*ایک سو مثالی دیہات میں بچوں کی سو فیصد برتھ رجسٹریشن یقینی بنانے کے لئے مہم کا آغاز*

محکمہ لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب کے زیر اہتمام بچوں کی برتھ رجسٹریشن کے فروغ کے لیے خصوصی مہم کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ مہم کا انعقاد یونیسف اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے خصوصی تعاون سے کیاگیا۔تقریب میں سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ارشد بیگ، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ بنیش فاطمہ، ڈائریکٹر جنرل نادرا فضا شاہد اور یونیسف کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب میں برتھ رجسٹریشن مہم کے مقاصد، اہداف،طریقہ کار اور فیلڈ میں عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو مہم کی مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ، پیش رفت کی نگرانی اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے خصوصی گائیڈ لائنز بھی جاری کی گئیں۔سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ارشد بیگ نے کہا کہ

کے تحت جنوبی پنجاب کے دیہات کو خصوصی طور پر فوکس کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 100 مثالی دیہات میں بچوں کی پیدائش کا سو فیصد اندراج یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ ہر بچے کو قانونی شناخت اور بنیادی شہری حقوق تک رسائی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ برتھ رجسٹریشن نہ صرف بچے کی قانونی شناخت کے لیے ضروری ہے بلکہ مستقبل میں تعلیم، صحت اور دیگر سرکاری سہولیات کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مقامی رضاکار گھر گھر جا کر والدین کو برتھ رجسٹریشن کی اہمیت، طریقہ کار اور دستیاب سہولیات سے آگاہ کریں گے۔ڈی جی لوکل گورنمنٹ بنیش فاطمہ نے کہا کہ مہم کی کامیابی کے لیے فیلڈ سطح پر مؤثر نگرانی اور بروقت پیش رفت کا جائزہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز مہم کے دوران فیلڈ سرگرمیوں کی نگرانی اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں گے۔ڈی جی نادرا فضا شاہد نے کہا کہ بچوں کی سو فیصد برتھ رجسٹریشن کے ہدف کے حصول کے لیے نادرا کی جانب سے تمام ضروری تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کی سہولت کو مزید آسان بنانے کے لیے کیمپس میں جدید آن سائٹ ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو موقع پر ہی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے گی۔تقریب کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ، نادرا اور یونیسف کے باہمی تعاون سے شروع کی جانے والی مہم کے ذریعے دور دراز دیہی علاقوں میں بچوں کی برتھ رجسٹریشن کی شرح میں بہتری لانے اور والدین میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button