ساہیوال فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کی تعمیر مکمل، نئی جگہ منتقلی رواں ماہ ہوگی:سلمیٰ بٹ

معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے فوڈ سیفٹی سلمیٰ بٹ کی زیر صدارت PAMRA کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری فوڈ سیفٹی ڈاکٹر کرن خورشید، ڈی جی PAMRA ذیشان نصر اللہ سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ساہیوال فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کے ترقیاتی منصوبے، تعمیراتی کام، پلاٹس کی نیلامی اور مارکیٹ کی نئی جگہ منتقلی سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ساہیوال فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کا ترقیاتی منصوبہ فنڈز کی کمی کے باعث 2018 سے تعطل کا شکار تھا۔ معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے فوڈ سیفٹی سلمیٰ بٹ کی خصوصی مداخلت کے بعد 2025 میں مارکیٹ کی ترقیاتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی گئیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ساہیوال فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کی تعمیر و ترقی کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مین پلیٹ فارمز پر شیڈز کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ مین پلیٹ فارمز پر شیڈز کی تعمیر آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں مکمل کر لی جائے گی۔معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے بتایا کہ ساہیوال فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کو رواں ماہ نئی جگہ منتقل کر دیا جائے گا۔ مارکیٹ کی منتقلی کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور ہموار منتقلی پر اتفاق کیا گیا ہے۔سیکرٹری فوڈ سیفٹی ڈاکٹر کرن خورشید نے اجلاس کو بتایا کہ 10 سالہ تعطل کے بعد مارکیٹ کے پلاٹس کی نیلامی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ جولائی، اگست اور ستمبر 2026 کے دوران مارکیٹ کے 55 پلاٹس نیلام کیے گئے، جن سے مجموعی طور پر 89 کروڑ 50 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ نیلام شدہ پلاٹس کی مجموعی رقم میں سے 28 کروڑ 60 لاکھ روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ 60 کروڑ 90 لاکھ روپے تاحال واجب الادا ہیں۔ پلاٹس کی نیلامی کی رقم کا ایک تہائی حصہ 3 روز کے اندر مارکیٹ کمیٹی فنڈ میں جمع کرایا جاتا ہے۔معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب سلمیٰ بٹ نے کہا کہ ساہیوال مارکیٹ کے ترقیاتی منصوبے میں حائل قانونی اور مالی رکاوٹیں دور کرکے منصوبے پر عملی پیش رفت یقینی بنائی گئی ہے۔ مارکیٹ کی تکمیل اور نئی جگہ منتقلی سے تاجروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بہتر کاروباری سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ نئی جگہ پر فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کی منتقلی سے پھلوں اور سبزیوں کی خرید و فروخت کے نظام کو مزید منظم، مؤثر اور بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ تاجروں اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔

جواب دیں

Back to top button