وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران پنجاب کے شہروں کی ترقی کیلئے جاری مختلف پروگرامز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سپیشل سیکرٹریز شاہد زمان لک، سید موسیٰ رضا اور ایڈیشنل سیکرٹری مہرین فہیم عباسی نے بھی شرکت کی جبکہ پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام (پی آئی سی آئی آئی پی) کے سی ای او عمر جاوید نے بریفنگ دی۔اجلاس میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) اور پنجاب سٹیز پروگرام (پی سی پی) پر بھی غور کیا گیا۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ راولپنڈی کے قریب چاہن Chahan اور خان پور ڈیم کے پانی کی فلٹریشن کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ چاہن ڈیم سے روزانہ 12 ملین جبکہ خان پور ڈیم سے 8.6 ملین گیلن صاف پانی فراہم کیا جا سکے گا۔ صوبائی وزیر نے منصوبے کو ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ کی پیکیج ون اور ٹو کے تحت سولرائزیشن بھی کی جائے گی۔ پیکیج ون میں 12 میگاواٹ اور پیکیج ٹو سے 7 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پی آئی سی آئی آئی پی کے تحت 16 شہروں میں سکیموں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے پی آئی سی آئی آئی پی کو نیسپاک کنسلٹنٹ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کے تحت زیر زمین واٹر ٹینکس کی تعمیر کے اچھے نتائج سامنے آئے۔ انشااللہ اگلے مون سون تک ان 16 شہروں میں بھی ٹینکس کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر شہر کی ضرورت سمجھنے کیلئے متعلقہ منتخب نمائندوں سے بھی مشاورت کی جائے۔واضع رہے کہ پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کی کارکردگی دیگر پروگرامز کی نسبت انتہائی مایوس کن ہے۔جس کی وجہ اعلٰی افسران کا آئے روز تبدیل ہونا،فرائض میں غفلت،ناقص پلاننگ،ناتجربہ کار اور نااہل انجینئرز سفارشی افسران کی بھرتیاں،منصوبوں کا مقررہ ڈیڈ لائن پر مکمل نہ ہونا،پوش علاقے میں کرائے پر مہنگا دفتر،شہریوں سے فیڈ بیک میں غفلت، افسران کی فوج ظفر موج،ایشیائی ترقیاتی بینک کو اندھیرے میں رکھنا،ارکان اسمبلی سے کوآرڈینیشن کا فقدان،مانیٹرنگ اور آڈٹ کا کمزور نظام،وزیر بلدیات اورسیکریٹری بلدیات کو اصل صورتحال سے لاعلم رکھنا وغیرہ ہیں۔






