر کئی طرح کی ذمہ داریاں ڈال دیں گے تو کہیں نہ کہیں کمی تو رہ جائے گی،اس کمی کا خمیازہ کئی بھگتیں گے۔مگر جب تک سسٹم درست نہ کیا جائے گا یہ سلسلہ روکے گا نہیں۔بلکہ جوں جوں شہری آبادی میں اضافہ ہو گا۔شہری سسٹم زیادہ پچیدگی کی طرف جائے گا۔اور نئی پچیدگیوں کی بہتر مینجمنٹ اختیارات کی مرکزیت سے حل نہیں ہو سکے گی۔





