وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کی صبح شہر کا اچانک دورہ کیا اور کراچی میں جاری متعدد میگا ترقیاتی اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا، جن میں شاہراہِ بھٹو، کورنگی کازوے برج جنکشن، ملیر ندی پر پل، ملیر میں فلائی اوورز، اور بی آر ٹی ریڈ لائن اور گرین لائن کے کوریڈورز شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیراعلیٰ کے خصوصی معاون برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جاری کاموں کا معائنہ کیا اور متعلقہ محکموں اور پراجیکٹ حکام سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبے محض تعمیراتی سرگرمیاں نہیں بلکہ شہر کی معاشی ترقی، ٹریفک میں بہتری اور معیارِ زندگی کے لیے طویل المدتی سرمایہ کاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کراچی کو ایک جدید، مسابقتی اور رہنے کے قابل شہر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ معیار، شفافیت اور مقررہ مدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کورنگی کازوے برج جنکشن (شاہراہِ بھٹو): وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہِ بھٹو کے کورنگی کازوے برج جنکشن منصوبے کا دورہ کیا جہاں انہیں منصوبے کی پیش رفت اور ڈیزائن سے آگاہ کیا گیا۔ 1.89 ارب روپے مالیت کا یہ میگا منصوبہ محکمہ بلدیات سندھ کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے۔ منصوبے میں چار لوپس اور چار سلپ روڈز شامل ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 2.7 کلومیٹر ہے، جبکہ مرکزی سڑک کی لمبائی 741.656 میٹر ہے۔ سلپ روڈز کی مجموعی لمبائی 1,427.160 میٹر ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ منصوبے پر کام یکم اکتوبر 2025 کو شروع ہوا تھا اور اب تک 40 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ندی پر واقع ہونے کی وجہ سے کورنگی کازوے مون سون کے موسم میں اکثر زیرِ آب آ جاتا ہے، جس سے شدید ٹریفک مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہریوں کو طویل المدتی ریلیف ملے گا۔ انہوں نے تعمیر کے دوران حفاظتی انتظامات اور متبادل راستوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جاری کام کے دوران شہریوں کی سہولت کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ کورنگی، قیوم آباد اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک جام میں نمایاں کمی لائے گا اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔ ملیر ندی پر این فائیو پل (مرغی خانہ): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مرغی خانہ کے قریب ملیر ندی پر این فائیو پل کی تعمیر کا بھی معائنہ کیا۔ یہ منصوبہ ترقیاتی پروگرام 25-2025ء کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے۔ 2.9216 ارب روپے لاگت کا یہ منصوبہ 20 مارچ 2025ء کو شروع ہوا اور 20 مارچ 2026ء تک مکمل ہونے کا شیڈول ہے۔ پل کی مجموعی لمبائی 457 میٹر اور کیرج وے کی چوڑائی 15 میٹر ہوگی، جبکہ اس میں ریمپس، سروس روڈز، میڈین، فٹ پاتھ اور جدید پل کا ڈھانچہ شامل ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے انفراسٹرکچر منصوبے کراچی کے ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہیں۔ کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پل خصوصاً ملیر اور اطراف کے علاقوں کے مکینوں کے لیے محفوظ، تیز اور مؤثر سفر کی سہولت فراہم کرے گا۔ خالد بن ولید روڈ فلائی اوور (بھینس کالونی): ملیر کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے ریلوے لائن پر بھینس کالونی میں خالد بن ولید روڈ فلائی اوور کی تعمیر کا جائزہ لیا۔ یہ منصوبہ CLICK فیز ٹو کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اس پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ 682 میٹر طویل اور 20.65 میٹر چوڑا یہ فلائی اوور مہران ہائی وے کو نیشنل ہائی وے (این-5) سے منسلک کرے گا۔ اس میں دونوں اطراف دو دو لینز ہوں گی، ہر لین کی چوڑائی 3.65 میٹر ہوگی۔ منصوبے میں ریمپس، 1,418 میٹر طویل ایٹ گریڈ روڈ، پارکنگ لینز اور فٹ پاتھ بھی شامل ہیں۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 1.6218 ارب روپے ہے۔ مالی پیش رفت 48 فیصد جبکہ فزیکل پیش رفت 58 فیصد ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ تمام 20 اور 50 میٹر کے گرڈرز نصب کیے جا چکے ہیں اور دونوں اطراف ایم ایس ای دیواروں پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ فلائی اوور شہری آمدورفت بہتر بنانے اور کراچی کو مزید قابلِ رہائش شہر بنانے کے ہمارے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔ منصوبے کی تکمیل جنوری 2026ء تک متوقع ہے۔ بی آر ٹی ریڈ لائن: وزیراعلیٰ سندھ نے ملیر کینٹ سے نمائش چورنگی تک بی آر ٹی ریڈ لائن کوریڈور کا معائنہ کیا اور اسے سندھ حکومت کے سب سے اہم اور اسٹریٹجک عوامی ٹرانسپورٹ منصوبوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن کا مقصد کراچی کے شہریوں کو تیز، محفوظ، باعزت اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ روزمرہ سفر میں انقلاب برپا کرے گا۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ریڈ لائن دو لاٹس پر مشتمل ہے۔ لاٹ ون ملیر ہالٹ تا نمائش 9.65 کلومیٹر پر محیط ہے جبکہ لاٹ ٹو کی لمبائی 12.85 کلومیٹر ہے۔ لاٹ ون میں سات جدید بس اسٹیشنز، تین انڈر پاسز، دو فلائی اوورز، دو بس ڈیپوز، نکاسی آب کا نظام، لینڈ اسکیپنگ اور مخصوص بی آر ٹی انفراسٹرکچر شامل ہے۔ لاٹ ون کی مجموعی لاگت 13.79 ارب روپے سے زائد ہے جبکہ مجموعی پیش رفت 36.01 فیصد ہے۔ تاخیر کی وجوہات میں شدید بارشیں، یوٹیلیٹیز کی منتقلی اور ڈیزائن میں تبدیلیاں شامل بتائی گئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں اور شہریوں کو کم سے کم تکلیف ہو۔ مقامی آبادی اور تاجروں کو سہولت دی جائے اور ماحولیاتی و حفاظتی معیار پر سختی سے عمل کیا جائے۔ گرین لائن: وزیراعلیٰ سندھ نے ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن منصوبے کے تحت جاری کام، بشمول بس اسٹاپس، ٹکٹنگ سسٹم اور انڈر پاس سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ ٹرانس کراچی کے سی ای او فواد سومرو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایم اے جناح روڈ کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ گرین لائن پر کام انتہائی تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے، تاہم حفاظت اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔ دورے کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت کراچی کے لیے جدید انفراسٹرکچر فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے صرف سڑکیں، فلائی اوورز یا بس کوریڈورز نہیں بلکہ کراچی کی خوشحالی کی ضمانت ہیں۔ پیپلز پارٹی حکہمت ہر شہری کو بہتر، محفوظ اور تیز سفر کی سہولت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تمام متعلقہ محکموں، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کو ہدایت دی کہ باہمی رابطہ مضبوط بنایا جائے، نگرانی کا نظام بہتر کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی و اسمارٹ مینجمنٹ ٹولز کے ذریعے منصوبوں کو بروقت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔






