پنجاب حکومت نے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں ترامیم کا بل منظور کر لیا،نوٹیفکیشن جاری

حکومتِ پنجاب: پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں اہم ترامیم کے مطابق 1. زبانی انتقال کا اندراج،نئے قانون کے تحت وراثت اور رہن کے علاوہ زبانی انتقالات پر پابندی ہوگی۔ زمین کے لین دین کے معاملات اب صرف رجسٹرڈ دستاویزات سے ہی مکمل ہوں گے۔2. انتقال پر قبضہ کا اندراج،حکومت کے اس اقدام سے اب زمین صرف کاغذ کا ٹکڑا ہی نہیں بلکہ ملکیت کے ساتھ ساتھ یقینی قبضہ بھی ہوگا۔3. ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCMS)

کیسز کی سماعت اب کاغذی فائلوں کے بجائے الیکٹرانک طریقے پر ہوگی۔ سائلین گھر بیٹھے اپنی سماعت کی تفصیلات دیکھ سکیں گے۔4. تقسیم کے مقدمات کی مدت میں کمی،تقسیم کے مقدمات کے فیصلے کی مدت 180 دن سے کم کر کے 60 دن کر دی گئی ہے۔ اگر ریونیو آفیسر 60 دن میں فیصلہ نہیں کرتا تو کیس اسسٹنٹ کمشنر کو منتقل ہو جائے گا۔5. وراثت کی تقسیم،پنجاب بھر میں وارثان اپنے متوفی کی وراثت کو اشتراک کر کے آپس میں تقسیم کر سکتے ہیں۔6. ثالثی کمیٹی کا قیام

تنازعات کے فوری حل کے لیے مقدمات ثالثی کمیٹی کو بھیجے جا سکیں گے۔7. اپیل اور نگرانی دائر کرنے کی مدت،اپیل دائر کرنے کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے اور فیصلہ بھی 30 دن کے اندر کیا جائے گا۔8. مقدمات میں تاخیر کا خاتمہ،کارروائی میں تاخیر کا باعث بننے والے عوامل کو ختم کر دیا گیا ہے اور عبوری احکامات کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکے گی۔

جواب دیں

Back to top button