*مقامی حکومتوں کو مضبوط اور با اختیار بنانے کے لئے مشترکہ ایڈووکیسی کی ضرورت ہے* تحریر: زاہد اسلام

پاکستان کی حکمرانی میں چار اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ریاست۔عوام۔سیاسی جماعتیں اور قیادت۔ اور سول سوسائٹ ادارے،گروہان سبھی اسٹیک ہولڈرز کا دائرہ کار ایک جمہوری وفاق میں بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔کیونکہ اس میں سبھی کی بھلائی اور فلاح ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ یہ سبھی اسٹیک ہولڈرز نہ تو ایک نکتہ پر اکٹھے ہیں اور نہ ہی ان کے موقف میں یگانگت ہے۔یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں کہ تعجب کیا جائے۔تاریخ میں یہ بات ہر دور میں واضح نظر آئی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں نظریاتی یگانگت یک رخی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ ہر معاشرہ کثیرالفکری ہوتا ہے۔یک رنگی ممکن نہیں ہے۔مگر جب سوال ہو کسی مملکت کی حکمرانی کا تو پھر کسی متفقہ فریم ورک کو وضع کرنا ہوتا ہے بصورت دیگر انارکی اور انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔مختلف تضادات تو ہر وقت ہمیشہ سے ہوتے ہیں مگر ان کے مابین ہم آہنگی بر قرار رکھنا ہی ترقی اور پیش رفت کی سیڑھی ہے۔یہ ہم آہنگی مخالفت کو ختم کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اختلافات کی موجودگی میں اتفاق کی شکل نکالی جاتی ہے۔ملک کا آئین اور قوانین دراصل اسی اتفاق کا بہترین اظہار ہوتا ہے۔اور اگر آئینی اور قانونی ذمہ داریوں اور اقدار کی پاسداری کی جائے تو اختلافات کی بہتر مینجمٹ ہو جاتی ہے۔ہمارے ملک میں اسی مفاہمت کا فقدان ہے مختلف مفادات کا ٹکراؤ اور کشمکش کے منفی اثرات کا سد باب اسی شکل میں کیا جا سکتا ہے۔کہ آپ طے شدہ آئینی اور قانونی فریم ورک کا احترام اور پاسداری کریں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں مختلف اسٹیک ہولڈرز اکٹھے بھی ہوتے ہیں۔مگر اپنے اپنے موقف کا پر چار بھی کرتے رہتے ہیں۔پوری انسانی تاریخ اسی کشمکش سے عبارت ہے۔  مقامی حکومتوں کے حوالے سے ہمارے سبھی اسٹیک ہولڈرز اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں۔ان کا حق ہے وہ اپنی مرضی اور منشا سے سوچیں اور عمل کریں۔مگر ایک بات پر سبھی متفق ہیں کہ مقامی حکومتیں با اختیار اور با وسائل ہونا چاہیں مگر کسی حد تک اس میں اختلاف رائے ہے۔ہر اسٹیک ہولڈر کے پاس حق اور مخالفت میں دلائل اور جواز ہیں۔یہ کشمکش جاری رہے گی۔جب انتخابات ہو جائیں گے ہر جگہ مقامی حکومتیں منتخب بھی ہوں گی۔ تو پھر بھی کشمکش معدوم نہیں ہو گی۔نئے ایشو ابھر کر سامنے آئیں گے۔مفادات کا ٹکراو مقامی حکومتوں کے سکوپ،دائرہ کار اور خدمات کے سوال پر بھی بحث مباحثہ جاری رہے گا۔اور اسی بحث مباحثہ یا مکالمہ یا ڈائیلاگ سے بہتری کی طرف پیش رفت ہو گی۔ارتقا کا یہ بنیادی اصول ہے۔میرا آج کا موقف یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز ایک وسیع اصطلاح ہے۔اس میں لا تعداد گروپ اور حلقے ہوتے ہیں۔ان کی ایک طرح کی کوششوں کو اگر باہم مربوط کیا جائے۔تو کم وسائل اور بہتر منصوبہ بند حکمت عملی سے اکثر و بیشتر بہتر نتائج کا حجم بڑھ جاتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ایک گروپ میں برسرپبیکار گروہ اور سرکل باہم مقابلہ یا مسابقت نہ کریں ضروری اگر کوئی ایک شناخت کے ساتھ جد و جہد کرتا ہے تو اسے دوسرے اپنے جیسے کے با ہم مقابلہ اور مسابقت نہیں کرنا چاہیے۔ضروری مگر کوئی مشترکہ مقصد بھی سامنے لایا جائے۔تو کوششوں کے نتائج بہتر ہوں گے۔مقامی حکومتوں کو با اختیار بنانا اور قانون کے مطابق منتخب نمائندہ مقامی حکومتوں کا قیام ایک بہتر نکتہ اتحاد ہے۔مگر ہمارے ملک میں بات اس سے بڑھ چکی ہے۔تین صوبوں میں منتخب مقامی حکومتوں کے حوالہ سے کئی ایک سوالات ہیں۔اختلاف رائے ہے۔ اور ایک صوبہ میں تو فی الحال انتخابات نہیں ہوئے۔ ان کے انعقاد کا مطالبہ تو ایک ابتدائی نکتہ ہے لیکن ایشو تو اس سے بڑھ کر ہے۔کہ ان انتخابات کے بعد کس طرح کتنی مقامی حکومتیں متحرک اور فعال ہو سکیں گیں۔اس سوال پر اختلاف ہے۔حکومت ایک طرح سوچتی ہے دیگر اسٹیک ہولڈرز منقسم ہیں۔اور اتفاق رائے کے لئے جس بحث مباحثہ اور مکالمہ اور ڈائیلاگ کی ضرورت ہے وہ کمزور ہے۔اور پھر اسٹیک ہولڈرز کے سبھی حلقے با ہم کوششوں میں بھی متحد اور یکجا نہیں ہیں،میڈیا یا ذرائع ابلاغ جو سول سوسائٹی کی موثر آواز بن سکتا ہے۔بہت کمرشل ہو گیا اب بعض میڈیا گروپ اپنا کوئی فورم کریں یا انٹرویو یا اشاعت خاص، تو اس کے لئے حامیوں کو سرمایہ کاری کرنی پڑ تی ہے۔ہمارے ہاں بعض میڈیا گروپ ایسے ہیں وہاں پر جب بھی ایسی کوئی کوشش ہوتی ہے اس میں چند مخصوص چہرے لازمی ایک جیسی باتیں کرتے نظر آتے ہیں کہنے کو فورم ہوتا ہے تو اس میں دوسرے خیالات بھی سامنے آنا چاہیں مگر یہ ندارد ہے۔گزشتہ دو ماہ میں پورے ملک میں مقامی حکومتوں کو باختیار بنانے اور جمہوری روایات اقدار پر استوار کرنے کے حوالہ سے کئی ایک سرگرمیاں ہوتی ہیں۔مگر ہر جگہ ایک جیسی باتیں اور سطح مطالبات کا تکرار بھی نظر آیا،جو غلط تو نہیں تھا مگر آواز کمزور تھی کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا جا سکا۔حکومت اور ان کے ہمراہیوں کو کوئی فرق نہیں پژا۔اگر ان سب کاوشوں میں کوئی مربوط حکمت عملی اختیار کی ہوتی تو یقینا دراڑ پیدا کی جا سکتی تھی۔لہٰذہ اپنی تدابیری لائحہ عمل پر نظر ثانی کریں تو مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔

جواب دیں

Back to top button