پنجاب جو کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر گزشتہ پانچ سالوں سے منتخب مقامی حکومتوں سے محروم ہے۔ جبکہ صوبہ بھر میں ترقیاتی کام بہ شمول میونسپل ذمہ داریاں صوبائی حکومت کی براہ راست نگرانی میں جاری ہیں۔ببلکہ مثالی نوعیت کی گورننس کی جا رہی ہے۔ مگر یہ سب کچھ اختیارات کی سینٹر لائزیشن کا مظہر ہے۔ کارکردگی تو بہتر ہے۔ حکومتی نگرانی اور کنٹرول بھی موثر ہے۔اور خدمات کی فراہمی بھی بہتر ہے مگر پھر بھی آئینی اور جمہوری اصولوں اور روایات کے تحت منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی کا عمل بہت مدھم سروں میں جاری ہے۔اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ عوام کو از خود تو احساس ہی نہیں ہے کہ حکمرانی کی بہتر اور جمہوری شکل ان کی اپنی شراکت داری سے مشروط ہوتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ جو عوام کو متحرک کرتے ہیں شعور آگہی بڑھاتے ہیں رائے عامہ استوار کرتے ہیں۔یعنی ذرائع ابلاغ سیاسی جماعتیں،وکلائ،صحافی،اساتذہ،ڈاکٹرز،تاجران،ٹریڈ یونین وغیرہ سماجی تنظیمیں بھی ۔وہ بھی خاموش ہیں۔چند ایک استثنائی مثالیں ہیں جو مسلسل آواز بلند کرتی ہیں کہ پنجاب میں گورننس کی بہتری تبھی ہو گی جب اختیارات اوپر سے نیچے منتقل ہوں گے۔یعنی با اختیار منتخب مقامی حکومتیں فعال اور موثر طور پر متحرک ہونگی۔جو جمہوریت کا تقاضہ بھی ہے اور ہمارے ملکی آئین کے تحت لازمی بھی ہے۔عدالتی احکامات بھی موجود ہیں۔اس ضمن میں چند ایک سماجی تنظیمیں اور گنتی کی چند ایک سیاسی جماعتیں آواز بلند کرتی آ رہی ہیؒ مگر وہ بھی کوئی مشترکہ حکمت عملی نہیں ہے۔چند ایک تو مجوزہ قانون کے تحت کسی قسم کے انتخابی عمل کو ہی شک کی نظر سے دیکھتی ہیں۔یا یکسر رد کرتی چلی آ رہی ہیں۔ان کے خیال میں جب تک ملک کے مجموعی فریم ورک میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی با اختیار مقامی حکومتوں کا قیام ممکن نہیں ہے۔وہ یہ بات بھول جاتے ہیں۔ کہ منتہائے مقصد اور معروضی حقائق میں بس اوقات بہت گیپ(Gap) ہوتا ہے۔ بات تو ان کی درست ہے۔مگر نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔میری گزارش یہ ہے کہ گزشتہ78سالوں سے جس راستہ پر ملک چل رہا ہے اسے آسانی سے اصلاحات کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا۔اور پھر یہ کام سیاسی جماعتوں کا ہوتا ہے۔جو عوام میں قوت انقلاب لاتی ہیں۔اس کا فقدان ہے باقی الوقت فقدان ہے تو زندگی کو آج کیسا گزارہ جائے۔یہ گزشتہ دو سالوں سے وفاقی حکومت صوبائی حکومتیں۔عدالتی و انتظامی بندوبست جاری ہے کیا ہم اس کے اندر کچھ بہتری نہیں لا سکتے۔
ضروری نہیں کہ مکمل بہتری اور اصلاح ہو سکے۔مگر کچھ آسانیاں تو پیدا ہوں گی۔کیا ایسی مقامی حکومتیں ہی برقرار رہنے دی جائیں ۔جن کی سربراہی افراد کے ہاتھوں میں رہے۔جو دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ یہ اضافی بوجھ بھی نبھا رہے ہیں۔میری مراد ہے۔پبلک سرونٹ جو ایڈمنسٹرٹرز ہیں یا ان کی جگہ مقامی افراد میں سے منتخب نمائندوں پر مشتمل کونسلیں فعال ہو جائیںےاگر جواب اثبات میں ہے تو فوری مقصد ایڈمنسٹرٹز کا خاتمہ اور منتخب کونسلوں کی بحالی ہونا چاہیے۔مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوری مقصد ہمارا حتمی مقصد بن جائے۔ہمیں اصلاحات کے لئے اپنی جدوجہد کو لمبے عرصہ کے لئے مناسب حکمت عملی سے جاری رکھنا ہو گا۔دوسرا گروپ ایسا ہے جو موجود معروضی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے فوری ممکنہ اصلاحات کی نشاندہی کرتا آ رہا ہے۔یعنی ان کا متبادل ہے کہ 2025 ءکا قانون جس میں کئی بنیادی سقم ہیں مگر پھر بھی یہ اسمبلی کا منظور کردہ ہے۔نوٹیفائیڈ ہے۔تو اس کا اطلاق تو مکمل کیا جائے ۔اس کے تحت منتخب بے اختیار ہی سہی۔مگر منتخب کونسلوں کو طے شدہ شیڈول کے مطابق فوری تشکیل دیا جائے۔اس طرح 97ہزار کے لگ بھگ منتخب نمائندے بھی اس فریم ورک کا حصہ بن جائیں گے۔تو پھر اختیارات کے لئے آواز زیادہ طاقت پکڑے گی۔اب25مئی کو نئے قانون کے تحت چلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کی اشاعت ہو گی۔جس پر رجسٹرڈ ووٹرز ایک ماہ تک اپنے اعتراضات اٹھا سکتے ہیں۔8 اگست کو نئے قانون کے تحت حلقہ بندی فہرستیں شائع ہو جائیں گے۔تو پھر الیکشن شیڈول کا مرحلہ آئے گا۔اگلے ماہ صوبائی بجٹ متوقع ہے۔اس میں پتہ چل جائے گا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات حکومتی ایجنڈا میں شامل ہیں بھی کہ نہیں اور کیا بجٹ میں مقامی حکومتوں کی گرانٹ(قابل واپسی تقسیم) کتنی رکھی جاتی ہے۔اس وقت ہم سب کو اس پر نظر بھی رکھنا ہے اور آواز بھی بلند کرنا ہے۔کہ صوبائی بجٹ میں یہ دونوں شقیں مناسب انداز میں ایڈریس کی جائیں۔میری گزاشات ہیں کہ کبھی نہیں کرنا چاہیے۔کہ فوری اقصد کو حتمی بنا لیں ۔ہمارا حتمی مقصد اختیارات کی نیچے منتقلی یعنی صوبوں سے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا ہے۔اور پھر ان میں عوام کی براہ راست شراکت داری اور ان کے منتخب مقامی نمائندوں پر مشتمل مقامی کونسلوں کی مکمل اختیارات کے استعمال اختیارات کے ساتھ بحالی اور موثر فنکشنگ کا حصول ہے۔صوبہ کم از اپنے مجموعی ریونیو کا25 فی صد مقامی حکومتوں کے ذریعے استعمال کرے،جبکہ صوبائی ترقیاتی فنڈ (PSDP) کا40فی صد مقامی حکومتوں کے توسط سے منصوبہ سازی کرے۔اور مقامی حکومتیں بھی منتخب افراد پر مشتمل کونسلوں کے ذریعے فنکشنل ہوں۔یہ ہمارا فوری اور حتمی مقاصد کا ایک اہم قدم ہے،جبکہ پورے نظام حکومت اور انداز حکمرانی بھی اصلاح طلب ہے جو ہماری طویل المدت حکمت عملی کا متقاضی ہیں۔






