وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو 300 مائیکرو اسکول قائم کرنے،3لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو اسکول لانے کا ہدف دے دیا

کراچی (8 اگست): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (SEF) کو 300 مائیکرو اسکول قائم کرنے،3لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو اسکول لانے اور 600 سہولت کار خواتین کی خدمات حاصل کرنے کا ہدف دیا ہے اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے 800 ملین روپے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے یہ ہدایات وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایس ای ایف کے بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، ایم ڈی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن(SEF) قاضی کبیر، بورڈ ممبران قیصربنگالی، ڈاکٹر قاضی مسعود، ڈاکٹر محمد میمن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن کے ساتھ ایکسلریٹڈ ڈیجیٹل لرننگ (ADL) پروگرام میں توسیع کی منظوری دی۔اے ڈی ایل فیز II تین سال کے لیے ہوگا۔مراد علی شاہ نےایس ای ایف کے ایم ڈی قاضی کبیر کورواں تعلیمی سال 26-2025 میں 300 ڈیجیٹل مائیکرو اسکول قائم کرکے3 لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو اسکول لانے کا ہدف دیا۔ انہوں نے ایم ڈی ایس ای ایف کو ہدایت کی کہ وہ تدریسی عمل کو سہل بناتے ہوئے 600 سہولت کار خواتین کو اس عمل میں شامل کریں۔ ایم ڈی ایس ای ایف نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ اے ڈی ایل فیز ٹو میں ایک طالب علم پر 2200 روپے کا خرچ آئے گا، جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے ایس ای ایف کے لیے 800 ملین روپے کی منظوری دی۔ ایم ڈی ایس ای ایف قاضی کبیر نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 2734 اسکول، 35 پیپلزا سکول، 223 سینٹرز اور 125 میکرو اسکول میں 10 لاکھ بچے اندراج ہیں جن میں سے 4452 طلبہ کو اسکالرشپ دی جارہی ہے۔ 804 اسکالر شپ ہولڈر پاس آؤٹ ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایس ای ایف کو ہر ضلع تک رسائی بڑھانے کی ہدایت کی۔ اس وقت، چھ ریجن اور 23 اضلاع میں ایس ای ایف کے افسران موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ26-2025 تک ایس ای ایف کو ایک ہزار ڈیجیٹل کلاسز کا آغاز کرنا ہے، ساتھ ساتھ فنی مہارت کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے تاکہ پاس آؤٹ طلبہ آسانی سے روزگار سے منسلک ہوسکیں ۔ وزیر تعلیم سردار شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ چھ سرکاری اسکول جوکہ خستہ حالی کا شکار ہونے کی وجہ سے غیر فعال ہیں ، اب ایس ای ایف کے توسط سے فعال کیے جا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ایس ای ایف فی طالب علم پر ماہانہ 16,000 روپے خرچ کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ایس ای ایف کا سالانہ بجٹ 15955 ملین روپے ہے جوکہ ناکافی ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی کو ہدایت کی کہ وہ ایس ای ایف کےمختص بجٹ کا جائزہ لیں اور کمی کی صورت میں اقدامات تجویز کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ تھرڈ پارٹی سال 22-2021 تا 24-2023 کے ایس ای ایف اکاؤنٹس کا آڈٹ کررہی ہے۔ ایم ڈی ایس ای ایف قاضی کبیر نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ایس ای ایف کا انڈومنٹ فنڈ 2850 ملین روپے ہے، اب تک 1,218.893 ملین روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں جس سے انڈومنٹ فنڈ 4,068.893 ملین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مزید برآں گریجویٹی فنڈ میں سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 52.256 ملین روپے کا منافع ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (پائلٹ) کے ساتھ ایکسلریٹڈ ڈیجیٹل لرننگ پروگرام (اے ڈی ایل پی) کو بورڈ آف گورنرز اور کابینہ نے 2023 میں 710 ملین روپے سے 12,500 لرنر کی منظوری دی گئی تھی۔ 57 مائیکرو اسکولوں نے 9 دیگر اسکولوں کی حمایت حاصل کی جس سے تربیت پانے والوں کی تعداد میں 5700 سے مزید 1000 کا اندراج کیاگیا۔ پائلٹ اپنے کلیدی کارکردگی کو موثر انداز میں پورا کر رہا ہے ۔ایس ای ایف نے کم لاگت پر مشتمل ڈیجیٹل آلات سے گیم پر مبنی تعلیمی ایپس تیار کی ہیں، جو اسکول سے باہر بچوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے گا اور جدید آلات کی مدد سے خواندگی کے معیار کو بلند کرے گا۔ کے آئی پی کے مطابق کم از کم 60 فیصد طلبہ کوقومی دھارے میں شامل کیا جائے گا؛۔

جواب دیں

Back to top button