وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبہ بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسلسل ویکسینیشن، عوامی آگاہی اور مربوط اقدامات کے ذریعے اس موذی مرض کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ڈیفنس میں گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول خیابانِ شجاعت میں مہم کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بچوں کو خود پولیو کے قطرے پلائے اور بعد ازاں کلاس رومز کا دورہ کرتے ہوئے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین دی۔تقریب میں وزیر تعلیم سردار شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ جاوید عالم اوڈھو، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، انچارج ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) شہریار گل، سینئر پولیس افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔سات روزہ مہم 13 سے 19 اپریل تک جاری رہے گی جس کے دوران سندھ بھر میں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ چھ لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 94 لاکھ بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی دیے جائیں گے تاکہ قوتِ مدافعت بہتر ہو سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 83 ہزار سے زائد تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین دیں گے تاکہ کوئی بچہ رہ نہ جائے جبکہ ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے 24 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں 2,400 سے زائد خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں تک رسائی یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک ہیں جہاں پولیو اب بھی موجود ہے، اس لیے وائرس کے خاتمے کے لیے مسلسل قومی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 2024 میں 74 جبکہ گزشتہ سال 31 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ میں 2025 میں 9 کیسز سامنے آئے اور تقریباً 80 فیصد ماحولیاتی نمونے مثبت آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ 2026 میں نمایاں بہتری آئی ہے، ماحولیاتی مثبت شرح کم ہو کر 24 فیصد رہ گئی ہے اور اب تک صرف ایک کیس ضلع سجاول سے رپورٹ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بچے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ خوش قسمتی سے کوئی معذوری نہیں ہوئی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بار بار ویکسینیشن مہمات بچوں میں قوتِ مدافعت پیدا کرنے اور وائرس کے مستقل خاتمے کے لیے ضروری ہیں، اور پولیو ویکسین محفوظ، مؤثر اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے تصدیق شدہ ہے۔انہوں نے والدین، تعلیمی اداروں، میڈیا، علمائے کرام اور سول سوسائٹی سے مہم کی حمایت کی اپیل کی اور کہا کہ میڈیا آگاہی بڑھانے اور غلط معلومات کے تدارک میں کردار ادا کرے، جبکہ مذہبی و سماجی رہنما ویکسینیشن کی ترغیب دیں۔انہوں نے پولیو ورکرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات میں دور دراز علاقوں تک پہنچ کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ بے نظیر بھٹو نے ماضی میں اپنی صاحبزادی کو پولیو کے قطرے پلا کر ایک مثال قائم کی تھی۔انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ملک کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے اور ہر بچے کو ویکسین کی فراہمی یقینی بنانا اجتماعی ذمہ داری ہے۔
*میڈیا سے گفتگو:*
تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قومی و بین الاقوامی امور پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مؤثر طرز حکمرانی اور سفارتکاری عوامی فلاحی اقدامات سے جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری ملک کو استحکام اور ترقی کی جانب لے جانے میں مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور عسکری قیادت پاکستان کی بہتری کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ سفارتی روابط میں ایران اور امریکہ نے پاکستان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔جو قوتیں پہلے بات کرنے کو تیار نہیں تھیں، اب مذاکرات کی میز پر آئی ہیں، یہ پاکستان کی سفارتکاری کی کامیابی ہے۔انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر کسی سرکاری عہدے کے بھی سفارتی اور عوامی سطح پر فعال ہیں اور مذاکرات میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو لیاری سمیت ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کی ہدایت پر چیف سیکریٹری کو نیسپاک کے ساتھ مل کر جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔سیاسی تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ردعمل دراصل حکومتی کارکردگی کا اعتراف ہوتا ہے۔ اگر ہم کارکردگی نہ دکھاتے تو مخالفین مطمئن ہوتے۔انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے علاقائی صورتحال کے پیش نظر ایوانِ صدر میں اہم اجلاس طلب کیا جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی شرکت کو بھی خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ کسی شہری کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنا بنیادی حقوق کے منافی ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔پولیو کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مہمات کا افتتاح کرتے رہے ہیں اور 2017-18 میں پاکستان میں صفر کیسز آئے تھے، تاہم بعد میں رفتار کم ہوئی جس پر سندھ حکومت نے وفاق کو متوجہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک کو اس مرض سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔





