صوبائی وزیر فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمیٰ بٹ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے، غذائی تحفظ یقینی بنانے اور عوام کو معیاری و ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار پر پڑنے والے اثرات غذائی تحفظ کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے جدید اور ماحول دوست زرعی طریقوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سلمیٰ بٹ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پانی کے مؤثر استعمال، ماحول دوست زرعی طریقوں اور پائیدار زرعی پالیسیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ بدلتے ہوئے موسمی حالات میں فصلوں کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ زرعی پیداوار برقرار رکھنے کے ساتھ غذائی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکے۔وزیر فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن نے کہا کہ غذائی تحفظ کا تقاضا ہے کہ خوراک کی دستیابی، معیار، غذائیت اور عوام کی قوتِ خرید پر خصوصی توجہ دی جائے۔ صوبے میں محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے خوراک کی تیاری، ذخیرہ ، ترسیل اور فروخت کے تمام مراحل کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہےاسکے ساتھ ساتھ فوڈ سیفٹی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنا کر ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور عوامی صحت کو نقصان پہنچانے والے عوامل کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔
سلمیٰ بٹ نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں، کسانوں، کاروباری طبقے اور عوام کے درمیان مضبوط تعاون بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ خوراک کے تحفظ کے لیے قوانین پر مؤثر عمل درآمد، نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے جب کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے، پانی کے وسائل کے بہتر استعمال اور ماحول دوست زرعی طریقوں کو فروغ دے کر مستقبل میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں فوڈ سیفٹی اور غذائی تحفظ کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔






