مخصوص طبقے یا اشرافیہ کو نوازنے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے،وزیر اعلٰی گلگت بلتستان

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبائی وزیر اور سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے دیئے جانے والے بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینا، ان کے مسائل دہلیز پر حل کرنا اور معیاری پبلک سروس ڈیلیوری کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ بجٹ میں کسی مخصوص طبقے یا اشرافیہ کو نوازنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے اور صوبائی وسائل کا استعمال بھی اسی مقصد کے لیے ہوگا۔ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تمام اضلاع میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس (STPs) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہیں، جس کے پیش نظر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہیوی مشینری کی خریداری تجویز کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں بروقت بحالی کا کام شروع کیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے سست روی کا شکار ہونے کی بڑی وجہ تھرو فارورڈکا زیادہ ہونا ہے۔ صوبے میں تعمیر و ترقی کے پہیے کو تیز کرنے کے لیے اس تھرو فارورڈ کو کم کیا جائے گا، جبکہ فرمائشی پروگراموں اور غیر ضروری ریویژنز کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے 15 فیصد کی ڈیمانڈز آئندہ 15 دنوں کے اندرآئی بیڈپر اپ لوڈ کی جائیں۔ 15 دن گزرنے کے بعد کسی بھی محکمے کی ڈیمانڈ پر غور نہیں کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، زرعی شعبے کی ترقی، روڈ انفراسٹرکچر، اور بالخصوص خواتین و نوجوانوں کے لیے خصوصی منصوبے شامل کرنے کی تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیر ترقیات و منصوبہ بندی سید جلال علی شاہ، وزیر مقامی حکومت و دیہی ترقی ذوالفقار علی مراد اور وزیر تعلیم امان علی عامر نے بھی شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button