وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور شہر کے 25 ٹاؤنز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے اور شہر میں صفائی ستھرائی برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بلدیاتی اداروں بشمول یونین کونسلز، ٹاؤنز اور کے ایم سی کو شہریوں کی مؤثرانداز میں خدمت کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بلدیاتی باڈیز تشکیل دی جاچکی ہیں اور اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر عوام اور شہر کو فائدہ پہنچائیں۔اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ناصر شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
پراپرٹی ٹیکس سروے انیشیٹو: جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) پر مبنی گھر گھر پراپرٹی ٹیکس سروے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیربلدیات سعید غنی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ بولیاں موصول ہو چکی ہیں۔ ان بولیوں کا تکنیکی جائزہ مکمل کرنے کے بعد عالمی بینک کو جائزہ کے لیے شیئر کیا گیا ہے۔ منظوری کے بعد اس ماہ کے آخر تک مالیاتی بولیوں کا آغاز کیا جائے گا ، منصوبے کو ستمبر کے دوسرے ہفتے ایوارڈ کیے جانے کے واضح امکانات ہیں۔
صوبائی وزیر ناصر شاہ نے مزید بتایا کہ جی آئی ایس GIS پر مبنی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (MIS)، اربن امو ایبل پراپرٹی ٹیکس (UIPT) سروے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن کے ساتھ عالمی بینک کے پروکیورمنٹ ریگولیشنز کے مطابق بین الاقوامی مسابقتی بولی (ICB) کے عمل کے تحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی منظوری کے ساتھ ہی منصوبہ شروع کیاجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اوربلدیات کے محکموں پر زور دیا کہ پراپرٹی ٹیکس سروے میں تیزی لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی اداروں کے وسائل میں اضافہ شہر کی منصوبہ بندی اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کا جال: وزیر اعلیٰ سندھ نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو ہدایت کی کہ وہ چھ اہم ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے رسمی کارروائیوں میں تیزی لائیں جنہیں پہلے ہی منظوری مل چکی ہے۔ ان منصوبوں میں شاداب فٹ بال گراؤنڈ، بلاک-11، ایف بی ایریا کی بحالی، شادمان ٹاؤن میں پارک اور آئی ٹی سینٹر کی تعمیر، بلدیہ اسٹیڈیم کی بحالی، میمن گوٹھ روڈ کی تعمیر، مختلف یونین کونسلز میں کثیر المقاصد کمیونٹی سینٹرز کی تعمیر اور ملیر میں کمیونٹی سینٹر کی تکمیل شامل ہیں۔ میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا کہ کمیونٹی سینٹر کے دو پراجیکٹس کی منظوری دے دی گئی ہے اور دیگر کے لیے زمین کے حصول کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔
صفائی اور عوامی سہولیات: وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ بلدیات کو کراچی کے 25 ٹاؤنز میں ترقیاتی کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی اور قابل رہائش شہر کراچی(کلک) منصوبے کے تحت ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے 10,430 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ نے گلیوں، سڑکوں اور عوامی مقامات کی دیکھ بھال و صفائی ستھرائی پر زور دیتے ہوئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے شہر کے تمام قصبوں میں اسٹریٹ لائٹس کی فعالی/ انسٹال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات پر لائٹس کا منظم اور محفوظ انتظام ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ پارکس اور عوامی مقامات میں تزئین و آرائش اچھی طرح سے ہو، اسٹریٹ لائٹس روشن ہونی چاہیے جوکہ کراچی کے مکینوں کی فلاح و بہبود اور حفاظت کے لیے ضروری ہے۔






